Column

پاکیزگی کا جامع تصور

پاکیزگی کا جامع تصور
شہرِ خواب
صفدر علی حیدری
زندگی محض سانسوں کے اتار چڑھائو کا نام نہیں، نہ ہی یہ صرف وقت کے بے ہنگم بہائو کا دوسرا نام ہے۔ زندگی دراصل ایک شعوری، بامقصد اور معنویت سے لبریز سفر ہے۔ یہ ایسا سفر ہے جس میں انسان اپنے وجود کے اصل مقصد کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہے اور پھر اسی مقصد کو اپنی پوری شخصیت کا مرکز بنا لیتا ہے۔ یوں زندگی محض جینے کا عمل نہیں رہتی بلکہ جینے کا شعور، جینے کا سلیقہ اور جینے کی حکمت بن جاتی ہے۔
انسان کی فکر، اس کے احساسات اور اس کے اعمال ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ انہیں الگ کر کے سمجھنا ممکن نہیں۔ انسان جو سوچتا ہے، وہی اس کے کردار میں ڈھلتا ہے، اور جو اس کا کردار ہوتا ہے وہی اس کی حقیقت بن جاتا ہے۔ اگر انسان اس داخلی وحدت کو نہ سمجھے تو وہ زندگی کو محض ایک وقتی تجربہ سمجھ کر گزار دیتا ہے، حالانکہ زندگی ایک امانت بھی ہے، ایک ذمہ داری بھی اور ایک سخت امتحان بھی۔
اسلام اسی شعوری اور بامقصد زندگی کی طرف انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام انسان کو محض ایک جسمانی وجود نہیں سمجھتا بلکہ اسے روح، عقل، نفس اور جسم کا ایک متوازن اور بامعنی مرکب قرار دیتا ہے۔ یہ چاروں عناصر انسان کی شخصیت کے وہ ستون ہیں جن پر اس کی پوری زندگی کی عمارت قائم ہوتی ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے: ’’ بے شک اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے‘‘۔
یہ آیت محض ایک اخلاقی حکم نہیں بلکہ ایک مکمل فکری اصول ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کی پاکیزگی ہے، نہ کہ اس کی دولت، طاقت یا سماجی حیثیت۔
حضرت علیؓ کا ایک جامع قول انسانی شخصیت کے چار بنیادی پہلوئوں کو واضح کرتا ہے: ’’ جسم پانی سے، نفس آنسوئوں سے، عقل علم سے اور روح محبت سے پاک ہوتی ہے‘‘۔ یہ قول انسان کے پورے وجود کا نقشہ ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آلودگی کہاں پیدا ہوتی ہے اور اس کا علاج کس سطح پر ممکن ہے۔
رسول اکرمؐ نے فرمایا: ’’ صفائی نصف ایمان ہے‘‘ ۔ یہ فرمان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ایمان صرف عقیدہ نہیں بلکہ کردار کی صفائی کا نام ہے۔ جو انسان اپنے ظاہر اور باطن کو پاک نہیں کرتا، اس کا ایمان صرف دعویٰ رہ جاتا ہے۔پانی محض ایک مائع نہیں بلکہ زندگی کی بنیاد ہے۔ یہ طاہر بھی ہے اور مطہر بھی، گویا خود بھی پاک ہے اور پاک کرنے والا بھی۔
قرآن کہتا ہے: ’’ اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کو بنایا‘‘۔
پانی انسان کے جسم کو ہی نہیں بلکہ اس کی ذہنی کیفیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ وضو ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو دن میں کئی بار یاد دلاتا ہے کہ وہ محض مادی وجود نہیں بلکہ ایک شعوری مخلوق ہے۔ غسل انسان کو ایک نئی کیفیت عطا کرتا ہے، جہاں وہ نہ صرف جسمانی میل کچیل سے آزاد ہوتا ہے بلکہ اندرونی بوجھ سے بھی ہلکا محسوس کرتا ہے۔
