Column

بھیا جی۔۔۔ اسمائل!

بھیا جی۔۔۔ اسمائل!
کالم نگار :امجد آفتاب
مستقل عنوان:عام آدمی
کچھ عرصہ پہلے بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان کی فلم دبنگ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ فلم میں مرکزی ولن چھیدی سنگھ ( جس کا کردار سونو سود نے ادا کیا) کے ساتھ ہر وقت ایک کیمرہ مین موجود رہتا تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ چھیدی سنگھ کسی سے مل رہا ہو، کسی کو دھمکا رہا ہو یا ابھی ابھی کسی کی خوب دھلائی کرکے فارغ ہوا ہو، کیمرہ مین فوراً آگے بڑھتا، کیمرہ سیدھا کرتا اور بڑے اعتماد سے کہتا ’’ بھیا جی۔۔۔ اسمائل!‘‘۔ پھر تصویر بن جاتی، جیسے ظلم نہیں، کوئی کارنامہ سرانجام دیا گیا ہو۔ اس وقت یہ منظر صرف فلمی مزاح محسوس ہوا تھا، لیکن آج جب اپنے معاشرے پر نظر پڑتی ہے تو بار بار وہی مکالمہ کانوں میں گونجتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ فلم ختم ہو گئی، مگر ’’ بھیا جی.۔۔۔ اسمائل!‘‘۔ ہمارے قومی رویّے کا حصہ بن گیا۔ آج ہمارے ہاں خدمت سے پہلے کیمرہ پہنچتا ہے اور کارکردگی سے پہلے تشہیر۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر سیاسی جماعت، ہر سرکاری محکمہ، ہر فلاحی ادارہ اور ہر سماجی تنظیم نے ایک مستقل فوٹوگرافر رکھ چھوڑا ہے، جس کا اصل کام صرف ایک جملہ کہنا ہے۔۔۔ ’’ بھیا جی۔۔۔ ذرا اسمائل!‘‘۔
چند روز قبل ایک فلاحی تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک ضعیف شخص کو راشن کا تھیلا دیا جا رہا تھا۔ تھیلا اس کے ہاتھ میں دینے سے پہلے اسے تین مرتبہ جگہ بدلنے کا کہا گیا۔ کبھی روشنی کم تھی، کبھی لوگو نظر نہیں آ رہا تھا، کبھی زاویہ درست نہیں تھا۔ آخرکار تصویر بن گئی تو تھیلا اس کے حوالے کیا گیا۔ میں دیر تک اس بوڑھے کے چہرے کو دیکھتا رہا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ضرور تھی، مگر آنکھوں میں عجیب سی بے بسی تھی۔ اس لمحے محسوس ہوا کہ اسے راشن سے زیادہ اپنی عزت عزیز تھی، مگر مجبوری نے اسے کیمرے کے سامنے کھڑا کر دیا۔ بے اختیار مجھے چھیدی سنگھ کا وہی مکالمہ یاد آیا۔۔۔ ’’ بھیا جی۔۔۔ اسمائل!‘‘۔
شاید ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ غریب اب انسان کم اور تشہیر کا ذریعہ زیادہ بن گیا ہے۔ اس کی غربت کسی کی سیاسی مہم کا پس منظر بنتی ہے، کسی ادارے کی کارکردگی کی رپورٹ کا حصہ، کسی این جی او کی سالانہ رپورٹ کی زینت اور کسی سوشل میڈیا پیج کی وائرل پوسٹ۔ اسلام نے تو ہمیں سکھایا تھا کہ نیکی اس انداز سے کرو کہ ایک ہاتھ دے تو دوسرے ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو، مگر ہم نے نیکی کو بھی اشتہار بنا دیا ہے۔ اب صدقے سے زیادہ اس کی تصویر اہم ہے، خدمت سے زیادہ اس کا کیپشن، اور اخلاص سے زیادہ اس کی ’’ ریچ‘‘۔ یہ بیماری صرف خیرات تک محدود نہیں رہی۔ سرکاری دفاتر میں مہینوں فائلیں میزوں پر گرد کھاتی رہتی ہیں۔ سائل ایک میز سے دوسری میز تک چکر لگاتا رہتا ہے، مگر جیسے ہی اطلاع ملتی ہے کہ وزیر، کمشنر، ڈپٹی کمشنر یا اسسٹنٹ کمشنر دورے پر آ رہے ہیں، پورا دفتر اچانک جاگ اٹھتا ہے۔ گملے سیدھے ہو جاتے ہیں، دیواریں صاف ہونے لگتی ہیں، بند کمپیوٹر چل پڑتے ہیں، اور وہ ملازم بھی مصروف دکھائی دینے لگتے ہیں جنہیں عوام نے شاید کئی ہفتوں سے نہیں دیکھا ہوتا۔ پھر ایک اجلاس ہوتا ہے۔ چائے آتی ہے۔ معدنی پانی کی بوتلیں میز پر سجتی ہیں۔ فائلیں کھلتی ہیں۔ چند رسمی ہدایات جاری ہوتی ہیں۔ اور آخر میں۔۔۔ اجلاس کی سب سے کامیاب کارروائی انجام دی جاتی ہے، اجتماعی تصویر۔ اگلے دن سرکاری سوشل میڈیا صفحات پر کیپشن لکھا ہوتا ہے،’’ عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے اہم اجلاس‘‘۔
عوام حیران ہوتے ہیںکہ مسئلہ واقعی حل ہوا تھا یا صرف تصویر اچھی آ گئی تھی؟ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں بعض اجلاس فیصلے کرنے کے لیے نہیں بلکہ گروپ فوٹو بنوانے کے لیے منعقد ہوتے ہیں، کیونکہ فیصلوں کا اثر زمین پر کم اور تصویروں کا اثر ٹائم لائن پر زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ ہسپتالوں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ عام دنوں میں مریض گھنٹوں ڈاکٹر کا انتظار کرتا ہے، دوائیں بازار سے خریدنے پر مجبور ہوتا ہے، وارڈوں میں بستر کم اور مریض زیادہ ہوتے ہیں، مگر جیسے ہی کسی وزیر، رکنِ اسمبلی یا اعلیٰ افسر کے دورے کی خبر ملتی ہے، پورا ہسپتال دلہن کی طرح سج جاتا ہے۔ ڈاکٹر وقت پر، نرسیں مستعد، وارڈ صاف، بسترے سیدھے. چند لمحوں کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحت کا نظام واقعی مثالی ہو۔ پھر تصویر بنتی ہے اور اگلے دن سب کچھ دوبارہ معمول پر آ جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بھی کچھ ایسا ہی منظر ہے۔ سارا سال بچوں کے لیے ٹوٹا ہوا فرنیچر، خراب پنکھے، اساتذہ کی کمی اور بنیادی سہولتوں کا فقدان موضوعِ گفتگو رہتا ہے، لیکن اگر کسی تقریب میں چند بچوں میں بستے، لیپ ٹاپ یا اسناد تقسیم کرنی ہوں تو کیمروں کی قطار لگ جاتی ہے۔ تقریب ختم ہونے کے بعد بچے اپنی کلاسوں میں لوٹ جاتے ہیں اور مسائل بھی اپنی جگہ واپس آ جاتے ہیں، مگر تصاویر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی ہیں۔
بلدیاتی اداروں نے تو اس فن کو باقاعدہ مہارت بنا لیا ہے۔ دو مزدور گلی میں جھاڑو لگا رہے ہوں تو ان سے زیادہ لوگ تصویریں بنوانی کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ صفائی آدھے گھنٹے کی، فوٹو سیشن دو گھنٹے کا۔ اگلے دن کچرا پھر اپنی جگہ، مگر سوشل میڈیا پر صفائی مہم ’’ کامیاب‘‘ قرار دی جا چکی ہوتی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کا حال اس سے بھی دلچسپ ہے۔ کہیں ربن کاٹا جا رہا ہے، کہیں تختی سے پردہ ہٹایا جا رہا ہے، کہیں ایک پودا لگانے کے لیے آٹھ افراد ایک ہی بیلچہ پکڑے کھڑے ہیں۔ دیکھنے والا حیران ہوتا ہے کہ پودا لگایا جا رہا ہے یا اجتماعی تصویر کی تیاری ہو رہی ہے۔ بعض منصوبے تو ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے زمین پر بعد میں اور تصویروں میں پہلے مکمل ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی محکمے کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ مکمل ہونے والے منصوبوں سے زیادہ افتتاحی تقریبات، شیلڈیں وصول کرنے کے مناظر، یادگاری گروپ فوٹو اور سوشل میڈیا پوسٹیں موجود ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بعض اداروں کا سب سے کامیاب شعبہ تعلقاتِ عامہ ہو، باقی تمام شعبے صرف اس کے ساتھ تصویریں بنوانے کے لیے قائم کیے گئے ہوں۔
