سماعت ۔۔۔ بصارت ۔۔۔ بصیرت
سماعت ۔۔۔ بصارت ۔۔۔ بصیرت
تحریر : صفدر علی حیدری
قرآنِ مجید کی بہت سی آیات ایسی ہیں جو انسان کے وجود، اس کی حقیقت اور اس کی ذمہ داری کو چند الفاظ میں اس طرح بیان کر دیتی ہیں کہ پورا فلسفہ حیات ان کے اندر سمٹ آتا ہے۔
’’ کہہ دیجئے: وہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم کم ہی شکر کرتے ہو‘‘۔
سورۃ ملک کی یہ آیت بھی انہی جامع آیات میں سے ایک ہے۔ بظاہر یہ آیت اللہ تعالیٰ کی چند نعمتوں کا ذکر کرتی ہے، لیکن اگر اس کے الفاظ پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف نعمتوں کا تذکرہ نہیں بلکہ انسان کا محاسبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ آیت کا آغاز تخلیقِ انسان کے ذکر سے ہوتا ہے اور اختتام شکر کی کمی پر ہوتا ہے۔ گویا انسان کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تمہیں پیدا بھی ہم نے کیا، تمہیں سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں بھی ہم نے عطا کیں، مگر افسوس کہ تم ان کا حق ادا نہیں کرتے۔
اس آیت کے بارے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ عموماً اس کا ترجمہ ’’ کان، آنکھیں اور دل‘‘ کے الفاظ سے کیا جاتا ہے، حالانکہ قرآن نے یہاں آذان، اعین اور قلوب کے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ قرآن کہتا ہے: السَّمْعَ وَالَْبْصَارَ وَالَْفْئِدَۃَ۔ السمع سے مراد سماعت کی قوت ہے، الابصار سے مراد بصارت کی صلاحیت ہے اور الافئدۃَ سے مراد فہم، شعور، تدبر اور ادراک کی وہ اندرونی قوت ہے جس کے ذریعے انسان حقائق تک پہنچتا ہے۔
گویا قرآن انسان کے جسمانی اعضاء کا نہیں بلکہ ان اعضاء کے ذریعے حاصل ہونے والی صلاحیتوں کا ذکر کر رہا ہے۔ توجہ عضو پر نہیں بلکہ اس کے مقصد اور استعمال پر مرکوز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کو صرف جسمانی نعمتوں کے بیان کے طور پر سمجھنا اس کے پیغام کو محدود کر دینا ہے۔
اللہ تعالیٰ انسان کو یہ نہیں بتا رہا کہ تمہارے پاس کان ہیں، آنکھیں ہیں اور دل ہے، یہ تو ہر انسان جانتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ تم اپنی سماعت سے کیا سنتے ہو؟ اپنی بصارت سے کیا دیکھتے ہو؟ اور اپنی فکری صلاحیت سے کیا سمجھتے ہو؟ قرآن کا اصل خطاب ان صلاحیتوں کے استعمال سے ہے۔
انسانی زندگی میں سماعت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ بچہ دنیا میں آتے ہی سننا شروع کر دیتا ہے۔ زبان سیکھنے سے لے کر علم حاصل کرنے تک بے شمار مراحل سماعت کے ذریعے طے ہوتے ہیں۔ انبیائے کرامٌ کی دعوت انسانوں تک سماعت ہی کے ذریعے پہنچی۔ آسمانی کتابوں کی تلاوت سماعت ہی کے ذریعے دلوں میں اترتی ہے۔ اذان کی صدا، نصیحت کی آواز، مظلوم کی فریاد، حق کی دعوت اور خیر کی پکار، سب سے پہلے کانوں تک پہنچتی ہے۔ لیکن قرآن کا سوال یہ ہے کہ کیا انسان ان آوازوں پر کان بھی دھرتا ہے؟
کتنے ہی لوگ ہیں جو پوری زندگی حق سنتے رہتے ہیں مگر ان کے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اس پر غور نہیں کرتے۔ وہ نصیحت سنتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے۔ وہ تاریخ کے اسباق سنتے ہیں مگر ان سے سبق نہیں لیتے۔ گویا ان کے پاس سماعت تو موجود ہے لیکن سماعت کا مقصد فوت ہو چکا ہے۔ کان آواز وصول کر رہے ہیں مگر شعور بیدار نہیں ہو رہا۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے قرآن مختلف مقامات پر بیان کرتا ہے کہ ان کے کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بہرے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ حق سننے کے باوجود اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
