ریڈ ربن

ریڈ ربن
تجمل حسین ہاشمی
ککی (Kiki)کو بچپن سے شوق تھا کہ وہ اپنے کام کے ذریعے دوسروں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے گا۔ مقامی لوگ اس پر ہنستے تھے کہ بھلا ایک شخص کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں کیسے تبدیلی لا سکتا ہے؟ مگر ککی اپنی دھن کا پکا تھا۔
کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اس نے یو ایس میرینز جوائن کر لیں، تھک جانے کے بعد پولیس میں شمولیت اختیار کی، اور پھر جلد ہی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی میں آ گیا۔ اس کا خیال تھا کہ امریکہ کی نئی نسل کا مستقبل ڈرگ مافیا کے ہاتھوں خطرے میں ہے۔ اس کی ماں کو خوب علم تھا کہ ڈرگ اسمگلر کتنے خطرناک ہوتے ہیں، بندے کو جان سے مار دیتے ہیں۔ ایک دن ڈیوٹی سے واپس آتے ہی اس کی ماں نے ممتا کا واسطہ دے کر کہا کہ یہ نوکری چھوڑ دو۔ مگر بیٹا اپنے خواب کو پورا کرنے پر تُلا ہوا تھا۔1985ء میں ککی نے اپنی ٹرانسفر میکسیکو کروا لی کیونکہ وہاں ڈرگ کارٹلز سب سے فعال تھے۔ اس نے جلد ہی ایک بہت بڑا سکینڈل پکڑ لیا جس میں فوج، پولیس اور سیاستدان ڈرگ ڈیلروں سے گھٹ جوڑ تھے ۔ 7فروری 1985ء کو وہ اپنی بیوی کے ساتھ لنچ کے لیے نکلا تو پانچ مسلح افراد نے اسے اغوا کر لیا۔ حکومت نے اس کی تلاش کے لیے 500اہلکاروں کی ٹیم تشکیل دی۔ قریباً ایک ماہ بعد اس کی اور ایک مخبر کی تشدد زدہ لاشیں ایک قبر سے ملیں۔
جب ککی کی لاش گھر لائی گئی تو قریبی لوگوں کو احساس ہوا کہ اس نے ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے خود کو قربان کر دیا ہے۔ یہ احساس تیزی سے پھیلا۔ جلد ہی ککی نوجوانوں کا رول ماڈل بن گیا۔ کسی نے تجویز کی کہ ایک ہفتہ منایا جائے، جس دوران سب ریڈ ربن پہنیں اور ککی کے مقصد کو زندہ رکھیں۔ یوں ریڈ ربن ویک شروع ہوا، جو آج بھی امریکہ اور یورپ میں منایا جاتا ہے۔
آج ہمارے ہاں بھی بارڈر پر فوجی جوان، ایف سی، رینجرز اور انسدادِ منشیات کے اہلکار روزانہ بچوں کے مستقبل کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں ۔ مگر افسوس کہ انہی ہیروز کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ اصل طاقتور مافیا محفوظ ہے۔ وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے اسمبلی فلور پر بڑے دعوے کئے ہیں کہ ہمیں بتائیں کہ کہاں منشیات ہیں ہم خود ایکشن کریں گے ، یہ بیانات وقتی ہیں کیوں ماضی میں بھی ایسے بیانات حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔ کامران فیصل، ڈاکٹر رضوان، چودھری اسلم اور کئی دیگر تفتیشی افسر، گواہان میں مقصود چپڑاسی اور کئی صحافی مشکوک حالات میں جاں بحق ہوئے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر کیسز میں فائلز ’’ نا معلوم حملہ آور‘‘ یا ’’ قدرتی موت‘‘ لکھ کر بند کر دی گئی ہیں۔ طاقتور لوگ اپنے جرائم کو نچلی سطح کے افراد پر ڈال کر بچ نکلتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں ’’ بندے برائے فروخت‘‘ کی سیل لگی ہوئی ہے۔
انمول پنکی کیس میں قریباً 859شخصیات کی طرف سے مبینہ طور پر اربوں روپے کی کوکین کی خریداری کا انکشاف ہوا ہے۔ کیا ان افراد کے نام سامنے آئیں گے؟ یا پھر سب ٹھنڈا پڑ جائے گا جیسا کہ پہلے کئی بار ہو چکا ہے؟، میڈیا رپورٹس کے مطابق انمول پنکی پہلے بھی سرکاری رپورٹس میں مطلوبہ تھی۔
اگر ہمارے بڑے واقعی بچوں کے مستقبل کی فکر مند ہیں تو ان 859افراد کے خاندانوں کو بھی ریڈ ربن پہننا چاہیے اور خود احتسابی کرنی چاہیے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر لاکھوں جذباتی پوسٹس تو آتی ہیں، مگر عملی طور پر کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ ہم سب خود کیلئے آسانی چاہتے ہیں، مگر خود تبدیل ہونا نہیں چاہتے ۔ ایسے کیسے نظام تبدیل ہو گی ، ہمارے جتنی بھی پالیسیاں بنائی گئیں وہ سب وقتی ثابت ہوئیں، ان کے ثمرات کہیں نظر نہیں آئے، ملکی سطح پر انصاف کو مضبوط کرنے کیلئے طاقت، دولت اور تفریق کے فرق کو کم کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں ریڈ ربن کی اشد ضرورت ہے۔ ریڈ ربن کی ابتدا اب طاقتور حلقوں سے ہونی چاہئے، اپنے کلیجے کا درد بہت تکلیف دہ ہوتا ہے، اس ملک میں ہزاروں مافیا کام کر رہے ہیں، ان مافیاز کی سرپرستی کے ذمہ داروں سے مقتدر حلقے بخوبی واقف ہیں، انہیں ایکشن لینے کی ضرورت ہے، ریڈ ربن کے بہت کچھ کنٹرول ہو جائے گا۔





