بیجنگ میں ٹرمپ کی آمد: دنیا کی نئی سیاسی صف بندی کا آغاز

بیجنگ میں ٹرمپ کی آمد: دنیا کی نئی سیاسی صف بندی کا آغاز
غلام مصطفیٰ جمالی
دنیا کی سیاسی تاریخ میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو صرف سفارتی ملاقاتیں نہیں بلکہ عالمی نظام کے نئے رخ کا اعلان بن جاتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تین روزہ دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچنا بھی ایسا ہی ایک اہم واقعہ ہے، جسے دنیا کے سیاسی تجزیہ نگار محض ایک روایتی دورہ نہیں بلکہ آنے والے برسوں کی عالمی سیاست، معیشت، دفاع، تجارت اور سفارت کاری کے مستقبل سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ امریکہ اور چین آج دنیا کی دو بڑی معاشی اور فوجی قوتیں ہیں، جن کے تعلقات کی نوعیت پوری دنیا کے سیاسی توازن پر اثر انداز ہوتی رہی ہے۔ جب بھی ان دونوں ممالک کے رہنما ایک میز پر بیٹھتے ہیں تو دنیا کے چھوٹے بڑے ممالک اپنے مستقبل کے بارے میں نئے اندازے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔
بیجنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کو چین غیر معمولی اہمیت دے رہا ہے۔ چینی قیادت اس دورے کو صرف دو ممالک کے تعلقات تک محدود نہیں بلکہ عالمی استحکام کے تناظر میں پیش کر رہی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان گزشتہ چند برسوں کے دوران تجارتی جنگ، ٹیکنالوجی کے میدان میں مقابلہ، جنوبی بحیرہ چین کی کشیدگی، تائیوان کے مسئلے اور عالمی اثر و رسوخ کی جنگ کے باعث شدید تنائو پایا جاتا رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں ٹرمپ کا چین جانا اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کو اب یہ احساس ہو چکا ہے کہ مسلسل تصادم نہ صرف ان کی اپنی معیشتوں کو نقصان پہنچائے گا بلکہ پوری دنیا کو بھی بحرانوں میں دھکیل سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اپنے منفرد سیاسی انداز کی وجہ سے دنیا بھر میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ روایتی سفارتی زبان کے بجائے سخت اور براہِ راست لہجے میں گفتگو کے لیے مشہور رہے ہیں۔ اپنے سابقہ دورِ حکومت میں انہوں نے چین کے خلاف سخت معاشی پالیسیاں اختیار کیں، چینی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے، چینی کمپنیوں پر پابندیاں لگائیں اور امریکی صنعتوں کو چین سے باہر منتقل کرنے کی کوششیں کیں۔ اس وقت دنیا کو محسوس ہوا تھا کہ شاید دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو جائے گی، لیکن وقت کے ساتھ عالمی معیشت کی حقیقتوں نے واضح کر دیا کہ امریکہ اور چین مکمل طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے۔ دونوں ممالک کی معیشتیں اس قدر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں کہ کسی بھی بڑے تنازعے کے اثرات دنیا کے ہر خطے تک پہنچ سکتے ہیں۔
چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے جبکہ امریکہ اب بھی پہلے نمبر پر موجود ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم ہزاروں ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کی صنعت، تجارت اور مالیاتی منڈیاں انہی دو طاقتوں کے استحکام سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات تیل، خوراک، روزگار، کرنسی اور عالمی منڈیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں کو عالمی معیشت کے مستقبل کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کئی بحرانوں کا شکار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، روس اور یوکرین کی جنگ، ایران کے گرد بڑھتے ہوئے خدشات، عالمی مہنگائی، توانائی بحران اور عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال نے دنیا کو پریشان کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے تو یہ عالمی منڈیوں کے لیے مثبت اشارہ ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ایشیائی ممالک اس دورے کو بڑی توجہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اب عالمی سیاست اور معیشت کا مرکز بتدریج ایشیا بنتا جا رہا ہے۔
تائیوان کا مسئلہ اس دورے کا سب سے حساس پہلو سمجھا جا رہا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ امریکہ مسلسل تائیوان کی سیاسی اور فوجی حمایت کرتا رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں امریکی وفود کے تائیوان دوروں اور اسلحے کی فراہمی کے باعث بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان شدید تنا پیدا ہوا۔ چین نے کئی مرتبہ خبردار کیا کہ تائیوان کے معاملے میں مداخلت ناقابلِ برداشت ہو گی۔ ایسی صورتحال میں ٹرمپ اور چینی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو کو عالمی امن کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی دونوں ممالک کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ مصنوعی ذہانت، برقی گاڑیوں، نیم موصل چپس، جدید مواصلاتی نظام اور خلائی تحقیق میں چین کی تیز رفتار ترقی امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ امریکہ نے چینی کمپنیوں کی ترقی محدود کرنے کے لیے مختلف پابندیاں عائد کیں جبکہ چین نے اپنی مقامی صنعتوں کو مزید مضبوط بنانا شروع کر دیا۔ نتیجتاً دنیا دو بڑے ٹیکنالوجی بلاکس میں تقسیم ہوتی دکھائی دینے لگی۔ اب اگر بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران اعتماد سازی کی کوئی فضا پیدا ہوتی ہے تو اس کے مثبت اثرات عالمی ٹیکنالوجی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
