Columnمحمد مبشر انوار

مذاکرات سے انکار

مذاکرات سے انکار
محمد مبشر انوار
مشرق وسطیٰ کا بحران مزید گھمبیر ہوتا جا رہا ہے، گو کہ امریکہ کی جانب سے ابھی تک خوش گمانی اور مثبت مذاکرات کا تاثر دیا جارہا ہے، لیکن پس پردہ حقائق انتہائی پیچیدہ دکھائی دے رہے ہیں، اور بظاہر یہ نظر آ رہا ہے کہ معاملات کو دانستہ الجھایا جارہا ہے۔ ایران پر مسلط جنگ، جو بظاہر امریکہ کی جانب سے جارحیت کا ارتکاب کیا گیا تھا لیکن پس پردہ دراصل اسرائیلی خواہشات کی تکمیل اور گریٹر اسرائیل کا منصوبہ پورا کرنے کی کوشش تھی، جسے ایبسٹین فائلز نے ممکن بنایا۔ ٹرمپ سے قبل کے صدور نے ہمیشہ ایران کو پابندیوں کے زور پر محصور رکھا اور کسی بھی صدر نے انتہائی اقدام اٹھانے سے گریز کیا کہ جب تک گڑ سے کام چل رہا تھا، انہیں زہر دینے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن جانے انجانے ٹرمپ اپنی حیثیت و طاقت کا غلط اندازہ کر بیٹھے کہ دہائیوں سے ایران پابندیوں کا شکار، امریکی جارحیت کا مقابلہ نہیں کر پائے گا اور جلد ہی زیر ہو جائے گا۔ ایران، امریکہ کے تمام تر اندازوں کے برعکس اپنے محدود وسائل کے باوجود، نہ صرف عسکری لحاظ سے تیار تھا بلکہ امریکہ کو شدید ترین سرپرائز دینے کی اہلیت سے بھی مالا مال نظر آیا اور ایران نے میدان جنگ میں امریکہ کو ناکوں چنے چبوا دئیے ہیں۔ اس وقت امریکہ اپنی بھرپور کوشش میں ہے کہ کسی طرح میدان جنگ میں ملنے والی شکست کو مذاکرات کی میز پر فتح میں تبدیل کر سکے لیکن ٹرمپ کے بقول ایرانی اتنے اچھے جنگجو نہیں جتنے اچھے مذاکرات کار ہیں، واضح کر رہا ہے کہ ٹرمپ اپنی سبکی و خفت مٹانے کی غرض سے ایسے بے سروپا بیانات دے رہے ہیں کہ کسی طرح وہ دنیا کو منہ دکھانے کے قابل رہ سکیں۔ دوسری طرف ایران ، امریکہ کو کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتا کہ وہ ببانگ دہل کہہ رہا ہے کہ وہ ہر محاذ پر امریکہ کو سرپرائز دے گا، جو اب تک ایران نے امریکہ کو دیا بھی ہے کہ خواہ امریکہ کا دہشت ناک بحری بیڑا ہو یا سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل جنگی طیارے ہوں یا ڈرونز ہوں، ایران نے ہر امریکی ٹیکنالوجی کو دھول چٹائی ہے اور امریکہ ہر محاذ پر بری طرح شکست کھا چکا ہے۔ سب سے اہم شکست جو امریکہ کو اس وقت تک دیکھنا پڑی ہے وہ سمندر میں ہے کہ جہاں امریکہ اپنی بحری قوت کو تعینات کر کے، یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ ایران کی معیشت کو برباد کرنے میں کامیاب ہو جائیگا لیکن ایران نے اس کا توڑ بھی کر لیا ہے کہ ایک طرف پاکستان نے اسے تجارتی راستے فراہم کر دئیے ہیں ، جو امریکہ پاکستان کے بطور ثالث روکنے میں تامل کا شکار ہے تو دوسری طرف وسط ایشیائی ریاستوں سے ایران اپنی تجارت، جو زیادہ تر چین کو تیل کی ترسیل ہے، کو جاری رکھے ہوئے ہے، لہذا امریکہ اس محاذ پر بھی بری طرح پٹ چکا ہے۔ تاہم صرف ایک محاذ ایسا ہے کہ جو امریکہ کی کامیابی کی نوید سناتا ہے اور وہ محاذ متحدہ عرب امارات کا جی سی سی اور اوپیک سے الگ ہونا ہے، ابراہم اکارڈ کا حصہ ہوتے ہوئے، امریکی و اسرائیلی افواج کے ساتھ تعاون کرنا ہے، جس کے پس پردہ متحدہ عرب امارات کے ریاستی مفادات بھی بہرطور پوشیدہ ہیں اور متحدہ عرب امارات کی یہ خواہش ہے کہ کسی طرح دیگر ریاستیں اپنی حیثیت کھو دیں اور خطے میں متحدہ عرب امارات کا طوطی، امریکی و اسرائیلی آشیر باد سے بولنے لگے، جس کے امکانات بہرحال کم دکھائی دیتے ہیں۔ دوسرا اہم سٹریٹجک نقصان جو صرف امریکہ کو نہیں بلکہ یورپی ممالک کو بھی بھگتنا پڑا ہے، وہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال ہے کہ اس جنگ سے قبل آبنائے ہرمز اہم ترین تجارتی گزرگاہ تھی اور دنیا بھر کی تجارت اس آبنائے سے ہوتی تھی، جس پر کسی بھی ریاست کا باقاعدہ کنٹرول نہیں تھا لیکن اس جنگ نے آبنائے ہرمز کو براہ راست ایران کے کنٹرول میں کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی تجارت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایران چونکہ حالت جنگ میں ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے متعلق مکمل تفتیش کرے، ان کے کوائف حاصل کرے اور اپنی قومی سلامتی کے لئے آبنائے ہرمز سے کسی بھی ایسے جہاز کو نہ گزرنے دے، جس پر ایران کوشک ہو یا ایسے جہاز سے ایران کی سلامتی کو کوئی خطرہ ہو، لہذا آبنائے ہرمز کو اولا مکمل طور پر بند کیا گیا جبکہ اب ایران نے اپنا پورا کنٹرول ثابت کرنے کے بعد، اپنی نگرانی اور چیکنگ کے بعد، تجارتی جہازوں کو نہ صرف گزرنے کی اجازت دی ہے بلکہ بحفاظت آبنائے ہرمز سے نکال بھی رہا ہے جبکہ امریکہ اس پر اچھا خاصا چیں بہ جبیں ہو رہا ہے، لیکن ایران اس کو پرکاہ کی حیثیت نہیں دے رہا۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور بعد ازاں ایران کے ٹول ٹیکس نافذ کرنے کے بعد، معاملات بدل چکے ہیں اور کئی ایک ممالک ایران سے گفت و شنید کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ کسی طرح ان کے پھنسے ہوئے جہاز آبنائے ہرمز سے نکل سکیں اور تجارت بحال ہو سکے۔ اس وقت سب سے زیادہ مشکل یورپ کو درپیش ہے کہ ایک طرف وہ نیٹو کا حصہ ہیں تو دوسری طرف ان کی معیشت کا دارومدار مشرق وسطیٰ سے حاصل ہونے والا وہ تیل ہے جو ان کے صنعتی پہیہ کو متحرک رکھے ہوئے ہے تو تیسری طرف ان کو روس کا خوف دلا کر ڈرایا ہوا ہے، یورپ کی صورتحال اس وقت ایسی ہے کہ وہ اپنے تیل کے ریزرو ذخائر استعمال کرنے پر آچکا ہے اور اگر جلد از جلد آبنائے ہرمز بحال نہیں ہوتی اور یورپ کو تیل کی ترسیل شروع نہیں ہوتی تو غالب امکان یہی ہے کہ یورپ میں لاک ڈائون کی سی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ کاروبار زندگی بری طرح تباہ ہو سکتا ہے اور بے روزگار بڑھ سکتی ہے، مہنگائی کا طوفان آ سکتا ہے اور پورا یورپ ایک بحران سے دوچار ہو سکتا ہے اور اس بحران کا بنیادی کردار ایک طرف ٹرمپ ہے تو دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہے، جس پر فرانس نے پابندیاں تو عائد کی ہیں لیکن جب تک ٹرمپ اس کی پشت پر موجود ہے، ایسی پابندیوں سے اسرائیل کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس صورتحال میں یورپ کے پاس زیادہ وقت نہیں بچا کہ یہ ریاستیں بلکہ ہر ریاست اپنے ریاستی مفادات کو مد نظر رکھ کر ہی فیصلے کرتی ہے تا کہ ملک و قوم کے بہترین مفادات کا تحفظ کیا جا سکے اور ملک میں ہر حوالے سے صورتحال کنٹرول میں رہے، موجودہ صورتحال میں یورپ کا پیمانہ صبر لبریز ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ ان کے ریاستی مفادات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور ٹرمپ اپنے دعوئوں کے برعکس نہ تو ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب کر سکا ہے اور نہ ہی اب تک آبنائے ہرمز کھلوانے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے ٹرمپ کی ہر کوشش اس کے منہ پر ماری جارہی ہے اور امریکہ کے دہشت ناک بحری بیڑوں کا غرور بھی ملیا میٹ ہو چکا ہے کہ امریکی بحری بیڑے، گو کہ ایرانی میزائلوں اورڈرونز کی رینج میں ہی ہیں لیکن جب تک وہ کوئی پیش قدمی نہیں کرتے یا ایران کے خلاف کسی حملے میں ملوث نہیں ہوتے یا ایران کی سلامتی کے لئے خطرہ نہیں بنتے، ایران کی جانب سے ان پر کوئی حملہ نہیں کیا جارہا لہذا امریکی بیڑا جب تک پرامن کھلے پانیوں میں ہے، ایران کو کوئی مسئلہ نہیں البتہ جیسے ہی یہ کسی حملے کے لئے متحرک ہوتے ہیں، ایران کی جانب سے فوری ردعمل اور جوابی کارروائی کرکے اسے واپس جانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ اب تک کی جنگ میں ٹرمپ اپنے چالیس سے زیادہ جنگی طیارے تباہ کروا چکا ہے جس کا تخمینہ اربوں ڈالر ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ اپنے کئی فوجی اڈے بھی تباہ کروا چکا ہے، ایران واضح طور پر مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنے قرب و جوار میں کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو گوارا نہیں کرے گا اور امریکہ کو اپنے تمام فوجی اڈے خطے سے ختم کرنا ہوں گے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ یا تو ٹرمپ انتہائی اقدام کرتے ہوئے براہ راست زمین فوج اتارے ،جسے فضائی حملوں کی مدد حاصل ہو یا کوئی ایسا معاہدہ کرے جس سے نہ صرف اس کی فیس سیونَگ ہو بلکہ آبنائے ہرمز بھی کھل جائے، جو بظاہر ہوتا دکھائی نہیں دیتا لہذا یورپ و دیگر ممالک براہ راست ایران سے اپنے اپنے معاملات طے کرتے نظر آتے ہیں اور امریکی ڈوبتی کشتی کو مزید سمندر برد کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنے تازہ ترین فون کال پر یاہو سے انتہائی تلخ زبان استعمال کی ہے اور اسے پاگل اور ناشکرا بھی کہا ہے، یہ تک کہا ہے کہ اگر ٹرمپ نہ ہوتا تو یاہو آج جیل میں ہوتا لیکن اس کے باوجود نیتن یاہو کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور وہ مسلسل اپنے مذموم مقاصد کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی وزیر کی جانب سے یہ تک کہہ دیا گیا ہے کہ اب امریکہ کو نہ کہنے کا وقت آ گیا ہے، حیرت ہے کہ کیا اسرائیل اس قدر طاقتور ہو گیا ہے کہ و ہ امریکہ کو نہ کہہ سکے ؟ ٹرمپ نے اسرائیل کو لبنان میں حملے روکنے کا بھی کہا ہے جس پر نیتن یاہو نے صاف انکار کر دیا ہے اور لبنان پر حملے جاری ہیں، جس کے جواب میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنگ بندی ہر محاذ پر لاگو ہوتی ہے اور جب تک اسرائیل، لبنان اور غزہ میں جنگ بندی پر عمل نہیں کرتا، ایران مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا۔ تادم تحریر ایران کی جانب سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے، ممکنہ طور پر تحریر شائع ہونے تک مذاکرات بحال ہو جائیں، کہا نہیں جا سکتا۔

جواب دیں

Back to top button