ColumnImtiaz Aasi

امریکہ ایران جنگ کا مستقبل

امریکہ ایران جنگ کا مستقبل

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

جیسا کہ اخبارات میں آیا ہے ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی بدستور جاری رہے گی۔ قطر کی ثالثی میں ایران نے جو شرائط پیش کیں امریکی صدر کو منظور نہیں ہیں۔ بظاہر یہ جنگ امریکہ اور ایران کے درمیان ہے، لیکن اس سے خطے کے ملکوں کے علاوہ دنیا بھر کے ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک طرف آبنائے ہرمز کی بندش اور دوسری طرف یمن کے حوثیوں کی طرف سے باب المندب کی بندش سے دنیا میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے لوگوں کو مہنگائی کا بھی سامنا ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو امہ کو مسائل سے دوچار کرنے کے عالمی ایجنڈے پر کام جاری ہے، ورنہ اگر امریکہ امن کا خواہاں ہوتا تو جنگ و جدل کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ مسلم ملکوں کے خلاف سازش کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے ظاہری طور پر مسلمان ملکوں میں اڈے قائم کرکے انہیں باآور کرایا اڈے ان کی حفاظت کے لئے قائم کئے گئے ہیں، لیکن جب امریکہ اور اسرائیل نے باہم مل کر ایران پر حملہ کیا تو انہی اڈوں سے ایران پر میزائل داغے گئے، جس کے جواب میں ایران نے بھی اپنے دفاع کے لئے میزائلوں کی بھرمار کی، جس کے نتیجے میں امریکیوں کو چھپنے کے جگہ نہیں مل رہی تھی۔ ایران کی ہزاروں سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایرانی قوم ناقابل شکست ہے۔ سب سے بڑی بات ایرانی عوام نے پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ کئی عشروں سے اقتصادی پابندیوں کی شکار ایرانی قوم نے دنیا کو یہ باآور کرا دیا اقتصادی پابندیاں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ حال ہی میں ایران پر فضائی پابندیاں لگا دی گئی ہیں، تاہم اس کے باوجود امید کی جا سکتی ہے ایران کبھی سرنگوں نہیں ہوگا۔ ایران کے ساتھ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کی طرف پیش قدمی اور باب المندب کو بند کرکے باغی حوثیوں نے دنیا کو بتا دیا دنیا کی سپر پاور ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکہ ، برطانیہ جانے کن کن ملکوں سے مدد کی درخواست کی، مگر حوثیوں کے خلاف کوئی ملک آگے بڑھنے کو تیار نہیں ہوا جس کی بڑی وجہ یورپی ملکوں کا تیل باب المندب سے گزر کر جاتا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے حوثیوں نے عمان میں امریکیوں سے مذاکرات کے دوران انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ حوثی امریکی جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔ سوال ہے یمن کی کل آبادی کا 35فیصد حوثی ہیں، مگر دنیا کی سپر پاور ان کے خلاف اقدام کرنے سے کیوں گریزاں ہے؟۔ یمن کے حوثیوں نے جن جن جگہوں پر ٹھکانے بنائے ہیں، وہ بہت بلند وبالا مقامات پر ہیں۔ زمینی فوج حویثوں کو کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ تازہ ترین صورت حال میں امریکہ سیف راستے کا خواہاں ہے ۔ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی جو جگ ہنسائی ہوئی ہے وہ دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا ہے۔ گو پاکستان اور ترکیہ، خصوصا ہمارے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم اس کے باوجود ایران کی اپنی ترجیحات ہیں۔ اس ناچیز کے خیال میں ایران کا موقف بالکل درست ہے اگر اسرائیل ایٹم بم رکھ سکتا ہے تو ایران کیوں نہیں رکھ سکتا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے دنیا میں تعداد میں سب سے زیادہ ہونے کے باوجود مسلمان امریکی کی غلامی سے نکلنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی معاہدے نے بھی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ گو ہماری افواج کے دستے سعودی عرب میں پہلے سے موجود ہیں جو سعودی افواج کی تربیت اور تکنیکی مہارت سے روشناس کرانے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ ایران، امریکہ جنگ اور حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف کارروائی نے پاکستان کو بھی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اللہ نہ کرے وہ وقت آئے اگر پاکستان حوثیوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ پاکستان کو پہلے ہی دہشت گردی کا شکار ہے، خصوصا بلوچستان کے حالات بہت حد تک خراب ہیں، جب کہ کے پی کے میں بھی افغانستان سے دہشت گردی ہو رہی ہے۔ ایسے میں ہمارا ملک کن کن کی مدد کرے گا۔ اگرچہ ہماری بہادر افواج پر دنیا کے مسلمان ملکوں کی نظریں ہیں، آڑے وقت میں افواج پاکستان ان کی مدد کریں گی ۔ آخر کب تک، سعودی عرب اور دیگر مسلمان ملکوں کو اپنی اپنی افواج تیار کرنی چاہیے۔ تیل کی دولت سے عیش و عشرت چھوڑ کر اپنے اپنے ملکوں کے دفاع پر توجہ مرکوز کرنی کی ضرورت ہے۔ کچھ تو دہشت گردی اور کچھ ہمارے سیاست دانوں نے اقتدار میں آکر ملک کو مقروض کر دیا ہے، جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے قرض لے کر ہم ملک چلا رہے ہیں، جب کہ آئی ایم ایف ہمیں اپنے اخراجات کم کرنے کو کہتا ہے، حکومت اخراجات کم کرنے کو تیار نہیں، وہ غریب عوام رلا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے دور میں عوام جس معاشی بدحالی کا شکار ہیں، کسی حکومت کے دور میں ایسا نہیں ہوا، تاہم اس کے باوجود حکومت معاشی حالات کو بہتری کی طرف لے جانے کی دعویدار ہے۔ ہمیں ایران سے سبق سیکھنا چاہیے، جن کے سپریم لیڈر کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں، جب کہ ہمارے لیڈروں کی بڑی بڑی جائیدادیں نہ صرف اندرون ملک ،بیرون ملک میں بھی ہیں۔ ستم ظرفی دیکھئے سیاست دانوں کی اولادوں اور آگے ان کے بچوں کے نام اربوں ڈالر بیرون ملکوں میں جمع ہیں۔ یہاں ایک پٹواری کو گرفتار کرکے اخبارات میں تصویر شائع کرائی جاتی ہے، اس کے برعکس احتساب اور اینٹی کرپشن کے ادارے ملک لوٹنے والوں کی طرف منہ نہیں کرتے۔ قرون اولیٰ کے ادوار میں یہی کچھ ہوتا تھا، بڑا کوئی جرم کرتا اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اور کوئی چھوٹا آدمی جرم کرتا اسے سزا دے دی جاتی تھی۔ ہمارے ملک میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے، بس طریقہ کار مختلف ہے، باقی سیاست دانوں نے کسر کوئی نہیں چھوڑی۔ جہاں تک ایران، امریکہ کے درمیان کشیدگی کی بات ہے، ہمیں نہیں لگتا ایران، امریکہ کی شرائط تسلیم کرے گا ۔

جواب دیں

Back to top button