عزت

عزت
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
ایک بادشاہ تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں کئی جنگیں جیتی تھیں۔ اس کی سلطنت تین سمندروں اور سات پہاڑی سلسلوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ خزانے سونے سے بھرے تھے، محل ہیرے جواہرات سے جگمگاتے تھے اور دربار میں داخل ہونے والا ہر شخص جھک کر سلام کرتا تھا۔ ایک دن اس نے اپنے وزیر سے پوچھا: ’’ کیا تم سمجھتے ہو لوگ دِل سے میری عزت کرتے ہیں؟‘‘۔ وزیر نے جواب دیا: ’’ حضور، لوگ آپ کی طاقت سے ڈرتے ہیں، عزت نہیں کرتے‘‘۔
بادشاہ خاموش ہوگیا۔ چند برس بعد اس کی حکومت ختم ہوگئی۔ فوجیں بکھر گئیں۔ تاج اتر گیا۔ خزانے لوٹ لیے گئے۔ جب وہ ایک عام آدمی کی طرح بازار سے گزرا تو کسی نے اسے پہچانا بھی نہیں۔
اس دن اسے معلوم ہوا کہ اقتدار وراثت میں مل سکتا ہے، لیکن عزت کبھی وراثت میں نہیں ملتی۔ عزت ایک ایسی سلطنت ہے جو انسان کو خود فتح کرنی پڑتی ہے۔
دنیا کی تاریخ میں بے شمار شہزادے پیدا ہوئے جنہیں تاج وراثت میں ملا لیکن عزت نہ مل سکی۔ دوسری طرف بے شمار ایسے لوگ پیدا ہوئے جن کے پاس نہ نسب تھا، نہ دولت، نہ اقتدار، لیکن آج صدیوں بعد بھی انسانیت ان کے سامنے سر جھکاتی ہے۔
سکندر اعظم دنیا فتح کر سکا، لیکن سقراط کے پاس کوئی فوج نہیں تھی۔ آج بھی فلسفے کی تاریخ میں سقراط کا نام سکندر کے کئی جرنیلوں سے بڑا ہے۔
چنگیز خان نے شہروں کو جلا دیا، مگر رومی نے دلوں کو آباد کیا۔ آج دنیا تلوار سے زیادہ مثنوی کو یاد رکھتی ہے۔ یہی قدرت کا عجیب قانون ہے۔ طاقت جسموں کو جھکا سکتی ہے، لیکن عزت صرف کردار پیدا کرتا ہے۔ قدیم چین کا ایک محاورہ ہے۔ ’’ جو شخص خود اپنی عزت نہیں کرتا، دنیا بھی اس کی عزت نہیں کرتی‘‘۔ عربوں کا مقولہ ہے۔ ’’ انسان کی قیمت اس کے عمل سے ہوتی ہے، اس کے نسب سے نہیں‘‘۔ افریقہ کی دانش کہتی ہے۔’’ شیر کا بچہ پیدا ہونا آسان ہے، شیر بننا مشکل ہے‘‘۔ یہ تمام اقوال دراصل ایک ہی حقیقت کے مختلف اظہارات ہیں۔ انسان عزت کا وارث نہیں ہوتا، عزت کا معمار ہوتا ہے۔ فریڈرک نطشے کہتا تھا۔ ’’ جو شخص خود کو فتح نہیں کر سکتا، وہ دنیا کی کوئی فتح اپنے نام نہیں کر سکتا‘‘۔ نطشے کے نزدیک عظمت کا آغاز خودی کی تعمیر سے ہوتا ہے۔ اس کے ’’ اوبر مینش‘‘ کا مطلب ہی یہ تھا کہ انسان اپنی کمزوریوں پر غالب آکر اپنی شخصیت کو خود تخلیق کرے۔
یعنی عزت کوئی موروثی شے نہیں، بلکہ ایک مسلسل انتخاب ہے۔ ہر دن کا انتخاب۔ ہر لمحے کا انتخاب۔ ہر کردار کا انتخاب۔ البر کامیو نے ’’ سیزیفس‘‘ کی کہانی میں بتایا کہ عظمت نتیجوں سے نہیں، جدوجہد سے پیدا ہوتی ہے۔ پتھر بار بار پہاڑ سے نیچے گرتا ہے، لیکن انسان ہر بار اسے دوبارہ اوپر لے جاتا ہے۔ عزت بھی اسی جدوجہد کا دوسرا نام ہے۔ افلاطون نے اپنی ’’ جمہوریہ‘‘ میں لکھا کہ ایک عادل انسان، ایک کامیاب ظالم سے زیادہ عظیم ہوتا ہے۔ حقیقت ایک ہی ہے۔ عزت اندر سے جنم لیتی ہے، باہر سے نہیں۔ نفسیات بھی یہی کہتی ہے۔ جدید سائنس کے مطابق انسانی دماغ دوسروں کے رویوں سے پہلے اپنے بارے میں ہمارے رویے کو پڑھتا ہے۔ جو شخص خود کو کمتر سمجھتا ہے، اس کی حرکات، آواز، جسمانی زبان اور فیصلے اس احساس کو ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ اور جو شخص اپنے وجود کی قدر جانتا ہے، اس کی خاموشی بھی اعتماد پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے خود اعتمادی اکثر الفاظ سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔
اسلام نے اس حقیقت کو چودہ سو سال پہلے بیان کر دیا تھا۔ قرآن مجید فرماتا ہے: ’’ ہم نے انسان کو عزت بخشی‘‘۔
یہ عزت نسل، رنگ، قبیلے، زبان یا دولت سے مشروط نہیں۔ اسلام کی پوری اخلاقی عمارت اسی اصول پر قائم ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کے تقویٰ، کردار اور عمل میں ہے۔ یعنی عزت کا سرچشمہ کردار اور اصول ہیں، نسب اور اقتدار نہیں۔ کیونکہ سلطنتیں زمین پر قائم ہوتی ہیں، جبکہ عزت دلوں میں۔ اور دلوں کی سلطنتیں زیادہ دیرپا ہوتی ہیں۔ قدرت کا قانون بھی یہی ہے۔ درخت کو آسمان کی بلندی نہیں بچاتی، اس کی جڑیں بچاتی ہیں۔ دریا اپنی آواز سے نہیں، اپنے بہائو سے عظیم بنتا ہے۔ سورج اپنی روشنی کا اعلان نہیں کرتا، پھر بھی پوری زمین اسے تسلیم کرتی ہے۔ عزت بھی ایسی ہی خاموش قوت ہے۔ اسے ثابت نہیں کرنا پڑتا۔ یہ خود ثابت ہوجاتی ہے۔ رومی نے کہا تھا۔ ’’ جو شخص اپنے اندر روشنی پیدا کرتا ہے، دنیا خود اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے‘‘۔ خلیل جبران نے لکھا۔ ’’ عظمت اس میں نہیں کہ لوگ تمہیں کتنا جانتے ہیں، عظمت اس میں ہے کہ تم خود کو کتنا جانتے ہو‘‘۔ غالب نے صدیوں پہلے انسان کی اصل وقعت ایک مصرعے میں بیان کردی۔
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
یہی اصل مسئلہ ہے۔ ہر شخص پیدا تو انسان ہوتا ہے، مگر عزت صرف وہ حاصل کرتا ہے، جو اپنے وجود کو شعور، کردار اور ذمہ داری سے تعمیر کرتا ہے۔ آخر میں سوال یہ نہیں کہ دنیا ہمیں کتنی عزت دیتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود اپنی نظروں میں قابلِ عزت ہیں؟ کیونکہ جو شخص اپنی ذات کے سامنے سرخرو ہوجاتا ہے، دنیا کی کوئی عدالت اسے ذلیل نہیں کر سکتی۔ اور جو شخص اپنی ضمیر کی عدالت میں مجرم ہو، دنیا کے تمام تاج، تمام تخت، تمام ایوان اور تمام سلطنتیں بھی اسے عزت نہیں دے سکتیں۔ انسان کو نہ عزت وراثت میں ملتی ہے اور نہ ذلت وراثت میں ملتی ہے۔ عزت ایک انتخاب ہے۔ ایک جدوجہد ہے۔ ایک اخلاقی تعمیر ہے۔
اور شاید کائنات کا سب سے بڑا انصاف بھی یہی ہے، کہ دنیا کی ہر چیز چھینی جاسکتی ہے، مگر وہ عزت نہیں جو انسان اپنے کردار سے کماتا ہے۔




