خیبر پختونخوا وائٹ پیپر

خیبر پختونخوا وائٹ پیپر
تحریر: رفیع صحرائی
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے موخر ہونے اور خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر کی خبروں کے بعد خیبر پختونخوا ایک مرتبہ پھر قومی توجہ کا مرکز ہے۔ اس مرتبہ وجہ کوئی سیاسی جلسہ یا انتخابی نعرہ نہیں بلکہ صوبے کی امن و امان کی صورت حال، پولیس کی استعداد، دہشت گردی، منشیات، اسمگلنگ اور حکمرانی کے بارے میں جاری کیا جانے والا وائٹ پیپر ہے۔ تاہم ایک بات ابتدا ہی میں واضح رہنی چاہیے کہ یہ وفاقی حکومت کا جاری کردہ وائٹ پیپر نہیں بلکہ مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا سیاسی وائٹ پیپر ہی۔ اس میں صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور مختلف اعدادوشمار پیش کیے گئے ہیں۔ یہاں اس وائٹ پیپر کی ٹائمنگ بڑی اہم ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی جو بڑے جارحانہ موڈ میں ہیں کہیں اس کا توڑ کرنے کے لیے دیگر اقدامات کے علاوہ ان کی حکومت کو چارج شیٹ کر کے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے لیے جواز پیدا کیا گیا ہے یا آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن کی طرف سے سہیل آفریدی کی حکومت کے خلاف پشاور کی طرف ایک مجوزہ لانگ مارچ کی تیاری کا یہ ابتدائی مرحلہ ہے تاکہ جارح سہیل آفریدی کو دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور کیا جا سکے۔ مقصد کچھ بھی ہو لیکن اس وائٹ پیپر میں لگائے گئے الزامات اور اٹھائے گئے نکات اپنی جگہ بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور صوبائی حکومت سے جواب کے متقاضی ہیں۔
وائٹ پیپر کے مطابق جنوری سے ستمبر 2026ء کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کی تعداد 680رہی، جبکہ گزشتہ برس اسی مدت میں یہ تعداد 508تھی۔ اسی طرح 2026ء کی پہلی ششماہی میں 122پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ 2025ء کی پہلی ششماہی میں یہ تعداد 63تھی۔ زخمی پولیس اہلکاروں کی تعداد بھی 84سے بڑھ کر 175بتائی گئی ہے۔
اعدادوشمار میں معمولی فرق یا مختلف اداروں کی مختلف تعریفیں اپنی جگہ، لیکن ان اعداد کا بنیادی پیغام انتہائی سنجیدہ ہے۔ وہ یہ کہ خیبر پختونخوا کی پولیس اور سکیورٹی فورسز بدستور ایک مشکل اور خطرناک جنگ لڑ رہی ہیں۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ اعداد کس جماعت کے حق یا مخالفت میں جاتے ہیں، سوال یہ ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں کھڑے اہلکاروں کو کیا وہ وسائل میسر ہیں جن کے وہ مستحق ہیں؟
وائٹ پیپر میں سی ٹی ڈی کی استعداد کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 3844منظور شدہ اسامیوں کے مقابلے میں 3113اہلکار تعینات ہیں اور متعدد اسامیاں خالی ہیں۔ 200ایم فور رائفلوں کی ضرورت کے مقابلے میں صرف 9دستیاب ہونے، 35نائٹ وژن آلات کے مقابلے میں 11موجود ہونے اور 17بلٹ پروف گاڑیوں کی دستیابی جیسے اعداد بھی پیش کیے گئے ہیں۔ اگر یہ اعداد درست ہیں تو معاملہ محض انتظامی کمزوری کا نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ہے۔ تاہم یہاں بھی الزام کو فیصلہ سمجھنے کے بجائے ایک سادہ راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ صوبائی حکومت سی ٹی ڈی کی منظور شدہ، جاری شدہ اور خرچ شدہ رقم، خریدے گئے اسلحے، گاڑیوں اور حفاظتی آلات کی مکمل فہرست عوام کے سامنے رکھ دے۔ یوں بحث الزام اور تردید سے نکل کر دستاویزی ثبوت تک پہنچ جائے گی۔
وائٹ پیپر میں سی ٹی ڈی کے لیے 7ارب 77کروڑ روپے کی منظوری اور 7ارب 5کروڑ روپے جاری ہونے کا بھی ذکر ہے۔ اگر واقعی اتنی بڑی رقم جاری ہوچکی ہے تو عوام کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ اس رقم سے کیا خریدا گیا؟ کتنی اشیا خریدی گئیں؟ کب خریدی گئیں؟ کہاں پہنچائی گئیں؟ اور کیا وہ فیلڈ میں استعمال بھی ہو رہی ہیں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں شفافیت سیاسی تنازع کا بہترین علاج بن سکتی ہے۔
وائٹ پیپر میں ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں اور ان کے فیصلوں پر عمل درآمد کا سوال بھی اٹھایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امن و امان کے حوالے سے اجلاسوں کی تعداد سے زیادہ اہم ان کے نتائج ہوتے ہیں۔ اگر ایک اجلاس میں دس فیصلے کیے گئے ہیں تو عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان میں سے کتنے فیصلوں پر عمل درآمد ہوا، کتنے زیرِ عمل ہیں اور کتنے وسائل کی کمی یا کسی دوسری وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔
منشیات کا مسئلہ بھی کم اہم نہیں۔ وائٹ پیپر میں بڑی مقدار میں چرس، آئس، ہیروئن اور افیون پکڑے جانے کے اعدادوشمار پیش کیے گئے ہیں۔ یہ کارروائیاں بلاشبہ اہم ہیں، مگر ایک بڑا سوال ان کے پیچھے چھپا ہوا ہے کہ منشیات کی صرف کھیپ پکڑی جا رہی ہے یا پورا نیٹ ورک توڑا جا رہا ہی؟ اگر ایک گاڑی سے سینکڑوں کلو منشیات پکڑی جاتی ہے تو اصل کامیابی صرف مال ضبط کرنا نہیں بلکہ یہ معلوم کرنا ہے کہ اسے کس نے بھیجا، پیسہ کس نے لگایا، راستہ کس نے فراہم کیا اور منزل تک پہنچانے والے پورے نیٹ ورک میں کون کون شامل ہے۔ اسی طرح منشیات کے عادی نوجوانوں کے علاج، بحالی اور معاشرتی تحفظ کو بھی حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔
سمگلنگ کے حوالے سے بھی وائٹ پیپر میں بڑی مالیت کے سامان کی ضبطی کا ذکر ہے۔ یہاں بھی دو پہلو ہیں۔ ایک طرف بڑی کارروائیاں ریاستی اداروں کی کارکردگی کو ظاہر کرتی ہیں، دوسری طرف مسلسل بڑی مقدار میں اسمگل شدہ سامان کی موجودگی اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ غیر قانونی تجارت کا نیٹ ورک اب بھی فعال ہے۔ کامیابی ضبط شدہ مال کی مالیت سے زیادہ اس بات میں ہے کہ اسمگلنگ کے مستقل راستے اور مالی نیٹ ورک کتنے کمزور کیے گئے۔
پولیس ایکٹ 2026کا معاملہ بھی خاص توجہ چاہتا ہے۔ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ قانون میں پولیس کی کارکردگی، احتساب اور انتظامی بہتری کے لیے اصلاحات کی گئی ہیں، جبکہ اس پر وفاقی سطح سے سیاسی مداخلت اور پولیس کی کمان کے حوالے سے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ یہ مسئلہ بھی سیاسی کشمکش سے بلند ہوکر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پولیس کو حکومت سے مکمل طور پر آزاد بھی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ منتخب حکومت عوام کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے لیکن پولیس کو سیاسی دبا کے تابع بھی نہیں ہونا چاہیے۔ اصل ضرورت ایسی پیشہ ورانہ پولیس کی ہے جو حکومت کی قانونی پالیسی پر قانون، میرٹ اور ادارہ جاتی ضابطوں کے اندر رہ کر عمل کرے۔ یہاں ایک بنیادی اصول طے ہونا چاہیے: پولیس حکومت کی ہو، کسی سیاسی جماعت کی نہیں؛ اور پولیس عوام کی محافظ ہو، سیاسی انتقام کا ذریعہ نہ بنے۔
خیبر پختونخوا کے مسئلے کا حل بھی اسی سوچ میں پوشیدہ ہے۔ اگر مسلم لیگ ن کا وائٹ پیپر صوبائی حکومت پر سوال اٹھاتا ہے تو حکومت کو پریس کانفرنس کے ذریعے صرف تردید نہیں کرنی چاہیے بلکہ اعدادوشمار کے ساتھ جواب دینا چاہیے۔ اگر وائٹ پیپر میں کوئی عدد غلط ہے تو درست عدد سامنے لایا جائے۔ اگر کوئی الزام بے بنیاد ہے تو دستاویز جاری کرکے اس کی تردید کی جائے۔ اور اگر کسی معاملے میں واقعی کمزوری موجود ہے تو اسے تسلیم کرکے اصلاح کا اعلان کیا جائے۔
اسی طرح وائٹ پیپر کے مرتبین کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ سیاسی دستاویز میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کو مکمل سیاق و سباق، ماخذ اور مدت کے ساتھ بیان کیا جانا چاہیے۔ مختلف اداروں کے مختلف ڈیٹا کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے سے عوام مزید الجھن کا شکار ہوتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کسی سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں۔ یہ پاکستان کا وہ صوبہ ہے جس کے پولیس اہلکار دہشت گردی کے خلاف اپنی جانیں دے رہے ہیں، جہاں سرحدی حالات قومی سلامتی سے براہِ راست جڑے ہیں اور جہاں عام شہری امن، روزگار اور معمول کی زندگی چاہتا ہے۔ اس لیے ضرورت وائٹ پیپر بمقابلہ وائٹ پیپر کی نہیں بلکہ ریکارڈ بمقابلہ ریکارڈ کی ہے۔ حکومت بتائے کہ کتنی رقم ملی، کہاں خرچ ہوئی اور کیا نتیجہ نکلا۔ اپوزیشن بتائے کہ اس کے پیش کردہ اعداد کے اصل ماخذ کیا ہیں۔ پولیس بتائے کہ اسے کیا درکار ہے۔ اور متعلقہ ادارے بتائیں کہ دہشت گردی، منشیات اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کے نتائج کیا ہیں۔
عوام کو سیاسی فتح یا شکست سے زیادہ اس سوال کا جواب چاہیے کہ ان کے صوبے میں امن کب مضبوط ہوگا، پولیس کب مکمل وسائل سے لیس ہوگی، دہشت گردی کا دائرہ کب سکڑے گا اور اربوں روپے کے اخراجات کا حساب کب عوام کے سامنے آئے گا؟




