بلوچستان: فتنہ الہندوستان کے 17دہشتگرد ہلاک

اداریہ۔۔
بلوچستان: فتنہ الہندوستان کے 17دہشتگرد ہلاک
بلوچستان پاکستان کا نہایت اہم، حساس اور اسٹرٹیجک لحاظ سے کلیدی صوبہ ہے، جو اپنے وسیع رقبے، جغرافیائی محلِ وقوع، قدرتی وسائل اور گوادر جیسے عالمی اہمیت کے حامل منصوبوں کے باعث نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ خطہ گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی، انتہاپسندی اور بیرونی حمایت یافتہ پراکسی جنگوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ ایسے میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حالیہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ایک اہم پیش رفت ہیں جنہوں نے نہ صرف دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ ریاست کی عملداری اور عزم کو بھی واضح کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں 24مئی کے ٹرین واقعے کے بعد انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی گئیں۔ ان آپریشنز میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ متعدد ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور تیار شدہ آئی ای ڈیز کی برآمدگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ گروہ نہ صرف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث تھا بلکہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا۔ یہ پیش رفت محض ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ ریاستی اداروں کی مربوط حکمت عملی اور انٹیلی جنس کی موثر کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ جدید دور میں دہشت گردی روایتی محاذوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک پیچیدہ نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکی ہے جس میں مقامی سہولت کار، بیرونی پشت پناہی، مالی معاونت اور ڈیجیٹل رابطہ کاری شامل ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ بلوچستان میں ہونے والی یہ کارروائیاں اسی حکمت عملی کی عکاس ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان میں دہشت گرد عناصر نے خاص طور پر ترقیاتی منصوبوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کی ہیں۔ اس کا مقصد واضح ہے: صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنا، عوام اور ریاست کے درمیان خلیج ڈالنا اور ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنا۔ تاہم ریاستی اداروں کی بروقت کارروائیوں نے ان تمام عزائم کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ ٹرین واقعے کے بعد ہونے والی کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ریاست کسی بھی دہشت گردی کے واقعے کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑتی۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی غیر ریاستی مسلح گروہ کی موجودگی کو برداشت نہیں کرے گا۔ اس طرح کے آپریشنز نہ صرف فوری خطرات کو ختم کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں ہونے والی ممکنہ کارروائیوں کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ دوسری جانب یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں۔ اس کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں سیاسی استحکام، معاشی ترقی، تعلیم، روزگار کے مواقع اور مقامی آبادی کا اعتماد شامل ہو۔ بلوچستان جیسے وسیع اور وسائل سے مالا مال صوبے میں اگر ترقیاتی عمل کو تیز کیا جائے اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں تو دہشت گرد عناصر کے لیے بھرتی کا عمل خود بخود کمزور ہو جاتا ہے۔ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ امن، ترقی اور استحکام کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وہ تشدد اور انتہاپسندی کے خلاف ہیں اور ریاست پاکستان کا حصہ رہتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہونا چاہتے ہیں۔ ایسے میں یہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ نہ صرف سیکیورٹی کے اقدامات کو مضبوط بنائے بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو بھی اسی رفتار سے آگے بڑھائے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دہشت گرد گروہ اکثر نوجوانوں کو گمراہ کن پروپیگنڈے اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے اپنے نیٹ ورک میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی اس جدوجہد میں شامل کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو درست سمت فراہم کی جا سکے۔ حالیہ آپریشنز میں بھاری مقدار میں اسلحے اور دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ دہشت گرد عناصر بڑے پیمانے پر منظم کارروائیوں کی تیاری میں مصروف تھے۔ اگر یہ نیٹ ورک بروقت ختم نہ کیا جاتا تو مستقبل میں مزید سنگین واقعات رونما ہوسکتے تھے۔ اس تناظر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو ایک پیشگی اور دفاعی اقدام کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان نے ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے۔ بلوچستان میں حالیہ کارروائیاں اسی تسلسل کا حصہ ہیں جہاں ریاست اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ بلوچستان میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کامیاب آپریشنز ایک مثبت پیش رفت ہیں، تاہم یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ مستقل امن کے لیے ضروری ہے کہ سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ مکالمہ، معاشی مواقع اور سماجی ترقی کو بھی فروغ دیا جائے۔ ریاست، ادارے اور عوام اگر ایک صفحے پر آ جائیں تو کوئی بھی طاقت پاکستان کے امن کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہ وقت اتحاد، استقامت اور مستقل مزاجی کا تقاضا کرتا ہے، تاکہ دہشت گردی کی باقیات کو بھی مکمل طور پر ختم کر کے ایک پُرامن اور مستحکم ملک کی بنیاد رکھی جا سکے۔
شذرہ۔۔
آبی تحفظ، ڈیموں کی تعمیر ناگزیر
پاکستان میں پانی کے ذخائر میں مسلسل کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر حکومت کی جانب سے چار بڑے ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں کو تیز کرنا ایک خوش آئند اور ناگزیر اقدام ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، کرم تنگی ڈیم اور نئی گاج ڈیم جیسے منصوبے نہ صرف ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کریں گے بلکہ زرعی، صنعتی اور توانائی کے شعبوں کے لیے بھی انتہائی سودمند ثابت ہوں گے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو پانی کی قلت کے سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی، زرعی ضروریات میں اضافہ، بے ہنگم شہری توسیع اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ملک میں پانی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ دستیاب وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کئی برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ اگر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ نہ کیا گیا تو مستقبل میں ملک کو شدید آبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں بڑے آبی ذخائر کی تعداد آبادی اور ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی آبی ضروریات پوری کرنے کے لیے درجنوں بڑے اور سیکڑوں چھوٹے ڈیم تعمیر کیے ہیں جب کہ پاکستان اب بھی محدود ذخیرہ گاہوں پر انحصار کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بارشوں اور سیلابی پانی کا بڑا حصہ سمندر برد ہوجاتا ہے جب کہ خشک موسم میں پانی کی قلت شدت اختیار کر جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف بڑے ڈیموں تک محدود رہنے کے بجائے ملک بھر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیموں کی تعمیر پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ خاص طور پر بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا اور جنوبی پنجاب کے خشک علاقوں میں ایسے منصوبے زرعی پیداوار بڑھانے، زیر زمین پانی کی سطح بہتر بنانے اور مقامی آبادی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جب کہ پانی کے ذخائر اس رفتار سے نہیں بڑھ رہے۔ یہ صورت حال مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ حکومت، متعلقہ اداروں اور تمام سیاسی قوتوں کو آبی منصوبوں کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے فوری اور موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ پانی کسی بھی ملک کی معاشی ترقی، غذائی تحفظ اور قومی استحکام کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر آج دور اندیش فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں سنگین مشکلات کا سامنا کریں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان بڑے اور چھوٹے دونوں نوعیت کے ڈیموں کی تعمیر کو تیز کرے تاکہ ملک کو ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال آبی مستقبل فراہم کیا جا سکے۔




