
جھنگ : محمد عبدالرحمٰن
جھنگ کے علاقہ تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن کی حدود میں ہونے والے قتل ایشال فاطمہ قتل کیس کے تمام مرکزی ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔
لیکن یہ کیس جتنا سادہ میڈیا دکھانے کی کوشش کر رہا ہے اتنا شاید یہ نہیں ہے ۔
اب تک کی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشال فاطمہ خلیل الرحمان نامی لڑکا فرسٹ ائیر کی طالبہ کو لے گیا ۔
لڑکی کو خلیل الرحمٰن اپنی قریبی دوست حسیب خان نامی شخص کی قریبی عزیزہ کے گھر لے گیا۔
گھر میں امیش جوگی اور حسن کوڑیانہ کو بھی بلایا گیا۔ سب نے مل کر لڑکی کو ڈانسنگ گولیاں اور نشہ آور ادویات دیں۔ بچی کی حالت غیر ہوئی، 2 دن تک ٹیکے لگاتے رہے مگر حالت نہ سنبھلی۔ حالت بگڑنے پر حسن اور امیش لڑکی کو مقامی ہسپتال چھوڑ گئے۔ خلیل گاڑی میں باہر بیٹھا رہا، تھوڑی دیر بعد لڑکی انتقال کر گئی۔ والد کی FIR کے بعد CCD اور پولیس متحرک ہوئی۔
ایس ایچ او تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن ذیشان حیدر سیال نے گاڑی کے ساتھ ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا ہے ۔
اور تمام ملزمان کو گرفتار کر کے ابتدائی تفتیش شروع کر دی گئی۔
لیکن یہاں پر کچھ سوال جنم لیتے ہیں ۔
ایشال فاطمہ اور خلیل الرحمٰن کا تعلق کتنا پرانا تھا ؟
کیا اس ملاقات سے پہلے بھی ان کی ملاقاتیں ہوتی تھیں ؟
اگر ! ایشال فاطمہ ، خلیل الرحمٰن نامی ملزم کی دوست تھی ؟
کیا وہ خلیل الرحمٰن کے ساتھ اپنی رضامندی سے گئی یا اغواء ہوئی ؟
کیا مقتولہ کو ملزمان نے منشیات زور زبردستی سے دینے کی کوشش کی تھی ؟
ملاقات سے قبل ملزم اور مقتولہ کے درمیان موبائل پر ہونے والی گفتگو کیا تھی ؟
میڈیکل رپورٹ کے مطابق کیا مقتولہ کو جنسی زیادتی کا تشدد بنایا گیا ؟
میڈیا پر اغواء کا بیانہ کن شواہدات کی بناء پر بنایا گیا ؟
ملزمان اور مقتولہ کے موبائل فونز سے اب تک ان کے تعلق کے بارے میں کیا چیز جاننے کو ملی ہے ؟
کیا ان ملزمان کا کوئی پرانا کرمینل ریکارڈبھی ہے ؟ آیا کہ یہ ملزمان کیا پہلے بھی کسی کیس میں مطلوب ہیں ؟
اگر ان تمام تر سوالات کے معقول جوابات مل جائیں تو شاید اس ہولناک کیس کی کہانی آئینے کی طرح شفاف ہو سکتی ہے ۔
سوشل میڈیا پر سوشل صارفین کا کہنا ہے کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائی تا کہ مستقبل میں ہر گھر کی بیٹی اور اسکی عزت کو یقنی اور محفوظ بنایا جا سکے ۔







