جنوبی لبنان میں تازہ اسرائیلی حملے: کیا مشرقِ وسطیٰ نئے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے؟

جنوبی لبنان میں تازہ اسرائیلی حملے: کیا مشرقِ وسطیٰ نئے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے؟
تحریر : غلام مصطفیٰ جمالی
جنوبی لبنان ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے تازہ فضائی حملوں اور حزب اللہ کی جوابی سرگرمیوں نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے بلکہ یہ خدشات بھی پیدا کر دئیے ہیں کہ کہیں مشرقِ وسطیٰ ایک نئے اور وسیع تر تصادم کی طرف تو نہیں بڑھ رہا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کشیدگی، عدم اعتماد اور وقتاً فوقتاً ہونے والی فوجی جھڑپوں سے عبارت رہے ہیں، لیکن حالیہ واقعات نے اس تنازعے کو ایک بار پھر عالمی سیاست کے اہم ترین موضوعات میں شامل کر دیا ہے۔
اسرائیل کا موقف ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی عسکری سرگرمیاں اس کی قومی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے سرحدی علاقوں میں اپنے نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنایا ہے اور اس کے پاس ایسے ہتھیار موجود ہیں جو اسرائیل کے مختلف شہروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ خود کو لبنان کے دفاع کی علامت قرار دیتی ہے اور اس کا موقف ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل دھمکیوں اور حملوں کے مقابلے میں مزاحمت ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں فریق اپنے اقدامات کو دفاعی قرار دیتے ہیں جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہر نئی کارروائی کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
جنوبی لبنان میں ہونے والے تازہ حملوں کے بعد ایک بار پھر ہزاروں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ جنگ اور تصادم کا سب سے بڑا نقصان ہمیشہ عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ایسے خاندان جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں، اب ایک نئی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں اور بنیادی سہولیات تک رسائی محدود ہوتی جا رہی ہے۔ لبنان پہلے ہی ایک شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے، ایسے میں سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اس تنازعے کو صرف اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک فوجی کشمکش کے طور پر دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے علاقائی اور بین الاقوامی سیاست کے کئی پہلو بھی موجود ہیں۔ حزب اللہ کو خطے میں ایران کے اہم اتحادی کے طور پر دیکھا جاتا ہے جبکہ اسرائیل ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اپنے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی لبنان میں ہونے والی ہر جھڑپ درحقیقت ایک وسیع تر علاقائی طاقت کی کشمکش کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ ایران، اسرائیل، امریکہ اور مختلف عرب ممالک کے مفادات اس تنازعے کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں جڑے ہوئے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ نے متعدد جنگوں اور بحرانوں کا سامنا کیا ہے۔ شام کی خانہ جنگی، غزہ کی صورتحال، یمن کا بحران اور ایران و اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت نے پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار رکھا ہے۔ جنوبی لبنان میں حالیہ حملوں نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو یہ تنازعہ سرحدی جھڑپوں سے نکل کر ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ایسی کسی بھی جنگ کے اثرات صرف لبنان اور اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
عالمی برادری کی جانب سے بار بار تحمل اور سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق اپنی اپنی پوزیشنوں سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کیے بغیر اس کی سلامتی یقینی نہیں بنائی جا سکتی، جبکہ حزب اللہ سمجھتی ہے کہ مزاحمت ترک کرنا لبنان کو اسرائیلی دبائو کے سامنے کمزور کر دے گا۔ اس باہمی عدم اعتماد نے مذاکرات اور امن کی کوششوں کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
لبنان کی داخلی سیاست بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ملک پہلے ہی سیاسی تقسیم، معاشی بحران اور حکومتی کمزوریوں کا شکار ہے۔ ایسے میں سرحدی کشیدگی نے حکمران طبقے کے لیے مزید مسائل پیدا کر دئیے ہیں۔ لبنان کے مختلف سیاسی حلقوں میں اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ حزب اللہ کا کردار کیا ہونا چاہیے اور ملک کی سلامتی کے معاملات میں اس کی حیثیت کس حد تک ہونی چاہیے۔ یہ اختلافات بعض اوقات داخلی سیاسی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن جاتے ہیں۔
اسرائیل کے اندر بھی سلامتی کے سوالات ہمیشہ سیاسی مباحث کا اہم حصہ رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت پر عوامی دبا موجود ہے کہ وہ سرحدی خطرات کا موثر جواب دے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت اکثر سخت اقدامات کو قومی سلامتی کے تناظر میں پیش کرتی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائیاں مسئلے کا مستقل حل فراہم نہیں کر سکتیں اور ان سے نفرت اور عدم اعتماد میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
جنوبی لبنان کے حالیہ واقعات نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داریوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ برسوں سے مختلف قراردادیں اور امن مشنز اس خطے میں تعینات ہیں، لیکن کشیدگی کے مستقل خاتمے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ تنازعے کی جڑیں صرف سرحدی مسائل تک محدود نہیں بلکہ ان کا تعلق وسیع سیاسی، تاریخی اور نظریاتی اختلافات سے بھی ہے۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو لبنان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات ہمیشہ تنازعات سے بھرپور رہے ہیں۔ 1982ء کی جنگ ہو یا 2006 ء کا بڑا تصادم، دونوں ممالک نے شدید نقصان اٹھایا ہے۔ ان جنگوں نے ہزاروں جانیں لیں، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ اس کے باوجود ایک ایسا پائیدار سیاسی حل سامنے نہیں آ سکا جو مستقبل میں تنازعات کو روک سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نئی کشیدگی پر پرانی جنگوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔
