ایوارڈز ضرور دیں مگر؟؟؟؟؟؟

ایوارڈز ضرور دیں مگر؟؟؟؟؟؟
تحریر : عقیل انجم اعوان
حکومتِ پاکستان کی جانب سے حالیہ دنوں مختلف صحافیوں کو ایوارڈز سے نوازا گیا۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند اقدام ہے کیونکہ کسی بھی شعبے میں خدمات انجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ صحافت جیسے مشکل، دبائو سے بھرپور اور مسلسل خطرات میں گھرے پیشے سے وابستہ افراد کو عزت دینا یقیناً ریاست کی ذمہ داری بھی ہے اور اخلاقی تقاضا بھی۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر حکومت کے پاس صحافیوں کو ایوارڈ دینے کا معیار کیا ہے؟ کس بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون صحافت کا حقیقی خدمت گزار ہے اور کون نہیں؟ کون سا ایسا پیمانہ موجود ہے جس کے ذریعے صحافتی خدمات کو جانچا جاتا ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا واقعی ان ایوارڈز کے حق دار وہی لوگ ہوتے ہیں جنہیں اسٹیج پر بلا کر تمغے پہنائے جاتے ہیں؟
پاکستان میں صحافت کی دنیا دو واضح طبقات میں تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ ایک وہ طبقہ ہے جو ٹی وی اسکرینوں پر نظر آتا ہے طاقتور حلقوں کے قریب رہتا ہے حکومتی تقریبات میں اگلی نشستوں پر موجود ہوتا ہے اور ہر دورِ حکومت میں اس کی رسائی اقتدار کے ایوانوں تک قائم رہتی ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو نیوز رومز کے اندر گمنامی کی زندگی گزارتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو دہائیوں تک اخبار کی اشاعت کے لیے اپنی جوانی، صحت اور گھریلو سکون قربان کرتے رہتے ہیں مگر ان کے نام کبھی کسی فہرست میں شامل نہیں ہوتے۔ ان کے لیے نہ کوئی تقریب سجتی ہے اور نہ ہی کسی سرکاری شخصیت کے ہاتھوں ان کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے۔
صحافت صرف وہ نہیں جو ٹی وی اسکرین پر دکھائی دیتی ہے۔ صحافت کی اصل بنیاد وہ لوگ ہیں جو پس منظر میں رہ کر اداروں کو چلانے کا کام کرتے ہیں۔ چیف نیوز ایڈیٹرز، نیوز ایڈیٹرز، سب ایڈیٹرز، پروف ریڈرز، میگزین ایڈیٹرز، فیچر رائٹرز اور رپورٹرز وہ کردار ہیں جن کے بغیر کوئی اخبار یا نیوز ادارہ ایک دن بھی نہیں چل سکتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو راتوں کو جاگ کر صفحات ترتیب دیتے ہیں غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں، خبروں کی تصدیق کرتے ہیں اور محدود تنخواہوں میں اپنی زندگیاں گزار دیتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے تیس، تیس اور چالیس، چالیس برس صحافت کو دیے مگر آج تک کسی حکومت نے ان کے نام تک جاننے کی کوشش نہیں کی۔
حکومتوں کے ایوارڈز پر اعتراض اس لیے نہیں کیا جاتا کہ کسی کو عزت کیوں دی گئی بلکہ اعتراض اس بات پر ہوتا ہے کہ اصل حق دار مسلسل نظر انداز کیوں ہوتے رہے اگر کوئی حکومت واقعی صحافت کی خدمت کا اعتراف کرنا چاہتی ہے تو اسے ان لوگوں تک بھی پہنچنا ہوگا جو کسی بڑے اینکر کے سائے میں دب کر رہ گئے۔ وہ کارکن صحافی جو کم تنخواہ، غیر یقینی ملازمت اور شدید ذہنی دبائو کے باوجود اپنے فرائض انجام دیتے رہے ۔کیا وہ کسی اعزاز کے مستحق نہیں؟
پاکستان میں بدقسمتی سے ایوارڈز کا نظام اکثر پسند اور ناپسند کی بنیاد پر چلتا دکھائی دیتا ہے۔ جو حکومت کے قریب ہو جس کی رسائی طاقتور حلقوں تک ہو جو سرکاری بیانیے کو خوبصورتی سے پیش کرتا ہو، اس کے لیے اعزازات کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ جبکہ وہ صحافی جو سوال اٹھاتے ہیں، مزدور صحافیوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں یا حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں، انہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایوارڈز صحافتی خدمات پر نہیں بلکہ تعلقات، لابنگ اور قربتوں پر دیے جا رہے ہوں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کئی مرتبہ ایسے افراد کو بھی ’’ سینئر صحافی‘‘ قرار دے کر ایوارڈز دے دئیے جاتے ہیں جنہوں نے عملی صحافت میں شاید محدود وقت گزارا ہو مگر ان کے روابط مضبوط ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ایسے صحافی بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اداروں کے لیے وقف کیے رکھی مگر ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا حال پوچھنے والا بھی کوئی نہیں۔ بعض صحافی تو بیماری، مالی مشکلات اور بے روزگاری کے عالم میں دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں مگر ان کی خدمات کے اعتراف کے لیے کبھی کوئی تقریب منعقد نہیں ہوتی۔
