Column

دہشت گردی کا نیا محور: بی ایل اے اور مٹتی ہوئی

دہشت گردی کا نیا محور: بی ایل اے اور مٹتی ہوئی نظریاتی تفریق

تحریر: پروفیسر وسیم آکاش

دہشت گردی دورِ حاضر کا ایک ایسا ناسور ہے جو کسی بھی معاشرے کی امن، معاشی ترقی اور سماجی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ یہ محض چند گولیوں یا دھماکوں کا نام نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سفاکانہ حربہ ہے جس کا بنیادی مقصد معصوم انسانوں کے دلوں میں خوف و ہراس پھیلا کر اپنے مذموم سیاسی، تزویراتی یا انتہا پسندانہ مقاصد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ دہشت گردی کا نہ تو کوئی دین ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی قومیت بلکہ یہ جہاں بھی سر اٹھاتی ہے وہاں صرف تباہی، پسماندگی اور انسانی المیے جنم لیتے ہیں۔ آج کے دور میں جب مختلف دہشت گرد گروہ اپنے نظریاتی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر صرف ریاستوں کو کمزور کرنے کے لیے آپس میں گٹھ جوڑ کر رہے ہیں تو اس لعنت کا خاتمہ صرف طاقت کے بل بوتے پر ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیی قوموں کو فکری یکجہتی، ٹھوس معاشی اصلاحات، اور ایک ایسے بیانیے کی ضرورت ہے جو انتہا پسندی کی جڑوں کو ہمیشہ کے لیے اکھاڑ پھینکے۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان کی اندرونی سلامتی کو درپیش چیلنجز نے ایک نیا اور انتہائی خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ ماضی میں عسکریت پسندی کا مطالعہ کرنے والے ماہرین دہشت گرد تنظیموں کو ان کے نظریات کی بنیاد پر الگ الگ خانوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔ ایک طرف خود کو سیکولر اور قوم پرست کہنے والی تنظیمیں ( جیسے بلوچستان لبریشن آرمی یا BLA) تھیں، تو دوسری طرف مذہبی انتہا پسندی کا چغہ اوڑھے پُرشدد گروہ ( جیسے تحریک طالبان پاکستان یا TTPاور القاعدہ) ۔ لیکن آج کا تلخ سچ یہ ہے کہ یہ نظریاتی سرحدیں مکمل طور پر مٹ چکی ہیں اور پاکستان کو کمزور کرنے کے واحد ایجنڈے پر ان تمام گروہوں نے ایک ’’ خوفناک گٹھ جوڑ‘‘ (Militant Nexus)قائم کر لیا ہے۔

مبصرین کے لیے اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے درمیان آپریشنل، تزویراتی (strategic)اور لاجسٹک روابط مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ یہ گٹھ جوڑ محض کسی نظریاتی ہم آہنگی کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ایک خالصتاً ’’ تجارتی اور تزویراتی شراکت داری‘‘ ہے، جہاں جیو پولیٹیکل مقاصد اور ریاستِ پاکستان کے خلاف نفرت ان سب کو ایک میز پر لے آئی ہے۔ان تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ کا سب سے بڑا ثبوت ان کے حملوں کے بدلتے ہوئے طریقے ہیں۔ بی ایل اے تاریخی طور پر گوریلا جنگ اور روایتی حملوں تک محدود تھی، لیکن حالیہ سالوں میں بی ایل اے کے ’’ مجید بریگیڈ‘‘ نے جس طرح خودکش کو اپنایا ہے وہ القاعدہ اور ٹی ٹی پی کا خاصہ رہا ہے۔ دھماکہ خیز مواد کی تیاری، کار بم دھماکے، اور انٹرنیٹ و سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم چلانے کی تربیت بی ایل اے کو اسی نیٹ ورک سے منتقل ہوئی ہے۔ انٹیلی جنس رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں اور پاک، افغان سرحدی پٹی پر ان گروہوں نے معلومات اور ہتھیاروں کے تبادلے کے لیے مشترکہ نیٹ ورک قائم کر رکھے ہیں۔ اگست 2021 ء میں افغانستان میں آنے والی تبدیلی کے بعد خطے کے سیکیورٹی منظرنامے میں غیر معمولی تبدیلیاں آئیں۔ ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں حاصل کیں، اور انہی پناہ گاہوں کا فائدہ بی ایل اے کے کمانڈروں نے بھی اٹھایا۔

حالیہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور عالمی سیکیورٹی مانیٹرنگ رپورٹس ( بشمول اقوامِ متحدہ کی رپورٹس) یہ ظاہر کرتی ہیں کہ افغانستان کے جنوبی اور مشرقی صوبوں میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے جنگجو نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں بلکہ بعض مقامات پر مشترکہ تربیتی کیمپس بھی استعمال کر رہے ہیں۔ جب ریاستِ پاکستان ایک گروہ کے خلاف گھیرا تنگ کرتی ہے تو دوسرا گروہ اسے لاجسٹک سپورٹ اور محفوظ راستہ فراہم کرتا ہے۔ اس گٹھ جوڑ کا سب سے خطرناک پہلو بین الاقوامی گلفام اور بیرونی فنڈنگ ہے۔ بی ایل اے کا بنیادی ہدف پاکستان کی معاشی ترقی کے منصوبے بالخصوص سی پیک اور گوادر پورٹ ہیں۔ چین کے شہریوں اور سرمایہ کاری پر حملے کر کے بی ایل اے پاکستان کو معاشی طور پر تنہا کرنا چاہتی ہے۔ حالیہ شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بی ایل اے نے عورتوں کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

دوسری جانب القاعدہ اور ٹی ٹی پی کا ہدف بھی پاکستانی ریاست کو کمزور کرنا ہے۔ اس مشترکہ مقصد کی وجہ سے ان تمام تنظیموں کو ان بیرونی طاقتوں کی سرپرستی اور فنڈنگ حاصل ہو جاتی ہے جو خطے میں پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا چاہتی ہیں۔ یہ بیرونی فنڈنگ ان گروہوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے ذریعے گٹھ جوڑ کو برقرار رکھنے کا ایندھن بنتی ہے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور القاعدہ کا یہ گٹھ جوڑ یہ ثابت کرتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، قوم یا نظریہ نہیں ہوتا۔ ان کا واحد نظریہ انتشار اور تباہی ہے۔ پاکستان کو اب ان گروہوں کے خلاف الگ الگ خانوں میں سوچنے کے بجائے ایک جامع اور یکجا انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی کیونکہ جب دشمن متحد ہو کر وار کر رہا ہو تو اس کا جواب بھی مکمل ریاستی طاقت اور قومی اتحاد سے ہی دیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button