مولانا رومؒ فرماتے ہیں:
آب و گل دھوئیں اگر پاک و صفا داری تو
زود در آئینہ دل روئے یاراں بینی
( اگر تو اپنے آب و گل ( جسم) کو پاکیزہ رکھے گا تو جلد ہی دل کے آئینے میں دوستوں کا چہرہ دیکھ لے گا )۔
یہ اشعار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ظاہری پاکیزگی باطنی بصیرت کی کنجی ہے۔
نفس انسانی وجود کا وہ مرکز ہے جہاں خواہشات، جذبات اور ارادے جنم لیتے ہیں۔
قرآن مجید نفس کی تین حالتیں بیان کرتا ہے: نفسِ امارہ، نفسِ لوامہ اور نفسِ مطمئنہ۔ یہ دراصل انسان کے اندرونی ارتقاء کے مراحل ہیں۔
نفس کی سب سے بڑی تطہیر ندامت ہے، اور ندامت کا سب سے سچا اظہار آنسو ہیں۔ جب انسان اپنے اندر جھانک کر اپنی غلطیوں پر رو دیتا ہے تو وہ اپنے باطن کی گرد دھو دیتا ہے۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں: ’’ خدا کے خوف سے بہنے والا آنسو دل کو زندہ کر دیتا ہے‘‘۔
مولانا رومؒ اس کیفیت کو یوں بیان کرتے ہیں:
بگریہ کہ دل ز گریہ فروزش گیرد
و آن شعلہ خار و خس ز دل بیرون کَند
( رو پیٹ تاکہ دل رونے سے جلنے لگے، اور وہ شعلہ دل کے کانٹے اور خس ( کوڑا کرکٹ) کو باہر نکال دے )
حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں: ’’ جو آنسو دل کی پاکیزگی کے لیے نہ ہو، وہ محض پانی ہے۔ آنسو اس وقت قیمتی ہوتا ہے جب وہ توبہ کی زمین کو سیراب کرے‘‘۔
یہ آنسو صرف جذبات نہیں بلکہ روحانی صفائی کا ذریعہ ہیں۔ جدید نفسیات بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ آنسو انسان کے ذہنی دبائو کو کم کرتے ہیں اور اس کے اندر توازن پیدا کرتے ہیں۔
عقل انسان کی سب سے بڑی نعمت ہے ، جو اس نے سب سے کم تقسیم کی ہے ۔ یہ نعمت اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب علم سے منور ہو۔ علم انسان کو سوچنے، سمجھنے اور حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
قرآن سوال کرتا ہے: ’’ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘َ
عقل کی آلودگی جہالت، تعصب اور اندھی تقلید سے پیدا ہوتی ہے۔ علم اس آلودگی کو دور کرتا ہے اور انسان کو تحقیق، دلیل اور شعور کی دنیا میں داخل کرتا ہے۔
امام غزالیؒ فرماتے ہیں: ’’ علم وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ بندے کے دل میں ڈالتا ہے، اور یہ نور صرف اتباعِ سنت اور اخلاص سے حاصل ہوتا ہے۔ جہالت اندھیرا ہے اور اندھیرا کبھی منزل تک نہیں پہنچاتا‘‘۔
مولانا رومؒ علم کے بارے میں کہتے ہیں:
علم چوں با دل بپیوندد، بود نورِ خدا
وآنکہ بی دل ماند علمش، ہیچ نبود، ہیچ نبود
( علم جب دل سے جڑ جائے تو خدا کا نور بن جاتا ہے، اور جو بے دل ہو اس کا علم کچھ بھی نہیں، بالکل کچھ بھی نہیں )۔ اسلامی تاریخ میں علم کو ہمیشہ عبادت کا درجہ دیا گیا۔ بیت الحکمت جیسے ادارے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلمان معاشرے نے علم کو روحانی اور فکری ترقی کا ذریعہ بنایا۔
روح انسانی وجود کا سب سے لطیف اور بلند ترین پہلو ہے۔ اس کی غذا محبت ہے، ایسی محبت جو اللہ سے ہو، رسولؐ سے ہو اور انسانیت سے ہو۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: ’’ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا‘‘۔
