Column

پاکستان کا اُبھرتا ہوا معاشی اعتماد

اداریہ۔۔۔
پاکستان کا اُبھرتا ہوا معاشی اعتماد
کسی بھی ملک کی معاشی طاقت کا اندازہ صرف اس کی اپنی منڈیوں سے نہیں ہوتا، بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ دنیا کے بڑے مالیاتی مراکز میں اس ملک کو کس نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ لندن میں وزیراعظم شہباز شریف کی لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب میں شرکت اور دنیا کے بڑے مالیاتی اداروں کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں اسی تناظر میں اہم پیش رفت ہیں۔ یہ سرگرمیاں محض سفارتی مصروفیات نہیں بلکہ پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری، کیپٹل مارکیٹس اور مالیاتی تعاون کے وسیع دائرے سے جوڑنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھی جانی چاہئیں۔ لندن اسٹاک ایکسچینج دنیا کے معروف مالیاتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے پلیٹ فارم پر پاکستان کے وزیراعظم کی موجودگی اس اعتبار سے اہم ہے کہ یہاں دنیا بھر کے سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور کاروباری حلقوں کی نظریں رہتی ہیں۔ شہباز شریف کا مارکیٹ اوپن کرنا اور پاکستان کے معاشی امکانات پر گفتگو کرنا عالمی مالیاتی برادری کے سامنے پاکستان کا معاشی مقدمہ پیش کرنے کا ایک نمایاں موقع تھا۔ اس موقع پر پاکستان کے تین ارب ڈالر کے دو حصوں پر مشتمل خودمختار یورو بانڈ کا اجرا بھی باضابطہ طور پر سامنے آیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر معاشی استحکام کے لیے حکومت کی کوششوں اور میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری کا ذکر کیا۔ یہ بات محض حکومتی دعویٰ سمجھ کر نظرانداز نہیں کی جاسکتی، کیونکہ عالمی مالیاتی فنڈ نے بھی 2026ء میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں بحالی، اعتماد میں اضافے، ذخائر کی تعمیر نو اور مجموعی استحکام میں پیش رفت کی نشان دہی کی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال 2026ء کے پہلے نصف میں معاشی نمو میں تیزی آئی، مہنگائی قابو میں رہی اور کرنٹ اکائونٹ مجموعی طور پر متوازن رہا۔ یہاں موجودہ حکومت کی معاشی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ حکومت نے فوری مقبولیت کے بجائے کئی ایسے مشکل فیصلوں پر توجہ دی جن کا مقصد مالیاتی نظم، محصولات میں بہتری، سرکاری اداروں میں اصلاحات، توانائی کے شعبے کی پائیداری اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے اصلاحاتی پروگرام میں پبلک فنانس، مسابقت، پیداواری صلاحیت، سرکاری اداروں، توانائی اور عوامی خدمات کی بہتری کو بنیادی ترجیحات قرار دیا ہے۔ وزیراعظم کا لندن میں بارکلیز، جے پی مورگن، سٹی، بلیک راک اور روتھ شیلڈ اینڈ کو جیسے عالمی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کرنا بھی اسی معاشی سفارت کاری کا حصہ ہے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے، سرمایہ کاری کے ماحول، کیپٹل مارکیٹس، تجارتی فنانسنگ، انویسٹمنٹ بینکنگ اور مالیاتی خدمات میں تعاون بڑھانے پر بات ہوئی۔ وزیراعظم نے ان اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی دعوت دی۔ یہاں ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے، پاکستان کو صرف قرضوں کی نہیں، سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ قرض کسی وقت کی مالی ضرورت پوری کر سکتا ہے، لیکن سرمایہ کاری صنعت قائم کرتی ہے، روزگار پیدا کرتی ہے، ٹیکنالوجی لاتی ہے، برآمدات بڑھاتی ہے اور معیشت کے پیداواری ڈھانچے کو مضبوط کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کا عالمی سرمایہ کاروں سے براہ راست رابطہ قابلِ توجہ ہے۔ اگر پاکستان عالمی مالیاتی اداروں کو یہ اعتماد دینے میں کامیاب ہوجائے کہ پالیسیوں میں تسلسل رہے گا، سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ ملے گا اور کاروباری ماحول مسلسل بہتر ہوگا تو اس کے اثرات آنے والے برسوں میں زیادہ نمایاں ہوسکتے ہیں۔ بلیک راک کے نمائندوں سے ملاقات میں پاکستانی ایکویٹیز اور فکسڈ انکم میں سرمایہ کاری کے امکانات پر گفتگو اور پالیسی تسلسل کی اہمیت پر اتفاق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے خود کو ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی طرح جے پی مورگن کے ساتھ سرمایہ مارکیٹس، تجارتی فنانسنگ اور انویسٹمنٹ بینکنگ میں تعاون بڑھانے کی بات پاکستان کی مالیاتی مارکیٹ کے لیے اہم ہوسکتی ہے۔ تاہم معاشی کامیابی کا اگلا مرحلہ اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ عالمی سرمایہ کاری کے دروازے پر دستک دینا پہلا قدم ہے، سرمایہ کار کو اندر آنے کے بعد اعتماد فراہم کرنا اصل امتحان ہے۔ پاکستان کو اب پالیسی تسلسل، ٹیکس نظام میں آسانی، توانائی کی قابلِ اعتماد فراہمی، برآمدی مسابقت، شفاف ریگولیٹری نظام اور کاروبار شروع کرنے کے آسان طریقہ کار پر مسلسل توجہ دینا ہوگی۔ بیرونی سرمایہ کار اسی ماحول میں طویل مدتی سرمایہ لگاتا ہے جہاں اسی اچانک پالیسی تبدیلیوں کے بجائے قابلِ پیش گوئی نظام نظر آئے۔ اس حوالے سے حکومت کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ ہوگی کہ لندن، دبئی، ریاض یا نیویارک میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنسوں کے وعدے پاکستان کے اندر کارخانے، منصوبے، روزگار اور برآمدات میں تبدیل ہوں۔ عالمی مالیاتی اداروں کی دلچسپی کو حقیقی معاشی سرگرمی میں بدلنا ہی اس معاشی سفارت کاری کی اصل کامیابی ہوگی۔ پاکستان کے لیے امید کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ عالمی ادارے بھی درمیانی مدت میں نمو کے امکانات دیکھ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے اپنی 2026ء کے جائزے میں پاکستان کے لیے درمیانی مدت میں اصلاحات کے تسلسل، سرمایہ کاری اور برآمدات کے ذریعے معاشی نمو میں اضافے کی گنجائش بیان کی ہے۔ تاہم عالمی حالات، توانائی کی قیمتوں اور بیرونی خطرات کو اب بھی اہم چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے موجودہ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ لندن میں پیدا ہونے والے معاشی اعتماد کو پاکستان کے عام شہری کی زندگی تک پہنچایا جائے۔ معاشی استحکام کا حقیقی ثبوت صرف عالمی منڈی میں بہتر تاثر نہیں بلکہ روزگار کے نئے مواقع، کاروبار میں آسانی، صنعت کی بحالی، برآمدات میں اضافہ اور عام آدمی کی قوتِ خرید میں بہتری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی لندن سرگرمیوں کو اسی بڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے کئی مشکل معاشی مراحل دیکھے ہیں۔ اب اگر اصلاحات کا سفر مستقل مزاجی سے جاری رہتا ہے، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول قائم ہوتا ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات کو قرض سے آگے بڑھا کر سرمایہ کاری اور شراکت داری تک لے جایا جاتا ہے تو ملک کے معاشی مستقبل کے لیے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب میں پاکستان کی موجودگی ایک علامت ہے، مگر اصل منزل اس سے آگے ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب عالمی مالیاتی مراکز میں پاکستان کے بارے میں اعتماد کی جو گفتگو شروع ہوئی ہے، وہ پاکستان کے شہروں، صنعتی علاقوں، کاروباری مراکز اور گھروں تک پہنچے۔ پاکستان وسائل سے محروم ملک نہیں، اسے اپنے وسائل کو موثر نظام، مسلسل پالیسی اور درست سمت میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت اگر معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری اور مالیاتی نظم کے اس سفر کو سیاسی اتار چڑھائو سے بالاتر رکھتے ہوئے جاری رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو لندن کی یہ مصروفیات محض ایک دورہ نہیں رہیں گی بلکہ پاکستان کے معاشی بیانیے میں ایک نئے باب کی ابتدا ثابت ہوسکتی ہیں۔