سوشل میڈیا نے اس رجحان کو وبا بنا دیا ہے۔ پہلے لوگ نیکی کرتے تھے، پھر کسی کو خبر ہوتی تھی۔ اب پہلے موبائل کا کیمرہ آن ہوتا ہے، پھر نیکی شروع ہوتی ہے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا ہو، کسی مسافر کو پانی پلانا ہو، کسی یتیم کی مدد کرنی ہو یا کسی مجبور کے آنسو پونچھنے ہوں، پہلے ویڈیو بنتی ہے، پھر خدمت ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نیکی نہیں، کانٹینٹ تیار کیا جا رہا ہے۔
اصل مسئلہ کیمرہ نہیں، کیمرے کی سمت ہے۔ اگر کیمرہ عوام کے مسائل، محرومیوں اور حقیقت کی طرف رہے تو وہ صحافت بنتا ہے، لیکن اگر ہر وقت صرف اپنے چہرے تلاش کرے تو وہ تشہیر کا آلہ بن جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تصاویر کیوں بنتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب ہر خدمت کی رسید ایک تصویر ہے؟ کیا ہر نیکی کی قیمت ایک فیس بک پوسٹ ہے؟ کیا سرکاری کارکردگی اب رپورٹوں اور عوامی اطمینان سے نہیں بلکہ لائکس، ویوز اور شیئرز سے ناپی جائے گی؟
ہمارا اصل بحران وسائل کی کمی نہیں، اخلاص کی کمی ہے۔ یہاں منصوبے کم ناکام ہوتے ہیں، ان کی تشہیر زیادہ کامیاب ہوتی ہے۔ سڑک مکمل ہونے سے پہلے افتتاحی بینر تیار ہو جاتا ہے، ہسپتال میں سہولتیں پہنچنے سے پہلے دورے کی تصاویر وائرل ہو جاتی ہیں، سکول میں اساتذہ آنے سے پہلے تصویری رپورٹ شائع ہو جاتی ہے، اور غریب کے گھر کا چولہا جلنے سے پہلے اس کے ہاتھ میں امدادی تھیلا پکڑا کر مختلف زاویوں سے تصویریں بنا لی جاتی ہیں۔
اس ملک میں اب کام کرنے والے سے زیادہ، کام کرتے ہوئے نظر آنے والا کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ فائلیں کم حرکت کرتی ہیں، کیمرے زیادہ حرکت کرتے ہیں۔ ترقی اب سڑکوں پر کم اور ٹائم لائن پر زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اگر صرف تصاویر ہی ترقی کی علامت ہوتیں تو شاید پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک میں شمار ہوتا، کیونکہ یہاں ہر روز ہزاروں فوٹو سیشن ہوتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی کی تصویر آج بھی وہی ہے؛ مہنگائی، بے روزگاری، خستہ حال سکول، ادویات سے محروم ہسپتال، ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور دفاتر میں دھکے کھاتا ہوا شہری۔ عوام کو اب مسکراتے ہوئے چہروں سے زیادہ اپنے بچوں کا محفوظ مستقبل چاہیے۔ افتتاحی ربنوں سے زیادہ مکمل ہونے والے منصوبے درکار ہیں۔ اشتہاری نعروں سے زیادہ عملی خدمت چاہیے۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے کیمروں کا رخ چہروں سے ہٹا کر کردار کی طرف موڑ دیں، کیونکہ تاریخ تصویروں کی تعداد نہیں گنتی، کرداروں کی کارکردگی یاد رکھتی ہے۔ ورنہ آنے والی نسلیں ہماری تقریروں، اجلاسوں اور دعوں کو شاید بھول جائیں، مگر اگر انہوں نے ہمارے دور کا صرف ایک جملہ لکھا تو وہ یہی ہوگا۔۔۔
’’ بھیا جی۔۔۔ اسمائل!

جواب دیں

Back to top button