سننا اور سماعت میں وہی فرق ہے جو دیکھنا اور بصارت میں ہے، ایک جسمانی عمل ہے، دوسرا شعوری انتخاب۔
انسان آنکھوں کے ذریعے ایک وسیع کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے۔ وہ آسمان کی وسعت دیکھتا ہے، سورج کی روشنی دیکھتا ہے، رات کی تاریکی اور ستاروں کی چمک دیکھتا ہے، پہاڑوں کی عظمت اور سمندروں کی گہرائی دیکھتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ وہ ان سب چیزوں سے کیا نتیجہ اخذ کرتا ہے؟ کیا اس کا دیکھنا اسے حقیقت تک پہنچاتا ہے یا محض سطح پر ٹھہرا رہتا ہے؟
آنکھ کا کام صرف مناظر کو محفوظ کرنا نہیں بلکہ انسان کو حقیقت کی طرف رہنمائی کرنا بھی ہے۔ اگر بصارت صرف رنگوں اور شکلوں کی شناخت تک محدود رہ جائے تو اس کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ اسی لیے قرآن بار بار انسان کو دعوت دیتا ہے کہ زمین میں چلو، تاریخ کا مطالعہ کرو، کائنات میں غور کرو اور اپنی ذات پر نظر ڈالو۔ یہ دعوت صرف دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے کے لیے ہے۔
ایک ہی منظر کو دو لوگ دیکھتے ہیں؛ ایک کے لیے وہ محض ایک منظر ہوتا ہے اور دوسرے کے لیے وہ خدا کی قدرت کی نشانی بن جاتا ہے۔ فرق آنکھوں میں نہیں بلکہ نگاہ کے زاویے میں ہوتا ہے، اور یہ زاویہ فؤاد طے کرتا ہے۔
آج کا انسان شاید پہلے سے کہیں زیادہ دیکھتا ہے۔ اس کے سامنے موبائل فون، ٹیلی ویژن، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا ہے۔ وہ ہر روز ہزاروں تصاویر اور مناظر دیکھتا ہے، مگر اس کے باوجود اس کی بصیرت میں اضافہ نہیں ہوتا۔ معلومات بڑھتی جاتی ہیں لیکن حکمت کم ہوتی جاتی ہے۔ دیکھنے کی مقدار بڑھتی ہے مگر دیکھنے کا معیار گھٹتا جاتا ہے۔ آنکھیں جاگ رہی ہیں مگر دل کی آنکھ سو رہی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آیت کا تیسرا لفظ اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے: الافئدۃَ۔
فؤاد محض دل نہیں بلکہ دل کی وہ زندہ اور متحرک کیفیت ہے جس میں غور و فکر، تدبر، فہم اور ادراک پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو انسان کو سننے اور دیکھنے کے بعد نتاءج اخذ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اگر سماعت اور بصارت معلومات فراہم کرتی ہیں تو فؤاد ان معلومات کو معنی عطا کرتا ہے۔ اگر سماعت اور بصارت دروازے ہیں تو فواد وہ چراغ ہے جو منزل کا رخ بتاتا ہے۔
انسان کی اصل عظمت اسی فکری اور شعوری صلاحیت میں ہے۔ جانور بھی سنتے ہیں، جانور بھی دیکھتے ہیں، لیکن انسان کے پاس ایک ایسی قوت ہے جو اسے حق اور باطل، خیر اور شر، نفع اور نقصان کے درمیان فرق کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار سوال کرتا ہے: کیا تم غور نہیں کرتے؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ کیا تم تدبر نہیں کرتے؟ یہ سوالات دراصل انسان کے فؤاد کو بیدار کرنے کے لیے ہیں۔
بدقسمتی سے انسان اپنی اس سب سے بڑی نعمت کو سب سے کم استعمال کرتا ہے۔ وہ دوسروں کے خیالات کو اپنا لیتا ہے مگر خود نہیں سوچتا۔ وہ رسم و رواج کی پیروی کرتا ہے مگر ان کی بنیاد جاننے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ تعصبات کا شکار ہو جاتا ہے مگر ان کا جائزہ نہیں لیتا۔ وہ خواہشات کے پیچھے چلتا ہے مگر ان کے انجام پر غور نہیں کرتا۔ گویا اس کے پاس سوچنے کی صلاحیت تو موجود ہے مگر وہ اسے زنگ آلود پڑی رہنے دیتا ہے۔
تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کا زوال اکثر اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے سوچنا چھوڑ دیا۔