چین کی حکمتِ عملی ہمیشہ طویل المدتی رہی ہے۔ بیجنگ عالمی تجارت، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری اور سفارت کاری کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے پر یقین رکھتا ہے۔ ایک طرف چین اپنے بڑے معاشی منصوبوں کے ذریعے ایشیا، افریقہ اور یورپ تک رسائی حاصل کر رہا ہے تو دوسری جانب امریکہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو اپنی عالمی برتری کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس مقابلے میں اگر تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو یہ پوری دنیا کے لیے خوش آئند ہو سکتا ہے۔
پاکستان بھی اس تمام صورتحال کو گہری دلچسپی سے دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کے چین کے ساتھ مضبوط معاشی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی کئی شعبوں میں روابط برقرار ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ دونوں بڑی قوتوں کے درمیان متوازن تعلقات قائم رکھے۔ اگر امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے تو پاکستان کو بھی اقتصادی اور سفارتی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اور امن کے حوالے سے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
بیجنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا استقبال بھی سیاسی علامتوں سے بھرپور رہا۔ چین دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماضی میں عالمی سیاست میں امریکہ کی یکطرفہ برتری واضح دکھائی دیتی تھی، لیکن اب چین ایک ایسی طاقت کے طور پر سامنے آ چکا ہے جو عالمی فیصلوں میں اپنا موثر کردار چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا اب یک قطبی نظام سے نکل کر کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھتی ہوئی دکھاءی دے رہی ہے۔
دنیا کے مالیاتی ادارے، تجارتی منڈیاں اور سفارتی حلقے اس دورے کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر دونوں ممالک تجارت، ٹیکنالوجی اور سلامتی کے معاملات پر کسی حد تک اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو عالمی معیشت میں استحکام آ سکتا ہے۔ لیکن اگر مذاکرات ناکام رہتے ہیں تو نئے معاشی بحران جنم لے سکتے ہیں۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک ایسی صورتحال میں زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ ان کی معیشتوں کا بڑا حصہ عالمی تجارت سے وابستہ ہے۔
چین اپنی سفارت کاری میں ہمیشہ صبر، تسلسل اور معاشی مفادات کو ترجیح دیتا آیا ہے جبکہ امریکہ اکثر فوجی اور سیاسی دبائو کو بطور ہتھیار استعمال کرتا رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ اپنی پرانی پالیسیوں میں تبدیلی لائے گا یا مقابلے کی سیاست جاری رہے گی؟ اس سوال کا جواب شاید بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں سے سامنے آئے۔
عالمی سیاست میں شخصیات کا کردار بھی اہم ہوتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے غیر روایتی انداز کی وجہ سے کئی مرتبہ ایسے فیصلے کر چکے ہیں جنہوں نے دنیا کو حیران کیا۔ انہوں نے شمالی کوریا کے ساتھ براہِ راست ملاقاتیں کیں، مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے نئی پالیسیاں اپنائیں اور عالمی اداروں پر بھی سخت تنقید کی۔ اسی لیے چین کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ممکن ہے کہ وہ معاشی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے کسی نئے تجارتی معاہدے کی کوشش کریں یا پھر چین سے مزید رعایتیں حاصل کرنے کے لیے سخت موقف اختیار کریں۔
بیجنگ کے اس دورے کا ایک اہم پہلو عالمی امن سے بھی جڑا ہوا ہے۔ دنیا اس وقت کسی نئی بڑی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یوکرین جنگ نے پہلے ہی عالمی معیشت کو کمزور کر دیا ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بھی مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ایسے وقت میں اگر امریکہ اور چین تعاون کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو یہ عالمی امن کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر طاقت کے حصول کی سیاست جاری رہی تو آنے والے برسوں میں دنیا مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہے۔
یہ دورہ اس حقیقت کا بھی ثبوت ہے کہ عالمی طاقت کا مرکز بتدریج ایشیا کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ چین معاشی ترقی، ٹیکنالوجی، فوجی طاقت اور سفارت کاری کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔ امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے لیکن اب اسے چین جیسی ابھرتی ہوئی قوت کے ساتھ حساب کتاب کر کے چلنا پڑ رہا ہے۔ یہی نیا عالمی منظرنامہ ہے جہاں کسی ایک ملک کی مکمل بالادستی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔
بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتیں شاید فوری طور پر دنیا کو تبدیل نہ کریں، لیکن ان کے اثرات آنے والے کئی برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ تجارت سے لے کر فوجی حکمتِ عملی تک، کرنسی منڈیوں سے لے کر توانائی پالیسیوں تک، ہر شعبے میں اس دورے کے نتائج دکھائی دے سکتے ہیں۔ دنیا اب یہ دیکھنے کی منتظر ہے کہ آیا امریکہ اور چین اپنے اختلافات کو قابو میں رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا عالمی سیاست ایک نئی سرد جنگ کی طرف بڑھتی ہے۔
آج کی دنیا میں طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، سفارت کاری اور عوامی اعتماد سے بھی ماپی جاتی ہے۔ چین اور امریکہ دونوں کے پاس یہ تمام عناصر موجود ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ قوتیں دنیا کو استحکام فراہم کریں گی یا اپنے باہمی مقابلے کے باعث عالمی بحرانوں کو مزید بڑھائیں گی۔ بیجنگ میں ہونے والی یہ ملاقاتیں شاید اسی سوال کا ابتدائی جواب فراہم کریں۔ دنیا کی نظریں اس وقت بیجنگ پر جمی ہوئی ہیں جہاں دو بڑی طاقتیں صرف ایک دوسرے سے نہیں بلکہ مستقبل کے عالمی نظام سے بھی گفتگو کر رہی ہیں۔





