بجٹ: اتفاقِ رائے اور عوامی توقعات

بجٹ: اتفاقِ رائے اور عوامی توقعات
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کی ملاقات کے بعد حکومتی اتحاد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ تجاویز پر اتفاقِ رائے کی خبریں سیاسی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جاسکتی ہیں۔ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے فطری امر ہے، لیکن قومی معیشت جیسے حساس معاملے پر سیاسی قوتوں کا باہمی تعاون ایک مثبت پیغام دیتا ہے۔ ایسے وقت میں جب مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دبا نے عام شہری کی زندگی کو مشکل بنا رکھا ہے، بجٹ پر مفاہمت اس امید کو جنم دیتی ہے کہ فیصلے محض سیاسی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ عوامی مشکلات کو سامنے رکھ کر کیے جائیں گے۔ پاکستان اس وقت ایسے معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں حکومتی پالیسیوں کا براہِ راست اثر ہر گھر کے دسترخوان پر پڑ رہا ہے۔ بجلی، گیس، ایندھن، آٹا، دالیں، سبزیاں اور ادویہ جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ متوسط اور کم آمدن والے طبقے کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ ایسے حالات میں بجٹ صرف اعداد و شمار کی کتاب نہیں رہتا، بلکہ یہ کروڑوں شہریوں کے مستقبل، ان کی روزمرہ زندگی اور ان کے اعتماد کا تعین کرتا ہے۔ سیاسی اتفاقِ رائے اپنی جگہ خوش آئند ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا آنے والا بجٹ عام آدمی کو حقیقی ریلیف دے سکے گا؟ عوام اس وقت سب سے زیادہ اسی بات کے منتظر ہیں۔ اگر حکومت اور اتحادی جماعتیں واقعی عوامی مشکلات کو سمجھتی ہیں تو بجٹ میں چند بنیادی اصولوں کو ترجیح دینا ناگزیر ہوگا۔ کم آمدن والے طبقے کے لیے براہِ راست ریلیف، تنخواہ دار طبقہ، پنشنرز اور دیہاڑی دار مزدور سب سے زیادہ دبا کا شکار ہیں۔ انکم ٹیکس کی حدِ استثنا میں اضافہ، کم تنخواہ والوں کے لیے ٹیکس میں رعایت اور پنشنرز کے لیے سہولتوں جیسے اقدامات فوری ریلیف دے سکتے ہیں۔ صرف اعداد و شمار میں افراطِ زر کم دکھانا کافی نہیں۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں استحکام، ذخیرہ اندوزی کے خلاف مثر کارروائی اور زرعی شعبے کی مدد ضروری ہے تاکہ پیداوار بڑھے اور قیمتیں قابو میں رہیں۔ بڑے منصوبوں سے زیادہ ترجیح ان شعبوں کو ملنی چاہیے جو براہِ راست شہریوں کی زندگی بہتر بناتے ہیں، جیسے تعلیم، صحت، صاف پانی، مقامی سڑکیں اور روزگار پیدا کرنے والے منصوبے۔ قرضوں پر بڑھتے ہوئے سودی اخراجات بجٹ کا بڑا حصہ کھا جاتے ہیں۔ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن سے ٹیکس نیٹ وسیع ہو، غیر ضروری اخراجات کم ہوں اور معیشت کی پیداواری صلاحیت بڑھے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ آسان قرضے، کم شرح سود، ٹیکس میں سہولت اور کاروباری ماحول میں بہتری نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ تجاویز پر اتفاقِ رائے کی خبر بلاشبہ سیاسی استحکام کے لیے اچھی ہے۔ لیکن عوام اس مفاہمت کو تب ہی سراہیں گے جب اس کے ثمرات ان کی زندگی میں نظر آئیں گے۔ اگر بجٹ کے بعد بھی بجلی کے بل ناقابلِ برداشت رہیں، بازار میں قیمتیں بڑھتی رہیں اور روزگار کے مواقع محدود ہوں تو سیاسی اتفاقِ رائے اپنی افادیت کھو بیٹھے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ بجٹ سازی کے عمل میں شفافیت اختیار کی جائے۔ پارلیمان میں کھلی بحث ہو، ماہرینِ معیشت کی رائے لی جائے اور عوام کو واضح بتایا جائے کہ کن اقدامات سے انہیں فائدہ پہنچے گا اور کن قربانیوں کی ضرورت ہوگی۔ اعتماد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب حکومت مشکل فیصلوں کے ساتھ عوامی تحفظ کا بندوبست بھی کرے۔ پاکستان کی بڑی آبادی ایسے خاندانوں پر مشتمل ہے جو ماہانہ آمدن اور اخراجات کے درمیان مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ بہت سے گھرانوں کے لیے بچوں کی تعلیم، علاج اور بنیادی خوراک کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں بجٹ کا بنیادی مقصد صرف مالی خسارہ کم کرنا نہیں بلکہ شہریوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ حکومت اگر واقعی غریب طبقے کی داد رسی چاہتی ہے تو سماجی تحفظ کے پروگراموں کو موثر بنانا ہوگا۔ مستحق خاندانوں کی نشان دہی، شفاف امدادی نظام، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں براہِ راست سہولتیں اور خواتین کے لیے معاشی مواقع ایسے اقدامات ہیں جو معاشرے میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ بجٹ پر سیاسی جماعتوں کا اتفاقِ رائے ایک خوش آئند آغاز ہے مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب بجٹ عوام کے لیے آسانی، امید اور اعتماد کا ذریعہ بنے۔ مہنگائی سے پریشان غریب اور متوسط طبقہ محض اعلانات نہیں بلکہ عملی ریلیف چاہتا ہے۔ حکومت اور اس کے اتحادی اگر اس حقیقت کو سامنے رکھ کر مالیاتی پالیسی ترتیب دیں تو نہ صرف معاشی دبا میں کمی آئے گی بلکہ جمہوری نظام پر عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ ملک کو اس وقت ایسے بجٹ کی ضرورت ہے جو ریونیو بڑھانے کے ساتھ شہریوں کی زندگی کو قابلِ برداشت بنائے، معاشی سرگرمی کو فروغ دے اور کمزور طبقات کے لیے حقیقی سہارا ثابت ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو سیاسی مفاہمت کو عوامی کامیابی میں تبدیل کر سکتا ہے۔
منشیات کیخلاف جنگ، تسلسل ناگزیر
انسدادِ منشیات فورس ( اے این ایف) کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں کامیاب کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں منشیات کی برآمدگی اور متعدد ملزمان کی گرفتاری قابلِ ستائش اقدام ہے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، سکھر اور بلوچستان میں ہونے والی کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ منشیات فروش عناصر اب بھی معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں، جن کے خلاف مسلسل اور موثر کارروائی ناگزیر ہے۔ منشیات کا مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا چیلنج نہیں بلکہ یہ ایک سماجی، معاشی اور قومی مسئلہ بھی ہے۔ نشہ آور اشیا خصوصاً آئس، ہیروئن اور ایکسٹیسی جیسی خطرناک منشیات نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ تعلیمی اداروں، تفریحی مقامات اور شہری آبادیوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان نے والدین اور معاشرے کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں اے این ایف کی کارروائیاں امید کی ایک کرن ضرور ہیں، تاہم مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے لیے مزید جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے منشیات اسمگلنگ کے بین الاقوامی راستوں کے قریب رکھتی ہے، جس کا فائدہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صرف اسمگلروں کی گرفتاری کافی نہیں، بلکہ ان کے مالی معاونین، سپلائی چَین اور منظم نیٹ ورکس کو بھی قانون کی گرفت میں لانا ضروری ہے۔ دوسری جانب نوجوانوں کو منشیات سے دُور رکھنے کے لیے آگاہی مہمات کو وسعت دینا ہوگی۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں منشیات کے نقصانات سے متعلق مستقل پروگرام ترتیب دیے جائیں تاکہ نئی نسل اس لعنت کے تباہ کن اثرات سے آگاہ ہو سکے۔ ساتھ ہی نشے کے عادی افراد کی بحالی کے مراکز کو بھی فعال اور مثر بنایا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ افراد دوبارہ ایک صحت مند زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ اے این ایف کی حالیہ کارروائیاں یقیناً حوصلہ افزا ہیں، لیکن منشیات کے خلاف جنگ محض چند کامیاب چھاپوں سے نہیں جیتی جاسکتی۔ اس کے لیے ریاستی اداروں، تعلیمی حلقوں، والدین، میڈیا اور پوری سوسائٹی کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ منشیات سے پاک معاشرہ ہی ایک محفوظ، صحت مند اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔





