زندگی: ایک لمبی دوڑ اور دو رخوں والا سکہ
زندگی: ایک لمبی دوڑ اور دو رخوں والا سکہ
تحریر : صفدر علی حیدری
اگر زندگی کو کسی ایک نام سے تعبیر کیا جائے تو ہم اسے ’’ دوڑ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ ایک لمبی، مسلسل اور تھکن سے بھرپور دوڑ ، ایک میراتھن ریس۔
اور اگر اسے ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو یہ صرف دوڑ نہیں بلکہ ایک اسٹیج بھی ہے، ایک امتحان بھی، اور ایک ایسا کڑا آئینہ بھی ہے جو انسان کو اس کا اصل چہرہ دکھاتا ہے۔
یہ دوڑ عام دوڑ نہیں۔ یہ ایسی دوڑ ہے جس میں آغاز تالیاں بجاتا ہے مگر انجام خاموش ہوتا ہے۔ یہاں ہر قدم صرف زمین پر نہیں پڑتا، بلکہ انسان کے اندر کسی نہ کسی سوال کو جنم دیتا ہے۔ میں کون ہوں؟ میں کہاں جا رہا ہوں؟ اور کیا میں واقعی جیت رہا ہوں یا صرف بھاگ رہا ہوں؟
زندگی کی اس دوڑ میں کچھ لوگ ابتدا ہی میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ان کے حالات کمزور ہوتے ہیں، راستے دشوار ہوتے ہیں، وسائل محدود ہوتے ہیں، اور وقت جیسے ان کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ وہ گرتے ہیں، مٹی سے اٹھتے ہیں، اور پھر چل پڑتے ہیں۔ ان کے قدم شاید سست ہوتے ہیں، مگر ان کے اندر ایک عجیب سی ضد ہوتی ہے، زندہ رہنے کی، ثابت قدم رہنے کی، اور ٹوٹ کر بھی نہ ٹوٹنے کی۔
یہی لوگ اصل میں وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔ کیوں کہ زندگی کی دوڑ میں وہی لوگ آگے نکلتے ہیں جو صرف دوڑتے نہیں، بلکہ ٹوٹنے کے باوجود چلتے رہتے ہیں۔
اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ابتدا میں بہت تیزی سے آگے نکل جاتے ہیں۔ جیسے وہ سو میٹر ریس دوڑ رہے ہوں ۔ ان کے پاس وسائل ہوتے ہیں، سہولتیں ہوتی ہیں، اور دنیا کی داد بھی۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ کامیابی صرف رفتار ہے۔ مگر وقت ان سے ایک چیز ضرور لیتا ہے، توازن۔ اور جب توازن ٹوٹتا ہے تو رفتار خود بوجھ بن جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان سمجھتا ہے کہ دوڑ جیتنا الگ بات ہے، اور دوڑ میں شامل رہنا الگ بات۔
سنگ ریزے کے تحت کبھی لکھا تھا’’ سکون کی تلاش مجھے دن رات بے سکون رکھتی ہے‘‘۔
یہ جملہ دراصل انسان کی پوری نفسیات کا آئینہ ہے۔ وہ سکون چاہتا ہے، مگر اس سکون کی تلاش میں وہ خود کو کھو دیتا ہے۔ وہ جیتنا چاہتا ہے، مگر جیت کے جنون میں وہ اپنی روح ہار دیتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں زندگی ایک خاموش سزا بن جاتی ہے۔
کچھ لوگ زندگی کو کھیل تماشا سمجھ لیتے ہیں اور کبھی سنجیدہ ہی نہیں ہو پاتے ہیں۔ یہی بات میں رنجیدہ نظر آتے ہیں۔ کچھ اسے مفاد کا میدان بنا لیتے ہیں، اور اسے کھیل سمجھ لیتے ہیں، سیاست کا مفاد کا کھیل۔ اور اکثر اس کھیل میں ہار جاتے ہیں۔ وہ ہار پہن کر بھی ہارے ہوئے ہوتے ہیں۔ جیت کی اداکاری کر رہے ہوتے ہیں۔
کچھ اسے صرف ایک دوڑ سمجھ کر اندھا دھند بھاگتے ہیں۔ مگر جو لوگ صرف کھیل سمجھ کر جیتنے نکلتے ہیں، وہ اکثر اپنے اندر کا انسان ہار دیتے ہیں۔ کیوں کہ زندگی کھیل نہیں، یہ ایک اخلاقی امتحان ہے، ایک مسلسل پرکھ ہے۔اور پھر یہی زندگی ایک اسٹیج بن جاتی ہے، جیسا کہ شیکسپیئر نے کہا تھا: ’’ ساری دنیا ایک اسٹیج ہے، اور انسان اس پر کردار ادا کرتا ہے‘‘۔
اس اسٹیج پر کچھ کردار بہت لمبے ہوتے ہیں، کچھ بہت مختصر۔ مگر اصل فرق لمبے اور مختصر کا نہیں، اصل فرق اثر کا ہے۔
کبھی ایک مختصر کردار پوری کہانی کا رخ بدل دیتا ہے، گویا وہ آیا ، اس نے دیکھا اور فتح کر لیا اور کبھی ایک لمبا کردار صرف موجود رہ کر بھی کچھ نہیں بدلتا۔ اسی لیے زندگی میں اصل سوال یہ نہیں کہ تم کتنی دیر رہے، بلکہ یہ ہے کہ تم نے اپنے وقت میں کیا سچ چھوڑا۔
یہاں زندگی ایک اور حقیقت دکھاتی ہے ’’ ایک سکہ‘‘ جس کے دو رخ ہیں۔ ایک رخ وہ ہے جو دنیا کو نظر آتا ہے، شہرت، دولت، کامیابی، تالیاں، اور تعریف۔ اور دوسرا رخ وہ ہے جو اندر چھپا ہوتا ہے، ضمیر، سچ، اصول، اور اخلاق۔
بہت سے لوگ بظاہر جیتے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے نام روشن ہوتے ہیں، ان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے، مگر وہ اندر سے خالی ہوتے ہیں۔ انہوں نے جیت کے نام پر اپنا ضمیر ہار دیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کامیابی کے نام پر انسانیت کو پیچھے چھوڑ دیا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ دراصل جیتے نہیں، وہ صرف دکھاوا کرتے ہیں کہ وہ جیت گئے ہیں۔اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر ہارے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے پاس نہ دولت ہوتی ہے، نہ طاقت، نہ دنیا کی تالیاں۔ مگر وہ ایک چیز نہیں چھوڑتے، اپنا اصول۔ وہ جھوٹ کے ساتھ جیتنے سے بہتر سچ کے ساتھ ہارنا پسند کرتے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو اصل میں اخلاقی طور پر فاتح ہوتے ہیں۔
عشق تو ایسا کھیل ہے جس میں جو ہارا وہ جیت گیا
یہاں ایک سخت مگر سچائی سے بھرا اصول سامنے آتا ہے: جو اپنے اصول بیچ کر جیتے ہیں، وہ دراصل ہار چکے ہوتے ہیں۔ اور جو اپنے اصول بچا کر ہار جاتے ہیں، وہ دراصل جیت چکے ہوتے ہیں۔
یہی زندگی کا سب سے کڑا امتحان ہے۔ کیونکہ دنیا اکثر ظاہری جیت کو سلام کرتی ہے، مگر حقیقت ہمیشہ باطنی سچ کو پہچانتی ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ قسم ہے زمانے کی، بے شک انسان خسارے میں ہے‘‘۔ یہ آیت صرف ایک اعلان نہیں، یہ ایک جھنجھوڑ ہے۔ یہ انسان کو اس کی اصل حقیقت سے ملاتی ہے۔ کہ وقت گزر رہا ہے، اور جو شخص اپنے مقصد، اپنی سچائی اور اپنے اصول کھو دیتا ہے، وہ اصل خسارے میں ہے۔
یہاں زندگی ہمیں ایک اور تلخ سچ سکھاتی ہے، اصل ناکامی وہ نہیں جو نظر آئے، اصل ناکامی وہ ہے جو انسان کے اندر چھپ جائے۔ اور اصل کامیابی وہ نہیں جو تالیاں بجائے، بلکہ وہ ہے جو انسان کے اندر سکون پیدا کرے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: ’’ جس نے سچ کے ساتھ ہار قبول کی، وہ اصل میں جیت گیا‘‘۔
اب اگر انسان اس پوری حقیقت کو دل سے سمجھ لے تو زندگی کا مطلب بدل جاتا ہے۔ وہ دوڑ صرف مقابلہ نہیں رہتی، وہ ایک ذمہ داری بن جاتی ہے۔ وہ اسٹیج صرف اداکاری نہیں رہتا، وہ سچ کا امتحان بن جاتا ہے۔ اور وہ سکہ صرف ظاہری اور باطنی کا فرق نہیں رہتا، بلکہ انسان کی اصل پہچان بن جاتا ہے۔
آخر میں زندگی انسان کو ایک ہی سوال پر لا کھڑا کرتی ہے: کیا تم نے جیتنے کے لیے خود کو کھو دیا؟ یا تم نے خود کو بچانے کے لیے ہار قبول کر لی؟
اور یہی وہ سوال ہے جو ہر انسان کو جھنجھوڑ دیتا ہے، اور جو اس سوال کا سچ کے ساتھ جواب دے دے، وہی اصل فاتح ہے، چاہے دنیا اسے ہارا ہوا ہی کیوں نہ سمجھے۔
آخر میں اپنا ایک افسانچہ پیش کرتا ہوں۔۔۔
اتھلیٹ
وہ ایک اتھلیٹ تھی۔۔۔ ملکی سطح کی اتھلیٹ ۔۔۔
ہر طرف ایک ہی گونج تھی کہ اس کا مستقبل بہت روشن ہے، بہت تابناک ۔۔۔
اس کی رفتار اسے بہت آگے لے جانے والی تھی ۔۔۔
ایک دن وہ بہت تیز بھاگی۔۔۔
اتنا تیز کہ وہ بہت آگے نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور گھر بہت پیچھے رہ گیا۔





