پنکی کی ناقدری

پنکی کی ناقدری
صورتحال
سیدہ عنبرین
’’ پنکی‘‘ فلم کا پہلا شو تو ہائوس فل تھا، پھر اچانک یہ فیل ہو گئی۔ جنرل پرویز مشرف صدر پاکستان تھے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پیش آئی، پہلے ہم نے روس کو افغانستان سے نکالنے کیلئے دنیا بھر سے مجاہدین اکٹھے کئے اور روس کو نکال باہر کیا، دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ کی ترجیحات بدل گئیں، اسے اندازہ ہو گیا کہ جب تک یہ مجاہدین افغانستان میں موجود ہیں امریکہ افغانستان کے وسائل پر قبضہ نہیں کر سکے گا، لیکن سوال یہ پیدا ہوا کہ ان مجاہدین کو افغانستان سے کیسے نکالا جائے، جو دس برس تک روس کے خلاف برسر پیکار رہے ہیں۔ سی آئی اے نے پلان پیش کیا کہ ان مجاہدین کو تخریب کار ثابت کر دیا جائے، یہ ثابت کرنے کیلئے نائن الیون کر دیا گیا، اور اس کے ساتھ ہی یہ تصور بھی پیش کر دیا کہ یہ لوگ منشیات کے کاروبار سے وابستہ ہیں، منشیات میں تو شراب بھی آ جاتی ہے، جو امریکہ اور یورپ میں سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔ بعض علاقے تو ایسے ہیں جہاں شراب سستی اور پینے کا پانی مہنگا ہے۔ منشیات سے شروع کیا گیا واویلا پھر ہیروئن پر آ کر ختم ہوا، لیکن امریکہ اور یورپی میڈیا نے دنیا کا دھیان اس طرف نہیں آنے دیا کہ ایشیائی ممالک خصوصاً افغانستان، پاکستان میں ہیروئن چند ہزار روپے کلو میں ملتی ہے، اس کا ریٹ امریکہ اور یورپ میں کئی کروڑ روپے فی کلو یا ہزار ڈالر فی کلو کیوں ہو جاتا ہے۔ عام فہم سی بات ہے، جہاں جس چیز کی کھپت زیادہ ہو گی، اسی مارکیٹ میں اس کی قیمت زیادہ ہو گی۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ شروع ہوئی تو ہیروئن کی تجارت اور ہیروئن کلچرل کو فروغ ملا، یہ جنگ ختم ہو چکی، لیکن ہیروئن کی تجارت کا جادو ختم نہیں ہوا، جب سے اب تک ہیروئن کی خریدوفروخت کے علاوہ اس دھندے سے اور کئی مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں، جو کسی طرح قابو نہ آئے اسے اس کا خریدار ثابت کر دو یا کسی ڈیلر کی لسٹ میں اس کا نام ڈال دو، وہ سیدھا ہو جائے گا۔ اب تو لوگ منکر نکیر کی لسٹ سے کم اور ’’ ڈیلرز لسٹ‘‘ سے زیادہ ڈرنے لگے ہیں۔ منکر نکیر جو لسٹ تیار کریں گے وہ تو سچ پر مبنی ہو گی، دل کو تسلی رہے گی، لیکن کسی پنکی یا پنکو کی لسٹ میں بدنیتی سے شامل کیا گیا نام ہمیشہ تکلیف دیتا رہے گا۔ منکر نکیر کی طویل لسٹ میں نام ہونے کے بعد بھی اللہ کی رحمت سے جان بخشی ہو سکتی ہے۔ پنکی یا پنکو کی لسٹ میں نام آنے کے بعد ان ناکردہ جرائم کی سزا اس وقت یقینی ہو جاتی ہے جب کوئی خلیفہ بیان دیتے ہوئے کہہ رہے کہ اللہ کو جان دینی ہے، لہٰذا ہیروئن برآمد کرتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کئے گئے ہیں اور خوف خدا کو سامنے رکھا گیا ہے۔
وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ انتہائی خوش قسمت ہیں، جو اس لسٹ میں شامل ہونے کے بعد اس میں سے نکل گئے، زمانہ بدلا تو انہوں نے بتایا کہ ایک ملاقات میں انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے پوچھا کہ ان کے خلاف ہیروئن کا جعلی مقدمہ بنانے والوں کے خلاف انہوں نے کیا کارروائی کی، تو جنرل باجوہ کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا۔ جنرل باجوہ کے پاس تو ایکسٹیشن لینے کا بھی کوئی جواب نہ تھا، مگر دینے والوں نے دی، اور مل جل کر قانون میں ترمیم کر کے دی۔