جب تحقیق کی جگہ تقلید نے لے لی، جب تدبر کی بجائے تعصب کو رہنما بنا لیا گیا اور جب عقل پر خواہشاتِ نفسانی کو فوقیت دی گئی، تب ترقی کے دروازے بند ہو گئے۔ جو قوم سوال کرنا چھوڑ دے، وہ آگے بڑھنا بھی چھوڑ دیتی ہے۔ یہی اصول افراد پر بھی لاگو ہوتا ہے: جو شخص اپنی فکری صلاحیت کو معطل کر دے، وہ زندگی کے بڑے حقائق سے محروم رہ جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں آیت کا آخری جملہ اپنی پوری گہرائی کے ساتھ سامنے آتا ہے: ’’ تم بہت کم شکر کرتے ہو‘‘۔یہاں شکر کا مفہوم صرف زبان سے الحمدللہ کہنا نہیں ہے۔ حقیقی شکر نعمت کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کا نام ہے جس کے لیے وہ عطا کی گئی ہو۔ سماعت کا شکر یہ ہے کہ انسان حق بات کو توجہ سے سنے اور اسے قبول کرے۔ بصارت کا شکر یہ ہے کہ وہ کائنات میں پھیلی ہوئی نشانیوں کو دیکھ کر اپنے رب کو پہچانے۔ اور فؤاد کا شکر یہ ہے کہ وہ غور و فکر اور تعقل کے ذریعے زندگی کے مقصد کو سمجھے۔
گویا ناشکری کوئی لفظی کوتاہی نہیں، ناشکری ایک طرزِ زندگی ہے جس میں انسان نعمت کو پا کر بھی اس کے مقصد سے بے خبر رہتا ہے۔
اس ضمن میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا وہ قول یاد آتا ہے، جو صدیوں سے دلوں میں گونج رہا ہے: ’’ عبرت کے مقامات تو بہت ہیں مگر افسوس عبرت حاصل کرنے والے کتنے تھوڑے ہیں‘‘۔ یہ جملہ آیت کی روح کا ترجمان ہے۔ کائنات عبرت کے مناظر سے بھری پڑی ہے، گری ہوئی قومیں، بکھرے ہوئے خواب، ٹوٹے ہوئے غرور، مگر جس آنکھ میں بصیرت نہ ہو، وہ سب کچھ دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھتی۔
آج انسانیت کا بحران وسائل کی کمی کا بحران نہیں، بلکہ سماعت، بصارت اور بصیرت کے غلط استعمال کا بحران ہے۔ لوگ سنتے بہت ہیں مگر حق قبول نہیں کرتے۔ دیکھتے بہت ہیں مگر حقیقت کو نہیں پہچانتے۔ سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر سوچنے کی زحمت نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ علم کے انبار ہونے کے باوجود حکمت ناپید ہے، معلومات کے سمندر ہونے کے باوجود بصیرت کی پیاس باقی ہے۔
اس کیفیت کو علامہ اقبالؒ نے ایک مصرعے میں بند کر دیا ہے: ’’ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے‘‘،
نرگس کا پھول اپنی ساخت میں ایسا ہے کہ اس کی پتیاں اندر کی طرف مڑی ہوتی ہیں، وہ دیکھ نہیں سکتا، دیکھنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود۔ اقبالؒ نے اسے انسانی شعور کی علامت بنایا، وہ شعور جو اپنے اندر ہی مقید رہتا ہے، باہر نہیں نکلتا، نشانیوں کو نہیں پہچانتا، حقیقت تک نہیں پہنچتا۔ ہزاروں سال گزر جاتے ہیں، کائنات کے مناظر بدلتے رہتے ہیں، مگر جب تک فؤاد بیدار نہ ہو، آنکھ ہونے کے باوجود بینائی نہیں آتی۔
یہ آیت ہر دور کے انسان کو آئینہ دکھاتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف زندہ رہنے کے لیے پیدا نہیں کیا بلکہ سننے، دیکھنے اور سمجھنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ ہماری کامیابی کا دارومدار انہی صلاحیتوں کے صحیح استعمال پر ہے۔
جب سماعت حق کی طرف متوجہ ہوگی، بصارت نشانیوں کو پہچانے گی اور فؤاد حقیقت پر غور کرے گا، تب انسان اپنے مقصدِ وجود کو پا لے گا۔ اس لمحے میں نہ کوئی خارجی دلیل درکار ہوگی نہ کوئی بیرونی ثبوت، کیونکہ جب تینوں نعمتیں اپنی اپنی جگہ پر آ جائیں تو حقیقت خود آشکار ہو جاتی ہے۔
انسان کی عظمت اس کے جسم میں نہیں، اس کی سماعت، بصارت اور بصیرت کے صحیح استعمال میں ہے۔ اور جس دن انسان یہ سمجھ لے، اسی دن اس کی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے۔
صفدر علی حیدری





