گلگت بلتستان انتخابات۔ مسلم لیگ ن کے لیے خطرے کی گھنٹی

گلگت بلتستان انتخابات۔ مسلم لیگ ن کے لیے خطرے کی گھنٹی
تحریر : رفیع صحرائی
گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کے نتائج نے ماضی کی روایات کو ختم کر کے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ گلگت بلتستان کے انتخابات محض چند نشستوں کا انتخابی معرکہ نہیں تھا بلکہ اس نے پاکستان کی روایتی سیاسی تصورات و حرکیات کو بھی چیلنج کیا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک طویل عرصے سے یہ روایت قائم رہی کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں وہی جماعت اقتدار حاصل کرتی ہے جس جماعت کی مرکز میں حکومت ہو۔ اس روایت کی بنیاد وفاقی اثر و رسوخ، ترقیاتی فنڈز اور انتظامی طاقت کو سمجھا جاتا رہا ہے۔ مگر اس بار نتائج نے اس سیاسی فارمولے کو الٹ کر رکھ دیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے جی بی میں نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ ایک بھرپور سیاسی واپسی کا تاثر بھی دیاہے۔ جہاں پیپلز پارٹی کو اس کامیابی نے اطمینان اور خوشی دی ہے وہیں پر مسلم لیگ ن کے لیے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر ایسی کیا وجوہات تھیں کہ مرکز اور پنجاب میں حکومت رکھنے والی جماعت گلگت بلتستان جیسے اہم خطے میں عوامی اعتماد حاصل نہ کر سکی؟
اگر انتخابی مہم کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس انتخاب کو غیرمعمولی سنجیدگی سے لیا۔ انہوں نے مسلسل جلسے کیے، عوامی رابطہ مہم چلائی اور یہ تاثر دینے میں کامیاب رہے کہ وہ صرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں بلکہ وفاقی نظام کا ایک موثر حصہ ہیں۔ ان کی تقریروں میں اعتماد بھی تھا اور سیاسی جارحیت بھی۔ ان کا یہ جملہ کہ’’ فارم 45آپ لے آئیں، فارم 47میں خود لے کر دکھائوں گا‘‘، انتخابی مہم کا ایک موثر سیاسی نعرہ بن گیا۔ آصفہ بھٹو زرداری کی سرگرم شرکت نے بھی پارٹی کارکنوں میں نئی روح پھونکی۔
اس کے برعکس مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم میں وہ توانائی اور سنجیدگی دکھائی نہ دی جو ایک حکمران جماعت سے متوقع تھی۔ پارٹی کی پہلی صف کی قیادت عملاً انتخابی میدان سے دور رہی۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی عدم شرکت اگرچہ انتظامی مصروفیات کے باعث سمجھی جا سکتی ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پارٹی نے واقعی اس انتخاب کو اپنی سیاسی ساکھ کا مسئلہ سمجھا بھی تھا یا نہیں؟ حمزہ شہباز شریف جیسے رہنما کو متحرک کردار نہ دینا بھی حیران کن رہا۔ میاں نواز شریف کی مختصر آمد محض رسمی کارروائی محسوس ہوئی۔ یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ شاید پارٹی قیادت خود بھی زمینی حقائق سے پوری طرح مطمئن نہیں تھی۔اصل مسئلہ صرف انتخابی حکمت عملی کا نہیں بلکہ عوامی مزاج کا ہے۔ گلگت بلتستان کے نتائج دراصل ملک بھر میں بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کا عکس دکھائی دیتے ہیں۔ مہنگائی، بجلی و گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ، بے روزگاری، نجکاری اور سرکاری اداروں کی بندش نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ متوسط طبقہ سکڑتا جا رہا ہے جبکہ غریب طبقہ بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر دکھائی دیتا ہے۔
پنجاب، جو مسلم لیگ ن کا مضبوط سیاسی قلعہ سمجھا جاتا تھا، وہاں بھی عوامی سطح پر بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کی آئوٹ سورسنگ، نئی بھرتیوں میں کمی، سرکاری اسامیوں کا خاتمہ اور ملازمین کے سروس سٹرکچر میں تبدیلی جیسے اقدامات نے ایک بڑے طبقے کو مایوس کیا ہے۔ حکمران شاید معاشی اصلاحات کے نام پر ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو مالیاتی اداروں کو تو مطمئن کر سکتے ہیں مگر عوام کو نہیں۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان تحریک انصاف تمام تر دبا اور پابندیوں کے باوجود ایک بڑی عوامی قوت کے طور پر موجود ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی خاص طور پر پنجاب میں دوبارہ اپنی سیاسی بنیادیں مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسے میں اگر مسلم لیگ ن نے عوامی مسائل کے حل اور سیاسی رویوں میں تبدیلی کی طرف سنجیدہ توجہ نہ دی تو آئندہ عام انتخابات میں اسے سخت سیاسی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سیاسی جماعتوں کے لیے سب سے بڑا امتحان اقتدار میں رہ کر عوامی اعتماد برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ عوام صرف ترقیاتی منصوبوں سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب بجلی کے بل، پٹرول کی قیمتیں، روزگار کے مواقع اور علاج و تعلیم کی سہولتیں عوام کی پہنچ سے دور ہونے لگیں تو سیاسی بیانیے کمزور پڑ جاتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے نتائج کو محض ایک علاقائی انتخاب سمجھ کر نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں ہو گی۔ یہ نتائج وفاقی حکومت کے لیے ایک سیاسی و عوامی پیغام ہیں۔ اگر حکمران جماعت نے اسے سنجیدگی سے نہ لیا، عوامی مشکلات کم کرنے کی کوشش نہ کی اور اپنی سیاسی ترجیحات پر نظرثانی نہ کی تو یہ ’’ خطرے کی گھنٹی‘‘ آنے والے دنوں میں ایک بڑے سیاسی طوفان کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔
جمہوریت میں عوام خاموش ضرور رہتے ہیں مگر بے حس نہیں ہوتے۔ ووٹ کی طاقت کی ذریعے وہ وقت آنے پر اپنا فیصلہ ضرور سناتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات نے یہی حقیقت ایک بار پھر واضح کر دی ہے۔







