Column

پنجاب میں بڑھتی بے چینی

پنجاب میں بڑھتی بے چینی
تحریر : احمد گھمن
پنجاب کی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کو شاید پہلی بار اپنے ہی مضبوط ترین قلعے میں شدید عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ وہ جماعت جو کبھی پنجاب کی گلی گلی میں اپنی طاقت، تنظیم اور عوامی رابطے کے لیے مشہور تھی، آج اسی پنجاب میں اپنے منتخب نمائندوں کو عوام سے نظریں چراتے دیکھا جا رہا ہے۔ حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ نون لیگ کے کئی ایم این ایز اور ایم پی ایز نے اپنے حلقوں میں شادیوں، جنازوں اور سماجی تقریبات میں جانا کم کر دیا ہے۔ وجہ صرف ایک ہی عوامی غصہ۔ جہاں بھی یہ نمائندے جاتے ہیں لوگ ان سے مہنگائی، بجلی کے بلوں، لوڈشیڈنگ، پٹرول پر ظالمانہ ٹیکسز اور روزگار کے فقدان پر سوال کرتے ہیں۔
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں یہ صورتحال عام ہو چکی ہے کہ حکومتی نمائندے کسی تقریب میں شرکت سے پہلے میزبان کو ہدایات دیتے ہیں کہ ان کے لیے الگ ٹیبل لگایا جائے، اردگرد صرف اپنے لوگ ہوں اور عام عوام کو قریب نہ آنے دیا جائے۔ یہ منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔مسئلہ صرف مہنگائی نہیں، مسئلہ حکمرانوں کی بے حسی بھی ہے۔
جب وزراء یہ کہتے ہیں کہ عوام ٹیکس نہیں دیتی اس لیے پٹرول اور بجلی پر ٹیکس لگانا ضروری ہے تو یہ بیان جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف بن جاتا ہے۔
عوام پوچھتے ہیں کہ آخر ہر بوجھ صرف غریب پر ہی کیوں ڈالا جاتا ہے۔ کیا اشرافیہ نے کبھی قربانی دی؟
آج کا دور ماضی جیسا نہیں۔ یہ ڈیجیٹل زمانہ ہے۔ لوگ ایک کلک پر دنیا بھر کی قیمتیں، ٹیکس ریٹس اور حکومتی دعوں کی حقیقت دیکھ لیتے ہیں۔ اب صرف تقریروں اور نعروں سے عوام کو بہلانا ممکن نہیں رہا۔ پنجاب کا نوجوان سوال پوچھ رہا ہے، حساب مانگ رہا ہے اور اپنی زندگی میں بہتری چاہتا ہے۔
شہباز شریف اور مریم نواز کی حکومت نے ترقی کو صرف چند سڑکوں، فلائی اوورز اور نمائشی منصوبوں تک محدود کر دیا۔ لیکن اصل ترقی کیا ہے؟، اصل ترقی وہ ہے جہاں نوجوان کو روزگار ملے۔ ہسپتال میں غریب کا مفت علاج ہو۔تھانوں اور پٹوارخانوں میں رشوت کے بغیر کام ہو۔ عام آدمی عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پنجاب میں آج ہر سرکاری دفتر کرپشن کی دلدل میں دھنسا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پولیس سے لے کر پٹواری تک ہر جگہ سفارش اور رشوت کا بازار گرم ہے۔ حتیٰ کہ وہ محکمے جنہیں کبھی نسبتاً بہتر سمجھا جاتا تھا وہاں بھی کرپشن کی شکایات عام ہو چکی ہیں۔ نون لیگ کے اپنے رہنما نجی محفلوں میں اس خوف کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ عوام میں جا کر کیا جواب دیں۔ گلگت بلتستان اور کشمیر جیسے انتخابات میں وہ کس بنیاد پر ووٹ مانگیں گے۔ کیونکہ عوام اب صرف وعدے نہیں نتائج مانگ رہی ہے۔
پنجاب ایک حساس صوبہ ہے۔ یہاں سیاسی بے چینی اگر شدت اختیار کرے تو اس کے اثرات پورے ملک پر پڑتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب پنجاب میں عوامی غصہ بھڑکتا ہے تو سیاسی تخت بھی ہل جاتے ہیں۔
آج نون لیگ ایک ایسے بھنور میں پھنس چکی ہے جہاں عوامی ناراضی، معاشی بحران اور حکومتی کمزوری ایک ساتھ اس کے خلاف کھڑی ہیں۔ اگر حکمرانوں نے فوری طور پر اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی، عوام کو ریلیف نہ دیا، اور زمینی حقائق کو تسلیم نہ کیا تو پھر صرف ایک چنگاری کافی ہوگی اور وہ چنگاری پنجاب کی سیاست کا رخ بدل سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button