Column

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟
شہرِ خواب
صفدر علی حیدری
’’ دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟‘‘، غالب نے یہ سوال محبت میں گرفتار دل سے کیا تھا، مگر آج یہی سوال ہم اپنے جسم کے اس دل سے بھی کر سکتے ہیں جو ہماری بے اعتنائی کے باوجود دن رات ہمارے لیے دھڑکتا رہتا ہے۔ دل بھی بڑی عجیب شے ہے۔ انسان کے جسم میں ایک نسبتاً چھوٹا سا عضو، مگر پوری زندگی کا ذمہ دار۔ ہم سو رہے ہوں تو یہ جاگ رہا ہوتا ہے۔ ہم چل رہے ہوں یا کسی فکر میں ڈوبے ہوں، یہ اپنا کام جاری رکھتا ہے۔ ہم اسے یاد کریں یا نہ کریں، یہ ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی نہیں بھولتا۔ پھر ایک دن سینے میں چبھن اٹھتی ہے، سانس بوجھل ہوتی ہے یا دھڑکن معمول سے مختلف محسوس ہوتی ہے تو اچانک ہمیں یاد آتا ہے کہ ہمارے اندر ایک دل بھی ہے۔ اور ہم خود سے پوچھتے ہیں
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟۔
29 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ قلب منایا گیا ۔ اس دن کا مقصد صرف دل کی بیماریوں کے بارے میں معلومات دینا نہیں بلکہ یہ یاد دلانا بھی ہے کہ جس دل پر ہماری زندگی کا پورا نظام قائم ہے، اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دل کی بیماری اکثر ایک دن میں پیدا نہیں ہوتی۔ بہت سے معاملات میں ہمارا طرزِ زندگی طویل عرصے تک خاموشی سے اس کے خطرات بڑھاتا رہتا ہے۔ جسمانی سرگرمی کی کمی، غیر متوازن غذا، زیادہ نمک، ضرورت سے زیادہ چکنائی، تمباکو نوشی، موٹاپا، بلند فشارِ خون اور ذیابیطس جیسے عوامل دل کی صحت کے لیے خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم بیماری کو اس وقت سنجیدہ لیتے ہیں جب وہ ہمارے دروازے پر دستک دے چکی ہوتی ہے۔ اس سے پہلے جسم کی چھوٹی چھوٹی تنبیہوں کو معمولی سمجھ کر ٹالتے رہتے ہیں۔ تھکن ہوئی تو کہا، آج کام زیادہ تھا۔ سانس پھولی تو کہا، شاید موسم کی وجہ سے ہے۔ سینے میں درد ہوا تو کہا، گیس ہو گی۔ بلڈ پریشر بڑھا تو کہا، آج ٹینشن زیادہ تھی۔ شوگر بڑھی تو کہا، کل سے پرہیز کریں گے۔
اور یہی ’’ کل‘‘ کبھی کبھی بہت مہنگا پڑ جاتا ہے۔ ہم گاڑی کی سروس وقت پر کرواتے ہیں۔ موبائل کی بیٹری کم ہو تو فوراً چارجر تلاش کرتے ہیں۔ اے سی کی صفائی کراتے ہیں۔ مگر اپنے جسم کی بنیادی ضروریات کے لیے ہمارے پاس اکثر وقت نہیں ہوتا۔ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صحت کوئی اضافی سہولت نہیں، زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ دل کی صحت کے لیے ہمیشہ کسی بہت بڑی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات چھوٹی چھوٹی عادتیں بھی بڑا فرق پیدا کرتی ہیں۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی، متوازن غذا، مناسب وزن، تمباکو نوشی سے اجتناب، بلڈ پریشر اور خون میں شکر کی سطح پر نظر رکھنا اور ضرورت کے مطابق طبی مشورہ لینا صحت مند زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔سب سے اہم چیز حرکت ہے۔ ہم نے زندگی کو آسان بنانے کے لیے ایسی بے شمار سہولتیں پیدا کر لی ہیں، جنہوں نے ہمارے جسم کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ چند قدم چلنے کے بجائے گاڑی۔ سیڑھی کے بجائے لفٹ۔ ہاتھ سے ہونے والے کام کے بجائے مشین۔ اور فرصت کے لمحوں میں چلنے کے بجائے موبائل کی اسکرین۔
