Column

اصلاحات یا بوجھ؟

اصلاحات یا بوجھ؟
تحریر: رفیع صحرائی
ملک میں معاشی اصلاحات، توانائی اصلاحات اور مالی نظم و ضبط کے خوش نما نعرے تو بہت سننے کو ملتے ہیں مگر جب ان اصلاحات کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو عام آدمی کو ریلیف کے بجائے مزید مشکلات کا سامنا نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عوام کے ذہن میں یہ سوال شدت سے ابھر رہا ہے کہ حکومتی پالیسیاں واقعی مسائل کے حل کے لیے بنائی جا رہی ہیں یا پھر صرف مالی خساروں کا بوجھ مختلف طریقوں سے عوام کے کندھوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
چند روز قبل کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی سبسڈی کے حوالے سے پیدا ہونے والی بحث نے ایک بار پھر توانائی پالیسیوں کے کئی تضادات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اگرچہ اس تاثر کی تردید کی ہے کہ حکومت دو سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی سبسڈی ختم کرنے جا رہی ہے تاہم ان کے اس بیان نی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ بڑے سولر سسٹم لگانے والے صارفین دراصل دوسرے بجلی صارفین پر بوجھ بن چکے ہیں۔
یہ ایک عجیب صورتحال ہے۔ حکومت نے خود برسوں تک شمسی توانائی کے فروغ کی حوصلہ افزائی کی۔ نیٹ میٹرنگ کی سہولت دی گئی، سولر پینلز کی درآمد پر ٹیکسوں میں رعایت دی گئی، اقساط پر سولر سسٹم فراہم کرنے کی اسکیمیں متعارف کرائی گئیں اور عوام کو باور کرایا گیا کہ وہ مہنگی بجلی سے نجات حاصل کرنے کے لیے متبادل ذرائع اختیار کریں۔ چنانچہ لاکھوں شہریوں نے اپنی جمع پونجی خرچ کر کے سولر سسٹم نصب کر لیے۔ اب جب یہی صارفین بجلی کے بلوں میں کمی لانے میں کامیاب ہوئے ہیں تو انہیں مسئلے کی جڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بجلی کے شعبے کے مسائل کی اصل وجوہات کہیں اور ہیں۔ کیپیسٹی پیمنٹس، بجلی چوری، لائن لاسز، گردشی قرضہ، مہنگے پاور پلانٹس اور ناقص انتظامی ڈھانچہ وہ عوامل ہیں جنہوں نے اس شعبے کو بحران سے دوچار کیا ہے۔ اگر چند لاکھ سولر صارفین ہی تمام مسائل کے ذمہ دار ہیں تو پھر اربوں روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس اور بجلی پیدا نہ کرنے والے بعض آئی پی پیز کو دی جانے والی رقوم کی وضاحت کون کرے گا؟
اسی طرزِ فکر کا ایک اور مظاہرہ پٹرولیم شعبے میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں حکومت اور مختلف اداروں نے بھرپور انداز میں الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی۔ عوام کو بتایا گیا کہ مستقبل الیکٹرک ٹرانسپورٹ کا ہے، ایندھن پر انحصار کم کرنا قومی ضرورت ہے اور اس سے ماحولیات اور معیشت دونوں کو فائدہ ہوگا۔ بہت سے لوگوں نے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں اور بائیکس کی طرف رخ کیا۔ لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ اس منتقلی سے پیدا ہونے والے ریونیو خسارے کا بوجھ پٹرول اور ڈیزل استعمال کرنے والے شہریوں پر ڈال دیا گیا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اور ہوشربا اضافے نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ حکومت اپنی آمدنی برقرار رکھنے کے لیے نئے ذرائع تلاش کرنے کے بجائے انہی صارفین سے مزید وصولیاں کر رہی ہے جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ یوں الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل ہونے والوں کی وجہ سے کم ہونے والی ٹیکس آمدن کا خلا بھی پٹرول صارفین کی جیبوں سے پُر کیا جا رہا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف غیر منصفانہ محسوس ہوتی ہے بلکہ اس سے حکومتی معاشی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔
مسئلہ دراصل یہ ہے کہ حکومت اپنی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا اعتراف کرنے کے بجائے مسلسل "ذمہ دار” تلاش کر رہی ہے۔ کبھی سولر صارفین کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، کبھی تاجروں کو، کبھی صنعتکاروں کو اور کبھی عام صارفین کو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اصل کوشش مسائل کے حل کے بجائے یہ طے کرنے پر مرکوز ہے کہ ناکامی کی ذمہ داری کا پھندا کس کے گلے میں ڈالا جائے تاکہ حکمران خود بری الذمہ قرار پا سکیں۔
میں نے محمد اورنگزیب کی بطور وزیر خزانہ تقرری کے وقت اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ عوام کو ان سے کسی بڑے ریلیف کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ وہ بنیادی طور پر ایک بینکار ہیں اور بینکاری کا بنیادی اصول منافع، وصولی اور مالی توازن ہوتا ہے، نہ کہ عوامی جذبات اور سیاسی مقبولیت۔ آج کے حالات اس خدشے کی بڑی حد تک تصدیق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافے، مہنگائی، بجلی و گیس کے نرخوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی مزید دشوار بنا دی ہے۔
ان پالیسیوں کا سیاسی اثر بھی واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور حکومتی جماعت کی مقبولیت کا گراف مسلسل نیچے جا رہا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ عوامی قبولیت اور عوامی نفرت کے درمیان فاصلہ زیادہ نہیں ہوتا۔ جب مقبولیت زوال پذیر ہو کر نفرت میں بدلنے لگتی ہے تو پھر محض سرکاری بیانات، اشتہاری مہمات اور دعووں کے ذریعے عوامی اعتماد بحال نہیں کیا جا سکتا۔ اپنی مدت پوری کرنے کے بعد بالآخر آئندہ انتخابات میں انہی عوام کے پاس جانا ہے جن کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ سبسڈی ختم کرنے، نئے سرچارجز لگانے اور مختلف طبقات کو مسائل کا ذمہ دار قرار دینے کے بجائے توانائی اور معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات پر توجہ دے۔ بجلی چوری، لائن لاسز، گردشی قرضے اور غیر ضروری سرکاری اخراجات پر قابو پایا جائے۔ اسی طرح پٹرولیم مصنوعات کو محض ریونیو اکٹھا کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے ایسی معاشی پالیسیاں اختیار کی جائیں جو پیداواری سرگرمیوں کو فروغ دیں اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں۔ کیونکہ کسی بھی حکومت کی کامیابی کا اصل پیمانہ اعداد و شمار نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی میں آنے والی آسانی اور بہتری ہوتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button