واپس آتے ہیں فلم پنکی کی طرف، فلم کی کہانی اور اس کا مرکزی خیال بہت عمدہ تھا، عرصہ دراز سے ملک میں اس موضوع پر کوئی فلم یا ڈرامہ پیش نہیں کیا گیا تھا، لہٰذا خیال تھا یہ سپر ہٹ ہو گی، اور عرصہ دراز تک سرکٹ میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے رکھے گی، لیکن کمزور ہدایتکاری اور غیر جاندار مکالموں سے فلم بیٹھ گئی۔ اس کی بڑی وجہ ایک نیا تجربہ تھا، پیسے بچانے کیلئے تجربہ کیا گیا، جب فلم بیٹھنے لگی تو پنجاب کو بیچ میں گھسیٹ لائے، لیکن فلم اور اونٹ جب بیٹھ جائے تو پھر اسے اٹھانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے، صرف ہیروئن فلم کا بوجھ تن تنہا نہ اٹھا سکی، کوئی ولن بھی میسر نہ آیا، تھوڑی بہت کامیڈی سے کام چلانے کی کوششیں کی گئی ، لیکن کام مزید خراب ہو گیا، اور مکمل بھٹہ اس وقت بیٹھا جب پروڈکشن ہائوس کا نام واضع ہوا، ابتداء میں جب کہا گیا کہ ایک وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے ایما پر پنکی کو گرفتار کیا گیا ہے، تو ابہام پیدا ہو گیا، لیکن ٹھیک تیسرے دن معاملہ کھل گیا اور معاملات کو الجھانے کی کوششوں میں مصروف اور اسے کسی اور کے کھاتے میں ڈالنے کی خواہش رکھنے والے ناکام ہو گئے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ معاملہ ہیروئن فروشی کا ہے، لیکن فلم کو سپر ہٹ بنانے کیلئے جو بارہ مصالحے ڈالے گئے، وہ اس میں نظر نہیں آئے، پھیکا پکوان زیادہ سے زیادہ ایک مرتبہ ہی چکھا جا سکتا ہے، اس کی کشش بار بار کھینچ کر گاہک کو دروازے پر نہیں لاتی۔ وہ جو آٹھ سو ناموں کا ذکر ہوا تھا، وہ شرفاء کو ڈرانے کیلئے کیا گیا تھا، اگر پانامہ لیکس اور دبئی لیکس والے نام مارکیٹ میں آ سکتے تھے تو پنکی لیکس میں آئے ناموں کی لسٹ بھی سوشل میڈیا پر بھیجی جا سکتی تھی۔ ملک ریاض کی طرف سے صحافیوں کو دی گئی رقوم جن بینک اکائونٹس میں گئی ان کی تفصیلات گھر گھر پہنچ گئیں تو پنکی اکائونٹس کی تفصیل اب تک کیوں نہیں جاری کی گئی، یہ اکائونٹ نمبر، بینکوں کے نام اور ان کی برانچوں کی تفصیل بھی آج تک سامنے نہیں آئی، خدا جانے وہ اربوں روپے اب کہاں ہوں گے جن کا بڑا چرچہ تھا۔
فلم ریلیز ہوئے غالباً دوسرا روز تھا کہ رش کم ہونے لگا، اچانک ہیروئن کی قامت بلند کرنے کے جتن شروع ہو گئے۔ بتایا گیا کہ پنکی بہت نیک دل اور خدا ترس خاتون ہے، وہ گھر سے نکلتی تو پانچ ہزار روپے والے نوٹوں کا ایک بنڈل لے کر گھر سے نکلتی، پھر آتے جاتے اسے بانٹتی اور اس وقت تک گھر واپس نہ آتی جب تک پانچ ہزار روپے کا آخری نوٹ اس کے حقیقی ضرورت مند تک نہ پہنچ جاتا۔ اگر اس کہانی پر یقین کر لیا جائے تو ایسی غریب پرور خاتون کو گرفتار کر کے اس کا کاروبار تباہ کر کے سرکار نے کچھ اچھا نہیں کیا۔ سرکار کے دماغ میں تھوڑی سی عقل ہوتی تو اسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن بنا دیتی، یوں اس ملک کے غریب عوام کا بھلا ہو جاتا، اور ایسے افراد سے نجات مل جاتی جن کی سربراہی میں اس پروگرام سے ملنے والی رقوم گریڈ سترہ اور گریڈ اٹھارہ کے افراد اور ان کی بیگمات کے اکائونٹ میں جانے کی خبریں آئیں، پھر ان شخصیات سے یہ رقوم واپس لی گئیں۔ میڈم پنکی کو مرکزی زکوٰۃ و عشر کمیٹی کا سربراہ بنا کر بھی اللہ کی خوشنودی حاصل کی جا سکتی تھی، کیونکہ پنکی کے ہاتھوں سے زکوٰۃ کا پیسہ بھی حق داروں تک پہنچ سکتا تھا، مگر حکومت یہ چھوٹا سا کام بھی نہ کر سکی۔ حکومت ایک اور نیک کام کر سکتی تھی وہ پنکی کو فنکاروں، ادیبوں، شاعروں کی فلاح و بہبود کیلئے بنائے گئے کسی ادارے کا سربراہ بنا سکتی تھی، یوں ملک کے کونے کونے میں گیس نہ ہونے کے باوجود ہزاروں گھروں کے چولہے جل سکتے تھے، مگر صد افسوس سرکار کے مقدر میں نیکی بھی نہ آ سکی۔ تبدیلی سرکار کی افواہیں گرم ہیں، اگر ایسا ہوا تو یہ صرف اس لئے ہو گا سرکار نے پنکی کی ناقدری کی، خدا ایسی خطا میں معاف نہیں کرتا۔





