گلگت بلتستان میں ایک نئے عہد کا آغاز

گلگت بلتستان میں ایک نئے عہد کا آغاز
تحریر : مرزا رضوان
گلگت بلتستان کی بلند و بالا چوٹیوں کے دامن میں حال ہی میں جو انتخابی عمل مکمل ہوا، وہ محض ایک سیاسی مشق نہیں تھی، بلکہ یہ خطے کے لاکھوں باسیوں کے ان دیرینہ خوابوں اور امیدوں کا امتحان تھا جو دہائیوں سے تشنہ تکمیل ہیں۔ 7جون 2026ء کو ہونے والے انتخابات نے نہ صرف ایک نئی انتخابی تصویر پیش کی ہے، بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا اب گلگت بلتستان کے عوام کو وہ حقوق اور ترقی ملے گی جس کے لیے وہ برسوں سے منتظر ہیں،غیر حتمی اور ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (PPP)کی برتری نے سیاسی تجزیہ کاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ خطے کی سیاسی ہوا کا رخ کس جانب ہے۔ انتخابی میدان میں اترنے والے 396امیدواروں میں سے آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد کا ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عوام روایتی سیاست سے کسی حد تک مایوس ہو کر مقامی اور انفرادی سطح پر تبدیلی کے متلاشی ہیں۔ مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ اور آزاد امیدواروں کی کامیابی نے اس اسمبلی کو ایک رنگارنگ، مگر چیلنجوں سے بھری ہوئی اسمبلی بنا دیا ہے۔
گلگت بلتستان کے عوام کے لیے انتخابات کا مطلب محض ووٹ ڈالنا نہیں، بلکہ اپنی شناخت اور مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ یہاں کی سب سے بڑی توقع ’ آئینی حیثیت‘ کا تعین ہے۔ وفاق کے ساتھ الحاق اور اسے پاکستان کا باقاعدہ حصہ تسلیم کروانے کا مطالبہ اس خطے کی سیاست کا مرکزی نکتہ رہا ہے۔ گزشتہ کئی سال سے عوام اس بات پر نالاں ہیں کہ وہ وفاقی دھارے کا حصہ ہونے کے باوجود آئینی حقوق سے محروم ہیں۔ ایک ایسا خطہ جو پاکستان کی شہ رگ اور دفاعی اعتبار سے نہایت اہم ہے، وہاں کے عوام کا اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب جذباتی نعرے کام نہیں آئیں گے۔گلگت بلتستان خدائی نعمتوں سے مالا مال ہے، لیکن بدقسمتی سے یہاں کا انفراسٹرکچر اب بھی 19ویں صدی کا منظر پیش کرتا ہے۔ دنیا بھر سے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں، مگر بنیادی سہولیات کا فقدان سیاحت کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر حکومت چاہے تو مقامی سطح پر چھوٹے پیمانے کے سیاحتی مراکز اور ہوٹلنگ انڈسٹری کو قانونی تحفظ دے کر اور سڑکوں کا جال بچھا کر اسے معاشی خود مختاری کا مرکز بنا سکتی ہے۔ عوام توقع کر رہے ہیں کہ نئی اسمبلی صرف بجٹ کی منظوری تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ مقامی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ خطے کے دور دراز علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولیات کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ ہنزہ، اسکردو اور گلگت کے شہری مراکز میں کچھ سہولیات موجود ہیں، لیکن دیامر، استور اور غذر جیسے اضلاع کے لوگ آج بھی بنیادی طبی سہولیات کے لیے میلوں کا سفر طے کرنے پر مجبور ہیں۔ نئے منتخب نمائندوں کی اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ تعلیمی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کریں تاکہ یہاں کے نوجوان کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ صحت کے شعبے میں جدید اسپتالوں کا قیام اور ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی عوام کی بنیادی ضرورت ہے، جس پر اب مزید سمجھوتہ ممکن نہیں۔ گلگت بلتستان موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے براہِ راست نشانے پر ہے۔ گلیشیئرز کا پگھلنا اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب مقامی آبادی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ حال ہی میں ہونے والی تباہ کاریاں اس بات کی گواہی ہیں کہ اگر ہم نے اب بھی ماحولیاتی تحفظ پر توجہ نہ دی تو یہ خوبصورت وادیاں انسانی رہائش کے قابل نہیں رہیں گی۔ عوام توقع رکھتے ہیں کہ نئی اسمبلی میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے خصوصی قانون سازی کی جائے گی اور ایسی ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے جو قدرت کے توازن کو نہ بگاڑیں، اگرچہ انتخابات مجموعی طور پر پرامن رہے، لیکن مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات جمہوریت کے حسن کو ماند کرنے کے لیے کافی ہیں۔ جب بھی عوامی مینڈیٹ پر سوال اٹھتا ہے، تو عوام کا اداروں پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ نئے منتخب ہونے والے نمائندوں کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی انتقام سے بالاتر ہو کر ان تحفظات کو دور کریں اور ایک ایسی حکومت تشکیل دیں جو سب کی نمائندہ ہو۔
نئی بننے والی اسمبلی کے سامنے پہلا چیلنج ایک مستحکم حکومت کا قیام ہے۔ جس طرح کی انتخابی نتائج سامنے آئے ہیں، اس میں اتحاد اور مفاہمت کے بغیر کوئی بھی جماعت پانچ سالہ مدت پوری کرنے کے لیے درکار استحکام نہیں لا سکتی۔
گلگت بلتستان کے مسائل پیچیدہ ہیں؛ یہاں کی زمین، پانی کے حقوق، اور مقامی آبادی کے مسائل ایسے معاملات ہیں جن پر فوری توجہ درکار ہے۔ سیاسی جماعتوں کے منشور میں بلند و بانگ دعوے تو ہوتے ہیں، لیکن گلگت بلتستان کی جغرافیائی اور ثقافتی نزاکت کو سمجھنا ہر حکمران کے بس کی بات نہیں رہی۔ یہاں کے عوام کی توقعات اب جذباتی نعروں سے نہیں، بلکہ زمینی حقائق کی تبدیلی سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر حکومت نے اپنی مدت کے دوران عوام کو سہولیات فراہم نہ کیں تو یہ شکست اگلی بار کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
گلگت بلتستان کے یہ انتخابات ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں غلط فیصلوں کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر آنے والی حکومت نے عوام کی امنگوں کی مطابق آئینی حقوق، معاشی خود مختاری اور شفاف حکمرانی کو ترجیح نہ دی، تو عوامی غصہ دوبارہ سڑکوں پر آ سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ گلگت بلتستان کے سیاست دان اپنی انا اور جماعتی وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر اس خطے کے لیے سوچیں۔ عوام نے ووٹ دے کر اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے، اب گیند ان سیاست دانوں کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس اعتماد کو ایک نئے اور خوشحال عہد میں بدلتے ہیں یا پھر تاریخ کے اسی فرسودہ بیانیے کو دہراتے ہیں جس نے گلگت بلتستان کو برسوں پیچھے دھکیل رکھا ہے۔ امید ہے کہ یہ اسمبلی عوامی توقعات کے بوجھ کو اٹھانے کی ہمت اور بصیرت کا ثبوت دے گی اور گلگت بلتستان کے عوام کو ان کا حق اور عزتِ نفس لوٹائے گی۔
مرزا رضوان







