Column

ادارہ سازی کا معمار۔۔۔ سپیکر ملک محمد احمد خان کے تین سال

ادارہ سازی کا معمار۔۔۔ سپیکر ملک محمد احمد خان کے تین سال
کالم نگار: گوہر ہاشمی
ادارے قوموں کی اجتماعی دانش کا مظہر ہوتے ہیں، اور جب ادارے مضبوط ہوں تو ریاستیں بحرانوں سے بھی سرخرو ہو کر نکل آتی ہیں۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ قومیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بنتیں، نہ ہی صرف معاشی ترقی انہیں عظمت عطا کرتی ہے۔ قوموں کی اصل شناخت ان کے ادارے ہوتے ہیں۔ مضبوط ادارے ہی ریاست کے وجود کو دوام بخشتے، آئین کو وقار دیتے اور عوام کے اعتماد کو استحکام عطا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر کامیاب جمہوریت میں پارلیمان کو محض قانون سازی کا ادارہ نہیں بلکہ ریاست کے اجتماعی شعور، آئینی بالادستی اور عوامی امنگوں کا امین سمجھا جاتا ہے۔
برطانوی مفکر ایڈمنڈ برک نے پارلیمان کو ’’ پوری قوم کی اجتماعی دانش کی مجلس‘‘ قرار دیا تھا، جبکہ آئینی مفکر والٹر بیجہاٹ نے لکھا کہ کسی بھی پارلیمانی نظام کی اصل قوت اس کی تقریروں میں نہیں بلکہ اس کی کمیٹیوں، قواعد اور ادارہ جاتی نظم میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہ وہ اصول ہیں جن پر آج بھی دنیا کی کامیاب پارلیمانیں استوار ہیں۔
پاکستان کا قیام بھی صرف ایک جغرافیائی حقیقت نہیں تھا بلکہ ایک آئینی اور جمہوری خواب تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ ریاست کی بنیاد قانون کی حکمرانی، اداروں کی مضبوطی اور عوام کی نمائندہ حکومت پر ہونی چاہیے۔ ان کا تصورِ پاکستان میں ایک ایسی مملکت کا تھا جہاں پارلیمان قانون کی بالادستی کی محافظ ہو اور ہر ریاستی ادارہ آئین کے دائرے میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔
علامہ محمد اقبال نے بھی ریاست کی تعمیر میں اداروں کی اہمیت کو اپنے منفرد انداز میں بیان کیا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
یہ شعر صرف فرد کی عظمت کا نہیں بلکہ ان اداروں کی اہمیت کا بھی آئینہ دار ہے جن کے ذریعے افراد قوم کی تقدیر رقم کرتے ہیں۔ انہی اداروں میں پارلیمان سب سے نمایاں مقام رکھتی ہے، کیونکہ یہی وہ ایوان ہے جہاں اختلاف رائے تصادم نہیں بلکہ مکالمہ بنتا ہے، جہاں قانون طاقت سے بالاتر ہوتا ہے اور جہاں حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے۔
پنجاب اسمبلی، جو پاکستان کی سب سے بڑی صوبائی قانون ساز اسمبلی ہے، محض ایک عمارت یا قانون سازی کا مرکز نہیں بلکہ چودہ کروڑ سے زائد شہریوں کی سیاسی امنگوں، آئینی حقوق اور جمہوری امیدوں کی ترجمان ہے۔ اس ایوان سے منظور ہونے والے قوانین صرف سرکاری گزٹ کا حصہ نہیں بنتے بلکہ وہ عوام کی روزمرہ زندگی، انتظامی ڈھانچے اور ریاستی سمت کا تعین کرتے ہیں۔
لیکن پارلیمان کی عظمت صرف اس کے اجلاسوں، قراردادوں یا قانون سازی میں نہیں ہوتی۔ ایک مضبوط پارلیمان کی اصل پہچان اس کے ادارہ جاتی نظام، اسٹینڈنگ کمیٹیوں، شفاف قانون سازی، موثر نگرانی اور عالمی پارلیمانی روابط میں ہوتی ہے۔ یہی وہ پیمانے ہیں جن پر دنیا کی ہر سنجیدہ پارلیمان کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