 

 

شذرہ۔۔۔
ڈینگی، ملیریا، احتیاط ناگزیر
سندھ میں رواں سال ملیریا کے ایک لاکھ 17ہزار 16کیسز کا سامنے آنا محض ایک صوبائی صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے سنجیدہ انتباہ ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق حیدرآباد ڈویژن میں 46ہزار 183، لاڑکانہ میں 33ہزار 785، سکھر میں 12ہزار 58، شہید بینظیر آباد میں 13ہزار 5، میرپورخاص میں 10ہزار 898اور کراچی میں ایک ہزار 87ملیریا کیس رپورٹ ہوئے۔ اگرچہ رواں سال سندھ میں سیریبرل ملیریا کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہونا اطمینان بخش امر ہے، تاہم مجموعی تعداد بیماری کے پھیلائو کی سنگینی واضح کرتی ہے۔ ملیریا اور ڈینگی دونوں ایسی بیماریاں ہیں جن کے پھیلا میں مچھروں کے ساتھ ساتھ ناقص صفائی، جمع پانی، نکاسی آب کے مسائل اور شہری بے احتیاطی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال بارشوں اور مون سون کے بعد مختلف علاقوں میں مچھروں سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں یہ خطرہ مزید سنگین ہوجاتا ہے، جہاں صاف پانی، نکاسی آب اور طبی سہولتوں کی کمی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈینگی اور ملیریا کے خلاف حکمت عملی صرف بیماری پھیلنے کے بعد اسپرے اور ہسپتالوں تک محدود نہ رہے۔ مچھر پیدا ہونے کی جگہوں کا خاتمہ، نالوں اور برساتی پانی کی بروقت نکاسی، کچرے کی صفائی، گھروں اور سرکاری عمارتوں کے اطراف پانی جمع نہ ہونے دینا اور مسلسل آگاہی مہم بنیادی اقدامات ہونے چاہئیں۔ صحت کے اداروں کو بھی ایسے علاقوں کی نشاندہی کے لیے جدید نگرانی کا نظام بنانا چاہیے جہاں مچھر سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہوں۔ اسکولوں، بازاروں، صنعتی علاقوں اور کچی آبادیوں میں خصوصی آگاہی مہم چلائی جائے، جبکہ شہریوں کو بخار، جسم میں درد، شدید کمزوری یا دیگر علامات کی صورت میں خود علاج کے بجائے فوری طبی مشورہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ ڈینگی اور ملیریا کے خلاف کامیابی صرف محکمہ صحت کی ذمے داری نہیں۔ وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی اداروں، تعلیمی اداروں، میڈیا اور شہریوں کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر صفائی، نکاسی آب اور بروقت تشخیص کو ترجیح دی جائے تو ان بیماریوں کے پھیلائو کو بڑی حد تک محدود کیا جاسکتا ہے۔ آج ضرورت خوف پھیلانے کی نہیں، بروقت تیاری کی ہے۔

جواب دیں

Back to top button