اگر حکومت واقعی صحافت کی قدر کرنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے ایوارڈز کے نظام کو شفاف بنانا ہوگا۔ ایک غیر جانبدار کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے جس میں صرف حکومتی نمائندے نہیں بلکہ سینئر کارکن صحافی، اخباری کارکنوں کی تنظیمیں اور میڈیا اسٹڈیز سے وابستہ ماہرین شامل ہوں۔ ہر امیدوار کی صحافتی خدمات، تجربے، پیشہ ورانہ کردار اور شعبے کے لیے قربانیوں کو جانچا جانا چاہیے صرف شہرت کو معیار بنانا صحافت کے ساتھ زیادتی ہے۔
نیوز روم میں کام کرنے والا سب ایڈیٹر شاید کبھی ٹی وی پر نہ آئے مگر وہی شخص خبر کو قابلِ اشاعت بناتا ہے وہی سرخی ترتیب دیتا ہے وہی خبر کی زبان درست کرتا ہے اور وہی ادارے کی ساکھ برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح چیف نیوز ایڈیٹر پورے ادارے کے نظام کو سنبھالتا ہے۔ رپورٹر دن رات دھکے کھا کر معلومات اکٹھی کرتا ہے۔ فوٹو جرنلسٹ خطرات مول لے کر تصاویر بناتا ہے۔ مگر ایوارڈز کی فہرست دیکھ کر لگتا ہے جیسے صحافت صرف چند معروف چہروں کا نام ہو۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں صحافت کو بھی طاقت اور تعلقات کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جس صحافی کی حکمرانوں تک رسائی ہو اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کئی باصلاحیت اور محنتی صحافی خاموشی سے زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں مگر ان کے حصے میں کبھی کوئی اعزاز نہیں آتا ان کی جگہ وہ لوگ نمایاں ہو جاتے ہیں جو اقتدار کے قریب رہنے کا فن جانتے ہیں۔
یہ صورتحال صرف صحافیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ جب حقیقی محنت کرنے والوں کو مسلسل نظر انداز کیا جائے اور صرف تعلقات رکھنے والوں کو نوازا جائے تو اس سے اداروں میں مایوسی بڑھتی ہے۔ نوجوان نسل یہ پیغام لیتی ہے کہ محنت، دیانت اور پیشہ ورانہ قابلیت سے زیادہ اہم تعلقات اور سفارش ہیں یوں میرٹ کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔
کئی سینئر صحافی ایسے ہیں جنہوں نے مارشل لا کے ادوار دیکھے، سنسر شپ برداشت کی، جیلیں کاٹیں، نوکریاں گنوائیں مگر اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا وہ صحافت کو مشن سمجھتے تھے آج اگر حکومت واقعی صحافت کے محسنوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتی ہے تو اسے ان لوگوں کو تلاش کرنا ہوگا جنہوں نے خاموشی سے اپنی زندگیاں اس شعبے کے لیے وقف کر دیں یہ لوگ شاید بڑے ہوٹلوں کی تقریبات میں نظر نہ آئیں مگر صحافت کی بنیاد انہی کے کندھوں پر کھڑی ہے۔
افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ کئی کارکن صحافی ریٹائرمنٹ کے بعد مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں ان کے پاس نہ مناسب پنشن ہوتی ہے اور نہ ہی علاج کی سہولیات۔ اگر حکومت واقعی صحافت کی خدمت کا اعتراف کرنا چاہتی ہے تو صرف تمغے بانٹنے سے بات نہیں بنے گی صحافیوں کے لیے فلاحی فنڈ، ہیلتھ انشورنس، پنشن اسکیم اور تحفظ کے مثر قوانین بھی بنانا ہوں گے۔ اصل عزت وہ ہے جو کسی کی زندگی آسان بنائے نہ کہ صرف ایک تقریب میں تصویر بنوا کر ختم ہو جائے۔
ایوارڈز کا مقصد کسی شعبے میں بہترین کارکردگی کی حوصلہ افزائی ہوتا ہے مگر جب یہی ایوارڈز جانبداری، سفارشی کلچر اور تعلقات کی بنیاد پر تقسیم ہونے لگیں تو ان کی وقعت کم ہو جاتی ہے۔ لوگ پھر یہی کہتے ہیں کہ ’’ انا ونڈے ریوڑیاں مڑ مڑ اپنایا نوں‘‘۔ یہ محاورہ دراصل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ نوازشات ہمیشہ مخصوص حلقوں تک محدود رہتی ہیں جبکہ اصل حق دار محروم رہ جاتے ہیں۔
صحافت ایک مقدس ذمہ داری سمجھی جاتی ہے اس شعبے سے وابستہ افراد ریاست اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں اگر انہی لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی تو پھر صحافت کا وقار کیسے برقرار رہے گا؟ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ صحافت کو صرف چند مشہور ناموں تک محدود نہ سمجھیں بلکہ ان ہزاروں گمنام کارکنوں کو بھی دیکھیں جو پس منظر میں رہ کر اس شعبے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافتی ایوارڈز کے لیے واضح اصول بنائے جائیں ہر شعبے کے لیے الگ کیٹیگری ہو۔ نیوز روم، رپورٹنگ، تحقیقاتی صحافت، فوٹو جرنلزم، میگزین ایڈیٹنگ اور کارکن صحافیوں کے لیے مخصوص اعزازات رکھے جائیں۔ نامزدگی کا عمل کھلا اور شفاف ہو۔ صحافتی تنظیموں سے مشاورت کی جائے اور ہر ایوارڈ کے ساتھ اس کی وجوہات بھی عوام کے سامنے رکھی جائیں تاکہ کسی کو جانبداری کا شائبہ نہ ہو۔
اگر ایسا نہ ہوا تو ہر سال ایوارڈز تقسیم ہوتے رہیں گے، تصاویر بنتی رہیں گی، تقاریر ہوتی رہیں گی مگر نیوز روم میں بیٹھا وہ چیف نیوز ایڈیٹر، جس نے اپنی پوری زندگی سرخیاں درست کرتے گزار دی، دل ہی دل میں یہی سوچتا رہے گا کہ شاید اس ملک میں اصل محنت کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
عقیل انجم اعوان