روح کی آلودگی حسد، کینہ، نفرت اور تکبر سے پیدا ہوتی ہے، جبکہ محبت اسے روشنی اور وسعت عطا کرتی ہے۔ محبت انسان کو خود غرضی سے نکال کر ایثار اور ہمدردی کی دنیا میں لے آتی ہے۔
حضرت بایزید بسطامیؒ نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا: ’’ میں اڑتالیس برس تک جنت کی طرف چلتا رہا، پھر ایک دن مجھے اندازہ ہوا کہ میں الٹا چل رہا تھا، اصل سفر تو دل کی طرف تھا، نہ کہ جنت کی طرف۔ جنت محبت کے راستے میں آتی ہے، راستہ نہیں بنتی۔
حضرت علیؓ کا فرمان ہے: ’’ انسان یا تو تمہارا دینی بھائی ہے یا انسانیت میں تمہارا ہم مثل ہے‘‘۔
یہ تصور انسان کو تنگ نظری سے نکال کر وسیع انسانی شعور عطا کرتا ہے۔
خواجہ فریدؒ سرائیکی زبان میں یہی حقیقت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
روح دی پاکی محبت ہے، دل دا میل کینہ ساڑے
جیڑا جی محبتیں پاک کیتا، اوہ رب دے راہ تاں ناں ہٹے
( روح کی پاکیزگی محبت ہے، دل کا میل ( داغ) کینہ ( بغض) جلاتا ہے۔ جس نے اپنی جان محبت سے پاک کر لی، وہ رب کے راستے سے نہیں ہٹتا )۔
یہ چار عناصر انسانی شخصیت کا مکمل نقشہ پیش کرتے ہیں: عنصر ذریعہ تطہیر آلودگی نتیجہ پاکیزگی
جسم پانی میل کچیل عبادت میں سکون
نفس آنسو ( ندامت) خواہشات کی غلامی گناہ سے نفرت
عقل علم جہالت، تعصب حق کا ادراک
روح محبت حسد، کینہ، تکبر انسانیت سے محبت
جب جسم پاک ہو تو عبادت میں سکون آتا ہے، جب نفس پاک ہو تو گناہ سے نفرت پیدا ہوتی ہے، جب عقل پاک ہو تو حق واضح ہوتا ہے، اور جب روح پاک ہو تو انسانیت سے محبت پیدا ہوتی ہے۔
مولانا رومؒ اس توازن کو یوں سمیٹتے ہیں:
پاک کن خود را ز خویشی ہرچہ زود
تا ببینی در دل خود نورِ بود
( اپنے آپ کو اپنے نفس کی خواہشات سے جتنی جلدی ہو سکے پاک کر دے، تاکہ تو اپنے دل میں وجود کے نور کو دیکھ لے )۔
آج کا انسان مادی ترقی کے باوجود شدید روحانی اضطراب کا شکار ہے، کیونکہ اس نے ظاہر کو سنوارا مگر باطن کو نظر انداز کر دیا۔ اس نے پانی تو استعمال کیا مگر آنسو بہانا بھول گیا، علم تو جمع کیا مگر محبت کھو دی، عمارتیں تو کھڑی کیں مگر دل ویران چھوڑ دئیے۔ یہی عدم توازن اس کی بے چینی کی اصل وجہ ہے۔
اگر یہ چار اصول انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بن جائیں، اگر جسم پانی سے، نفس آنسوئوں سے، عقل علم سے اور روح محبت سے پاک ہو جائے، تو معاشرہ امن، توازن اور محبت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
انسان کی تکمیل اسی لمحے شروع ہوتی ہے جب اس کا جسم پاک، اس کا نفس نادم، اس کی عقل روشن اور اس کی روح محبت سے معمور ہو جاتی ہے۔ پھر وہ صرف انسان نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ پیغام بن جاتا ہے، امن کا پیغام، پاکیزگی کا پیغام اور انسانیت کی فلاح کا پیغام۔
اور یہی حقیقت ہے: صفائی ایمان کا حصہ ہے اور پاکیزہ انسان اللہ کا محبوب ہوتا ہے۔
اے اللہ! ہمارے دلوں، اعمال اور زبانوں کو اپنی محبت کی برف اور اپنی معرفت کے نور سے پاک فرما۔

جواب دیں

Back to top button