ColumnImtiaz Aasi

طالع آزماء سیاست دان اور طاقتور حلقے

طالع آزماء سیاست دان اور طاقتور حلقے
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی وفات کے بعد پاکستان کی سیاست میں طالع آزماء سیاست دانوں کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ قائد کی حیات میں نہ طاقتور حلقوں نہ ہی سیاست دانوں کو ملکی سیاست میں گڑ بڑ کرنے کا خیال آیا لیکن بانی پاکستان کی رحلت کے بعد ملکی سیاست میں طاقتور حلقوں کا اقتدار پر شب خون مارنے کا آغاز ہوتا ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے جاری ہے۔ عام طور لوگ طاقت ور حلقوں پر سیاست میں مداخلت کا الزام لگاتے ہیں حالانکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ دور جانی کی ضرورت نہیں پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے لئے سیاست دانوں کو طلب کرکے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے کے لئے کہا گیا ۔ اگر سیاست دان طالع آزما نہ ہوتے وہ عدم اعتماد کی بجائے عمران خان کو حکومت کرنے دیتے تو آج صورت حال کچھ اور ہوتی مگر اقتدار کی ہوس نے سیاست دانوں کو اندھا کر رکھا ہے۔ وہ کسی نہ کسی طور اقتدار پر براجمان رہنے کو سیاست سمجھتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے لئے سیاسی جماعتوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی مگر حکومت کے خلاف عدم اعتماد کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکی۔ ملکی سیاست میں سب سے بڑا گند خاندانی سیاست سے پڑا ہے سیاست دان پشت در پشت سیاست کو اپنی وراثت سمجھتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز سے پیپلز پارٹی جے یو آئی، اے این پی اور دیگر کئی جماعتوں میں دیکھ لیں عہدوں کی بندر بانٹ اپنوں میں ہو رہی ہے، جس کی بڑی وجہ پاکستان کی سیاست ایک بہت بڑا نفع بخش کاروبار بند چکا ہے، جس کا خاتمہ اتنا آسان نہیں ہے۔ سوال ہے سیاست دان جمہوریت پسند ہوتے وہ بڑے سے بڑے کے سامنے عدم اعتماد لانے سے انکار کر دیتے تو مستقبل قریب میں کوئی انہیں کسی سیاسی جماعت کی حکومت کے خاتمے کے لئے عدم اعتماد لانے کو نہیں کہتا۔ سیاسی جماعتوں کی جمہوریت کا یہ عالم ہے وہ اداروں کے بل بوتے پر حکومتوں کے خلاف تحریک اور دھرنے دیتے ہیں۔ نواز شریف کے خلاف عمران خان نے ملکی تاریخ کو طویل ترین دھرنا وفاقی دارالحکومت میں دیا، لیکن جب عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا گیا تو اس کی جماعت کے لوگوں کو فیض آباد سے آگے بڑھنے نہیں دیا گیا۔ ہاں البتہ پی ٹی آئی کے جو لوگ ڈی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ان کا انجام سبھی نے دیکھ لیا۔ ہم اگر نوا ز شریف حکومت کے خلاف عمران خان اور عمران خان کی جماعت کی احتجاجی تحریک کا موازنہ کریں تو حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ جن سیاسی جماعتوں کو طاقتور حلقوں کی آشیر باد ہوتی ہے وہی وفاقی دارالحکومت تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ملکی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو برطرف کرانے میں سیاسی جماعتوں کو عمل دخل تھا۔ پھر انہی سیاست دانوں کی خواہش بھٹو کو تختہ دار تک لے گئی۔ مجھے یاد ہے جب جنرل ضیاء الحق نے الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا تو بھٹو مخالف سیاست دانوں کے کہنے پر انتخابات کرانے کا ارادہ جنرل ضیاء نے ترک کر دیا۔ سیاست دانوں کو اس بات کا ادراک تھا ملک میں انتخابات ہوئے تو بھٹو کی پارٹی ایک بار پھر اقتدار میں آجائے گی لہذا انہوں نے جنرل ضیاء الحق کو الیکشن ملتوی کرانے پر قائل کر لیا۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو طاقتور حلقوں کو سیاسی جماعتوں میں ایسے ٹائوٹ جاتے ہیں جن کی سیاست کا مرکز و محور ذاتی مفادات ہوتا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں عوامی مینڈیت کے ساتھ جو کچھ ہوا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ فارم 47 کی مدد سے سیاسی جماعت کو اقتدار میں لایا گیا۔ پاکستان کے عوام انگشت بانداں رہ گئے۔ اور تو اور راولپنڈی کے کمشنر نے فارم 47کا بھانڈا پھوڑ کر انتخابات میں جانبداری کا پردہ چاک کر دیا۔ گلگت بلستان میں دیکھ لیں ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی مہم کی اجازت نہیں ہے۔ سوال ہے بانی پی ٹی آئی سے کسی کی کوئی مخاصمت اپنی جگہ سہی کیا ساری پی ٹی آئی خراب ہے ؟ ہم پھر یہ بات دہراہیں گے اگر سیاست دان راست باز ہوں اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہوں دنیا کی کوئی طاقت الیکشن میں دھاندلی کی مرتکب نہیں ہو سکتی۔ یہاں ایک دلچسپ واقع بیان کرتا ہوں۔ ایک سیاست دان کو الیکشن میں فارم 47کی بدولت انتخابات میں کامیابی کی اطلاع ملی تو حلقے کے لوگ جوق در جوق آنا شروع ہوگئے۔ خصوصا ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق یونین کونسلوں کے چیئرمین مٹھائی لے کر ان ہاں پہنچے تو ان کا سوال تھا کیا آپ لوگوں نے مجھے ووٹ دلوائے ہیں لہذا آپ یہ مٹھائی واپس لے جائیں۔ ملک وجود میں آیا تو راست باز سیاست دانوں اور بیورو کریٹس کی کھیپ پاکستان کے حصے میں آئی وقت گزرنے کے ساتھ ہماری سیاست اس قدر آلودہ ہو گئی عوام سیاست دانوں سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ موجودہ حکومت نے غریب عوام کو مہنگائی کا تحفہ دیا ہے کوئی چیز ایسی نہیں جس پر ٹیکس نہ لگا ہو۔ حالیہ امریکہ ایران جنگ کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عوام کی کمر توڑ دی۔ عوام کو آئی ایم ایف کا کہا جاتا ہے سوال ہے آئی ایم ایف حکومتی اخراجات کم سے کم کرنے پر ضرور ڈالتا ہے جب کہ اس کے برعکس سیاست دان ملک کو مقروض سے مقروض تر کرنے کی طرف گامزن ہیں۔ ملکی حالات اس قدر خراب ہیں کے پی کے اور خصوصا بلوچستان کے حالات اس قدر خراب ہوتے جا رہے ہیں عوام کا گھروں سے نکلنا محال ہو چکا ہے جب کہ اس کے برعکس حکمران ٹولہ سب اچھے کی رپورٹ دیتا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے بانی کو جیل میں ڈالا گیا ہے۔ سوال ہے اگر اس کے خلاف مقدمات ہیں تو ان کی سماعت ہونی چاہیے۔ عدلیہ پر قدغن ہے جج صاحبان آزادانہ فیصلے کرنے سے عاری ہیں۔ نہیں معلوم حکومت اس ملک کے ساتھ کیا کرنے کی خواہاں ہے۔ چند روز بعد گلگت بلستان کے الیکشن کے نتائج عوام کے سامنے ہوں گے۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لے لیا گیا ہے امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے نہیں دی جا رہی ہے، لیکن ملک میں جمہوریت ہے۔ آخر میں ملک میں جمہوریت کی پامالی کے ذمہ دار سیاست دان ہیں نہ کہ طاقتور حلقے ہیں، لہذا طاقتور حلقوں کو مورد الزام ٹھہرانا مناسب نہیں۔

جواب دیں

Back to top button