2006 ء کی جنگ خاص طور پر اس لیے اہم سمجھی جاتی ہے کہ اس نے پورے خطے کے تزویراتی توازن کو متاثر کیا۔ اس جنگ کے بعد حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں اور تنظیمی ڈھانچے پر دنیا بھر میں بحث ہوئی۔ اسرائیل نے اس جنگ سے کئی سبق سیکھے جبکہ حزب اللہ نے بھی اپنی حکمت عملی میں تبدیلیاں کیں۔ آج جب جنوبی لبنان میں دوبارہ کشیدگی بڑھ رہی ہے تو ماہرین 2006ء کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
معاشی نقطہ نظر سے بھی یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ لبنان کی معیشت پہلے ہی شدید دبائو میں ہے۔ کرنسی کی قدر میں کمی، مہنگائی، بے روزگاری اور مالیاتی بحران نے عوام کی زندگیوں کو مشکل بنا دیا ہے۔ جنگی خطرات سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کو مزید متاثر کرتے ہیں۔ سیاحت، جو لبنان کی معیشت کا ایک اہم شعبہ سمجھی جاتی تھی، مسلسل غیر یقینی صورتحال کے باعث شدید نقصان اٹھا رہی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل بھی مسلسل سکیورٹی اخراجات کے باعث مالی دبا کا سامنا کرتا ہے۔ اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو دونوں ممالک کو مزید معاشی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے حالات کا عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔ جب بھی خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتوں اور عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور عالمی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اس تنازعے کو صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی استحکام کے لیے ایک اہم چیلنج سمجھتی ہیں۔
آج کے دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اطلاعات، میڈیا اور سوشل میڈیا بھی اس کا اہم محاذ بن چکے ہیں۔ اسرائیل اور حزب اللہ دونوں اپنی اپنی بیانیہ سازی میں مصروف ہیں۔ ہر فریق عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تصاویر، ویڈیوز، بیانات اور اطلاعاتی مہمات کے ذریعے جنگ کا ایک نفسیاتی اور ابلاغی پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ اس صورتحال میں عام لوگوں کے لیے درست معلومات تک رسائی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔
لبنان کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانے پر مجبور ہو رہی ہے۔ معاشی مشکلات اور مسلسل عدم استحکام نے نئی نسل کے خوابوں کو متاثر کیا ہے۔ جنوبی لبنان میں کشیدگی کے تازہ واقعات نے اس مایوسی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ایک ایسا ملک جو کبھی مشرقِ وسطیٰ کا ثقافتی اور تعلیمی مرکز سمجھا جاتا تھا، آج مختلف بحرانوں سے نبرد آزما ہے۔
علاقائی سطح پر عرب ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بہت سے ممالک نہیں چاہتے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہو کیونکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر پڑ سکتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں کئی عرب ریاستوں نے معاشی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی ہے۔ ایک بڑی جنگ ان تمام کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
امریکہ اس تنازعے میں ایک اہم کردار رکھتا ہے۔ اسرائیل کا قریبی اتحادی ہونے کے ناطے واشنگٹن خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایسا بحران پیدا ہو جو وسیع پیمانے پر عدم استحکام کا باعث بنے۔ اسی لیے امریکی سفارت کاری اکثر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے، اگرچہ اس کے نتائج ہمیشہ توقعات کے مطابق نہیں ہوتے۔
یورپی ممالک کے لیے بھی لبنان کی صورتحال خاص اہمیت رکھتی ہے۔ لبنان میں عدم استحکام کے نتیجے میں ہجرت کے نئی بحران جنم لے سکتے ہیں، جس کے اثرات یورپ تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے یورپی یونین لبنان کی معاشی بحالی اور سیاسی استحکام کے لیے مختلف پروگراموں کی حمایت کرتی رہی ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان موجودہ کشیدگی یہ ثابت کرتی ہے کہ فوجی طاقت کے باوجود سیاسی مسائل کا مستقل حل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں وقتی نتائج تو پیدا کر سکتی ہیں لیکن دیرپا امن کے لیے سیاسی مفاہمت، مذاکرات اور اعتماد سازی ضروری ہوتی ہے۔ جب تک بنیادی تنازعات کو حل نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ہر جنگ کے بعد ایک نئی جنگ کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
جنوبی لبنان میں آج جو صورتحال پیدا ہو چکی ہے، وہ صرف ایک سرحدی تنازع نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل سے جڑا ہوا سوال ہے۔ اگر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو اس کے اثرات لبنان، اسرائیل، فلسطین، شام اور دیگر ممالک تک پھیل سکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ خطے میں نسبتاً استحکام کا راستہ بھی ہموار کر سکتی ہیں۔
دنیا اس وقت مختلف جنگوں، معاشی بحرانوں اور سیاسی تنازعات کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں جنوبی لبنان کی صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک اور امتحان بن چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اس بحران کو پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہوں گی یا ایک بار پھر دنیا ایک ایسے تنازعے کا مشاہدہ کرے گی جس کی قیمت عام شہریوں کو اپنی جانوں، گھروں اور مستقبل کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔
آج جنوبی لبنان میں گونجنے والے دھماکے صرف ایک سرحدی تنازعے کی آواز نہیں بلکہ اس وسیع تر بحران کی علامت ہیں جو برسوں سے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اگلا حملہ کب ہوگا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطے کے رہنما، عالمی طاقتیں اور متعلقہ فریق اس تباہ کن سلسلے کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے یا نہیں۔ اگر ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا گیا تو جنوبی لبنان کے حالیہ واقعات ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔ امن، استحکام اور ترقی کا راستہ جنگ کے میدانوں سے نہیں بلکہ مذاکرات، تحمل اور باہمی احترام سے ہو کر گزرتا ہے، اور یہی وہ سبق ہے جسے نظر انداز کرنے کی قیمت پورا خطہ بار بار ادا کرتا رہا ہے۔
غلام مصطفیٰ جمالی