کسی بھی پارلیمانی نظام میں سپیکر کا منصب محض کارروائی چلانے تک محدود نہیں ہوتا۔ سپیکر ایوان کے وقار، آئین کی بالادستی، قواعدِ کار کی پاسداری اور جمہوری روایت کا محافظ ہوتا ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف اجلاس منعقد کرانا نہیں بلکہ اختلاف کو نظم میں، جذبات کو قانون میں اور سیاست کو ادارہ جاتی استحکام میں ڈھالنا بھی ہوتی ہے۔
یہی وہ زاویہ ہے جس سے گزشتہ تین برسوں میں پنجاب اسمبلی کی پارلیمانی سمت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس عرصے میں سپیکر ملک محمد احمد خان کے دور کو ان کے حامی ادارہ جاتی اصلاحات، پارلیمانی روایت، کمیٹی نظام کی فعالیت، ڈیجیٹل جدت اور بین الاقوامی پارلیمانی روابط کے فروغ کے تناظر میں نمایاں قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسمبلی کو محض قانون سازی کے ایوان کی بجائے ایک فعال، جواب دہ اور جدید ادارہ بنانے کی سمت میں مختلف اقدامات کیے گئے، جنہوں نے پارلیمانی نظام کو نئی جہت دینے کی کوشش کی۔
تاہم کسی بھی پارلیمانی دور کا منصفانہ جائزہ صرف تعریف یا تنقید سے نہیں بلکہ اس سوال سے لیا جاتا ہے کہ کیا ادارے پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے؟ کیا پارلیمانی نگرانی زیادہ موثر ہوئی؟ کیا قانون سازی زیادہ منظم اور شفاف ہوئی؟ اور کیا اسمبلی نے خود کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی سنجیدہ کوشش کی؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کی روشنی میں اس تین سالہ دور کا مطالعہ زیادہ بامعنی بنتا ہے۔
یہ مضمون اسی تناظر میں سپیکر ملک محمد احمد خان کے دور کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کا مقصد کسی شخصیت کی مدح سرائی نہیں بلکہ اس پارلیمانی فلسفے کو سمجھنا ہے جس کے مطابق مضبوط جمہوریت کی بنیاد مضبوط ادارے ہوتے ہیں۔ جب اسٹینڈنگ کمیٹیاں موثر ہوں، جب قانون سازی تحقیق اور مشاورت سے عبارت ہو، جب بجٹ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ عوامی ترجیحات کا عکاس بنے، جب اسمبلی جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے پیپر لیس نظام کی طرف بڑھ رہی ہو، اور جب عالمی پارلیمانی فورمز پر اپنی موجودگی کو موثر انداز میں منوائے، تو یہ سب کسی بھی قانون ساز ادارے کے ارتقا کی علامات سمجھی جاتی ہیں۔
جمہوریت کا حسن صرف انتخابات میں نہیں بلکہ ان اداروں میں ہے جو ہر انتخاب کے بعد بھی قائم رہتے ہیں، آئین کی حفاظت کرتے ہیں اور ریاست کو تسلسل عطا کرتے ہیں۔ اسی لیے تاریخ ہمیشہ ان سیاست دانوں سے زیادہ ان معماروں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اداروں کی بنیادیں مضبوط کیں، کیونکہ شخصیات وقت کے ساتھ بدل جاتی ہیں، مگر اداروں کی مضبوطی نسلوں تک قوموں کی رہنمائی کرتی ہے۔
اسی احساس کے ساتھ اب ہم اس دور کے سب سے اہم باب کی طرف بڑھتے ہیں، جسے دنیا کی ہر کامیاب پارلیمان اپنی طاقت کا سرچشمہ قرار دیتی ہے، اسٹینڈنگ کمیٹیاں؛ پارلیمانی نگرانی، احتساب اور موثر حکمرانی کا وہ نظام جسے کسی بھی جمہوری ایوان کی حقیقی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button