ColumnImtiaz Aasi

کیا امریکی بالادستی کے خاتمے کا وقت آگیا؟

کیا امریکی بالادستی کے خاتمے کا وقت آگیا؟
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
گو امریکہ اس وقت تک دنیا کی سپر پاور ماننا جاتا تھا جب تک ایران کے ساتھ اس نے جنگ نہیں کی تھی۔ ایران کے ساتھ چالیس روزہ جنگ سے امریکہ کی سپرپاور کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ پھر اوپیک سے متحدہ عرب امارات کی علیحدگی نے امریکہ کے لئے نئے مالیاتی خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔ روس اور ایران تو کئی عشروں سے عالمی پابندیوں کا شکار ہیں تاہم اس کے باوجود وہ دفاعی لحاظ سے کسی سے پیچھے نہیں۔ ایران کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ماضی میں جیتنے ملکوں نے ایران پر حملے کئے انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ گویا اس لحاظ سے ایران کی تاریخ فتوحات سے لبریز ہے۔1979ء اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں بعض حلقوں کی طرف سے پاسداران انقلاب کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا لیکن پہلوی خاندان کے اقتدار سے علیحدہ کئے جانے کے بعد ایران کی اسلامی حکومت نی مزاحمت کاروں کو سر اٹھانے نہیں دیا۔ چنانچہ حالیہ امریکہ ایران جنگ میں امریکہ کو ایران کے مزاحمت کاروں سے جو توقعات وابستہ تھیں بر نہ لا سکیں اور اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ اس مشکل گھڑی میں تمام ایران قوم نے یکجا ہو کر امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کرکے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ جمہوریہ ایران جو پہلوی دور میں غیر اخلاقی حرکات کا مرکز تھا اسلامی انقلاب نے شہنشاہ ایران کے دور میں پروان چڑھنے والی تمام غیر اسلامی حرکات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ امریکہ کو امید تھی ایران پر حملے کے بعد پاسدران انقلاب کے مخالف گروپ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں، لیکن وہ صدر ٹرمپ کی امیدوں کے برعکس امریکہ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، جس سے امریکہ کی ایران کو فتح کرنے کی تمام امیدیں خاک میں مل گئیں۔ اگرچہ جنگ کے خطرات ابھی کم نہیں ہوئے ہیں امریکہ صدر ٹرمپ ہر روز کوئی نہ کوئی اس طرح کا بیان داغ دیتے ہیں جس سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ویت نام جنگ کے بعد امریکہ کی اقتصادی حالت ٹھیک نہیں تھی جس سے امریکہ قرضوں میں ڈوب گیا تھا لیکن سعودی عرب سے تیل کی قیمت ڈالر میں متعین کرنے کے بعد امریکہ کی اقتصادی حالت بتدریج بہتر ہونے لگی۔ سعودی عرب سے تیل کے بدلے دفاعی معاہدے کرنے سے امریکہ کی اقتصادی حالت ٹھیک ہوتی گئی جس کے بدلے میں امریکہ نے سعودی عرب کو خوب اسلحہ اور دیگر دفاعی سامان فروخت کرکے اپنے حالات کو بہتر کر لیا۔ چنانچہ سعودی عرب کی دیکھا دیکھی خلیجی ملکوں نے بھی یہی طریقہ کار اپنایا جس کے بعد 1974ء سے اب تک تیل ڈالروں میں بکنے لگا۔ چنانچہ جیسے ہی امریکہ کی معاشی حالت بہتر ہوئی اس نے دنیا کے بہت سے ملکوں میں اپنے فوجی اڈے قائم کر لئے جن کے اخراجات بھی انہی ملکوں کی ذمہ داری تھی۔ گو امریکہ نے دیگر ملکوں میں فوجی اڈے ان کی حفاظت کے لئے قائم کئے تھے جن اخراجات بھی انہی ملکوں کی ذمہ داری تھی مگر ایران امریکہ جنگ کے دوران امریکی اڈے خلیجی ملکوں کی حفاظت نہیں کر سکے۔ ان حالات میں خلیجی ملکوں نے بھی امریکہ سے کنارہ کشی کے ارادے باندھ لئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 2026 ء میں عالمی سطح پر امریکہ کے ڈالر کا حصہ صرف ستاون فیصد رہ گیا ہے جو گزشتہ نصف صدی کی کم ترین سطح پر ہے۔ پھر اس جنگ میں آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنا اور دوسری کرنسیوں میں تجارت نے عالمی مالیاتی نظام کے لئے نئے مضمرات کھڑے کر دیئے ہیں۔ اس صورت حال نے امریکی ڈالر میں تجارت اور خلیجی ملکوں کے ساتھ امریکہ دفاعی تعلقات کو دبائو میں ڈال دیا ہے۔ خلیج کے بعض ملکوں کو امریکہ اڈوں سے کنارہ کشی اس بات کا واضح ثبوت ہے خلیجی ملکوں کو امریکہ پر بتدریج اعتماد کم ہو رہا ہے۔ سعودی عرب کے ویژن 2030کے تحت دفاعی پیداوار کو سعودی عرب مقامی طور پر حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہے تاکہ امریکہ پر کم سے کم انحصار کیا جائے۔ ایران اور روس جو گزشتہ کئی عشروں سے پابندیوں کا شکار ہیں پہلے ہی ڈالر کی بجائے یوآن ، روبل اور دوسری کرنسیوں میں تجارت کر رہے ہیں۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے اپیک سے علیحدگی اختیار کر لی ہے جس نے امریکی ڈالر کو طاقتور کرنسی بنایا تھا ۔ متحدہ عرب امارات اوپیک کا تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جس نے عالمی سطح پر تیل کے بدلے ڈالر کی بالادستی قائم کی ۔ اگرچہ ابھی تک متحدہ عرب امارات نے ڈالر کو نہیں چھوڑا ہے لیکن اوپیک سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ڈالر کے بدلے دیگر کرنسیوں میں تجارت کرنے کا اختیار تو حاصل کر لیا ہے جو امریکہ کے لئے کسی کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ دراصل امریکہ اسرائیل گریٹر اسرائیل کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کو اس بات کا بالکل ادراک نہیں تھا ایران نے اسلامی انقلاب کے بعد امریکی پابندیوں کے باجود اپنی دفاعی قوت میں حد درجہ اضافہ کیا ہے۔ ظاہر ایران کی اسلامی حکومت کو اس بات کا پوری طرح ادراک تھا امریکی نواز ایران کی پہلوی حکومت کے خاتمے سے انہیں بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مگر قربان جائیں ایرانی قوم پر جس نے اقتصادی پابندیوں کے باوجود اپنے آپ کو زندہ رکھ کر دنیا پر اپنی دھاک بٹھا دی۔ امریکہ صدر کو اس بات کو پوری طرح ادراک ہے ایران کے ساتھ روس اور چین دفاعی لحاظ سے اس کے مددگار ہیں۔ صدر ٹرمپ کا دورہ چین اسی سلسلے کی کڑی ہے وہ چاہتے ہیں چین ایران کی مدد نہ کرے لیکن ایران اور چین دوستی کے بندھن میں باندھے ہوئے ہیں۔ جب کہ روس اور ایران کی دوستی بھی لازوال ہے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ ایران کو وقفے وقفے سے دھمکا رہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ انہیں اپنے ملک کے اندر سے جنگ کے خلاف ردعمل کا سامنا ہے۔ ہم متحدہ عرب امارات کی ڈالر سے تجارت کی بات کر رہے تھے ۔گو متحدہ عرب امارات نے ابھی تک ڈالر کو نہیں چھوڑا ہے لیکن اوپیک سے الگ ہوکر اس نے تیل کے بدلے ڈالر سے علیحدہ ہونے کا اختیا ر تو حاصل کر لیا ہے جو امریکہ کے لئے کسی خطرے سے کم نہیں۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات کے پاس دو ٹریلین ڈالر سے زائد اثاثے موجود ہیں ۔2027ء امارت پانچ ملین بیرل تیل نکال سکے گا جس نہ صرف تیل کی قیمتیں گر جائیں گی اوپیک بھی مارکیٹ کو کنٹرول کرنے سے محروم ہو جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button