جمہوریت کی نئی کرن

جمہوریت کی نئی کرن
تحریر : تجمّل حسین ہاشمی
قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان کو مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ بانی پاکستان محمد علی جناحؒ نے میر لائق علی سے رابطہ کیا اور میر لائق علی کے کہنے پر نظام عثمان علی خان نے حکومت کو 20کروڑ روپے دئیے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے سرکاری ملازمین کو پہلی تنخواہ دی گئی۔ ہمارے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان میر لائق علی خان کو بہت پسند کرتے تھے، انہیں نے میر صاحب کو امریکا بھیجا تاکہ وہ امریکا کو پاکستان کی اہمیت سمجھائیں اور امریکا سے امداد حاصل کر سکیں۔ لائق علی خان وہاں دو ماہ تک امریکی صدر سے ملاقات کا وقت مانگتے رہے لیکن وہ ناکام رہے۔ یوں وہ واپس آ گئے۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ان سے پوچھا کہ ’’ کیا امداد ملی ‘‘، میر صاحب نے نفی میں سر ہلا دیا۔ وزیر اعظم نے کہا پھر دورہ کیسے کامیاب رہا۔ میر صاحب نے فورا صبح کا اخبار ان کی سامنے رکھ دیا، جس میں لکھا تھا کہ میر لائق علی خان کامیاب دورے کے بعد کراچی لوٹ آئے۔ وزیر اعظم سیدھے ہوئے تو میر صاحب نے کہا اگر اخبار میرے دورے کو کامیاب قرار دے رہا ہے تو آپ کو کیا اعتراض ہے۔ ( کتاب ’’ کل تک‘‘ سے لیا گیا اقتباس )۔
ہماری تاریخ میں زیادہ فیصد غیر ملکی جمہوری دورے ناکام رہے ہیں، لیکن ہمارے ہاں عوام کے سامنے ان کو بھی کامیاب پیش کیا گیا۔ ہم لوگ تسلیم کریں یا نہ کریں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان امریکا کا اتحادی ہے اور امریکا نے ہمارے اوپر سب سے زیادہ پابندیاں لگائی ہیں۔ ہنری کسنجر امریکا کے مشہور سیاست دانش مانے جاتے ہیں، انہوں نے ایک بار کہا ’’ اگر آپ امریکا کے دشمن ہیں تو آپ کے بچنے کے چانس ہیں اور اگر آپ بد قسمتی سے ایک بار امریکا کے دوست بن گئے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت امریکا سے آپ کو نہیں بچا سکتی‘‘۔ پاکستان نے امریکا سے کئی گنا نقصان اٹھایا ہے، سب سے زیادہ جانی نقصان، جس کی تلافی نہیں ہے۔
لیاقت علی خان ، جنرل ایوب خان ، صدر ایوب خان ، جنرل ضیائ، جنرل مشرف، شوکت عزیز، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، یوسف رضا گیلانی کے غیر ملکی دوروں کی حقیقتیں سب عیاں ہیں، پاکستان کے واحد لیڈر ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے امریکا کو خود چھوڑا ۔ انہوں نے چین کی طرف رخ موڑ کر ملک کی سلامتی کو مقدم رکھا، ماضی کے 70سالوں میں پاکستان نے دنیا کے ساتھ اپنی ترجیحات کو نہیں بدلا اور اسلامی اور غیر اسلامی ریاستوں کی ترجیحات کو اپنی عوامی ترجیحات پر عزت دی، لیکن اس بار حکومت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کو نئی سمت دی اور دنیا کو نیا میسج دیا کہ اب پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، بلکہ دنیا کے ساتھ کاروبار کرے گا ۔ انڈیا ہر بار پاکستان کی خاموشی کو کمزوری سمجھ کر شور شرابہ کرتا رہا، اس بار ہمارے سلامتی اداروں نے چار دن کی جنگ میں انڈیا کو بھاری نقصان دیا اور اس حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں، صدر ٹرمپ جنگ رکوا کر فخر محسوس کرتے رہے۔ سیاسی و عسکری قیادت نے اپنے متحرک فیصلوں سے دنیا کو کاروبار کیلئے آمادہ کیا ہے، اس بار کشکول نہیں کاروبار کو ترجیح دی ہے۔ جس کی مثال اکتوبر 2024ء میں شروع ہونے والا سفر ہے، جب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے حوالے سے 34مفاہمتی یادداشتوں (MoUs)پر دستخط کئے گئے، جن کی مجموعی مالیت قریباً 2.8ارب ڈالر بتائی گئی۔ سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح نے 30اکتوبر 2024ء کو بتایا کہ ابتدائی طور پر 27مفاہمتی یادداشتیں 2.2ارب ڈالر کی تھیں، جو بعد میں بڑھ کر 34اور 2.8ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ دسمبر 2024ء تک ان 34مفاہمتی یادداشتوں میں سے 7 کو باقاعدہ معاہدوں میں تبدیل ؍ عملی شکل دی جا چکی تھی، جن کی مجموعی مالیت قریباً 560ملین ڈالر تھی۔ 2025 ء اور 2026ء کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، زراعت، ٹیکنالوجی، تعلیم، صنعت اور دیگر شعبوں میں متعدد معاہدوں، پروٹوکولز اور مفاہمتی یادداشتوں پر پیشرفت ہوئی۔ یہ کسی ایک معاہدے کا نام نہیں بلکہ مختلف شعبوں میں تعاون کا مجموعہ ہے۔ خصوصاً مئی 2026ء میں دونوں ممالک کے درمیان متعدد معاہدوں، MoUsاور تعاون کی دستاویزات کا تبادلہ ہوا، جبکہ ہانگژو میں ہونے والی B2Bکانفرنس میں 207مفاہمتی یادداشتیں، قریباً 7.54ارب ڈالر مالیت کے کاروباری تعاون کے ساتھ رپورٹ ہیں۔31جولائی 2025ء کو پاکستان اور امریکا نے ایک تجارتی معاہدہ طے کیا، جس کا مقصد دوطرفہ تجارت بڑھانا، مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور باہمی اقتصادی تعاون کو وسعت دینا تھا۔ معاہدے میں پاکستانی برآمدات پر عائد باہمی محصولات میں کمی اور توانائی، معدنیات و کان کنی، آئی ٹی، کرپٹو کرنسی اور دیگر شعبوں میں تعاون و سرمایہ کاری پر بھی زور دیا ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 17ستمبر 2025کو ریاض میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان نے Strategic Mutual Defense Agreementدستخط کیا۔ معاہدے کے مطابق ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کا مقصد دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ 7اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے Makkah Joint Defence Agreementپر دستخط کیے۔ اس معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 9اگست کو واضح کیا کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
کاروباری اور دفاہی معاہدوں نے ملکی معیشت کی سمت بدل دی ہے، پوری دنیا کا نظام اس وقت ہل چکا ہے، ریاستوں کو اپنی سلامتی کی فکر لاحق ہو چکی ہے، چاروں سمت جنگی جنون کے بادل ہیں، کمزور اکانومی کے ساتھ نئے محاذ کھل چکے ہیں، ماضی کے تمام فیصلے ایک طرف اب کی درپیش صورت ان فیصلوں سے بہت مختلف ہے، ہر قدم پر احتیاط لازم ہے، ہماری قیادت کی طرف سے لئے جانے والے فیصلوں میں نئی نسل کا مستقبل مضبوط اور روشن نظر آتا ہے۔ حالیہ بیانات پر فی الحال ورکنگ روکتی ہوئی نظر آتی ہے، لیکن یہ بات اٹل ہے کہ ملک میں صوبے ضرور بنیں گے، اور ایک ایسے نظام کو ضرورت ہے، جہاں فوری عوامی فیصلے ہوں گے، اس طرح کی فیصلہ سازی میں جماعتوں کا دل نہیں لیکن میں یقین کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ آنے والے حالات کے لیے یہ فیصلے انتہائی ضروری ہیں۔