مشینیں زندگی آسان بنا سکتی ہیں، مگر جسم کو حرکت پھر بھی خود دینی پڑتی ہے۔ چہل قدمی بظاہر معمولی عمل ہے، مگر جسم کے لیے اس کی اہمیت معمولی نہیں۔ اس کے لیے مہنگا سامان یا خاص جگہ ضروری نہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ انسان اپنے دن میں حرکت کے لیے جگہ پیدا کرے۔ دل کو بھی یہی چھوٹی چھوٹی مہربانیاں درکار ہوتی ہیں۔غذا کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ ہماری پلیٹ صرف پیٹ نہیں بھرتی، ہمارے جسم کے مستقبل پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج اور متوازن غذا مجموعی صحت کے لیے مفید ہو سکتے ہیں، جبکہ بہت زیادہ نمک، تلی ہوئی اشیا، ضرورت سے زیادہ چکنائی اور میٹھی غذائوں کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ لیکن صحت مند غذا کا مطلب زندگی سے ذائقہ نکال دینا نہیں۔ اصل ضرورت توازن کی ہے۔ کبھی پسندیدہ کھانا کھا لینا مسئلہ نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب پسندیدہ چیز ہی مستقل غذا بن جائے۔ کھانے سے پہلے کبھی یہ سوال بھی کر لینا چاہیے، یہ چیز صرف میری زبان کو خوش کرے گی یا میرے جسم کے لیے بھی بہتر ہوگی؟۔
دل کے لیے ایک اور بڑا خطرہ مسلسل بیٹھے رہنا ہے۔ بح گھر سے گاڑی میں نکلے۔ دفتر یا دکان پر کئی گھنٹے بیٹھے رہے۔ واپسی بھی گاڑی میں ہوئی۔ گھر پہنچ کر ٹی وی یا موبائل سامنے رکھ لیا۔ دن ختم ہوگیا، مگر جسم نے شاید ضرورت سے بہت کم حرکت کی۔ جسم حرکت مانگتا ہے۔ دل بھی۔ اسی طرح ذہنی دبائو کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔زندگی میں پریشانیاں ختم نہیں ہوتیں، مگر ان سے نمٹنے کا انداز بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ مناسب نیند، خاندان اور دوستوں کے ساتھ صحت مند تعلق، مثبت سرگرمیاں، عبادت، مطالعہ اور اپنے لیے کچھ وقت نکالنا ذہنی سکون میں مدد دے سکتا ہے۔ میں یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ ہر وقت مضبوط دکھائی دینا ضروری نہیں۔ کبھی تھک جانا انسانی بات ہے۔ سی سے بات کر لینا کمزوری نہیں۔ ضرورت پڑنے پر مدد مانگ لینا شکست نہیں۔ انسان مشین نہیں۔ اور دل بھی صرف خون پمپ کرنے والا عضو نہیں۔ ہماری پوری زندگی کی رفتار اس سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر سینے کا درد دل کی بیماری نہیں ہوتا اور دل کی ہر بیماری لازماً درد کی صورت میں ظاہر بھی نہیں ہوتی۔اسی لیے غیر معمولی یا تشویش ناک علامات کو خود سے معمولی قرار دینا مناسب نہیں۔ اگر سینے میں دبائو یا درد، شدید سانس کی دشواری، اچانک پسینہ، چکر، بے ہوشی یا دوسری غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی مدد حاصل کرنا زیادہ محفوظ ہے۔
باقاعدہ طبی معائنہ بھی خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جنہیں بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول یا دل کی بیماری کے دیگر خطرات لاحق ہوں۔ دل کی صحت صرف عمر رسیدہ لوگوں کا مسئلہ نہیں۔ صحت مند عادات کی بنیاد زندگی کے ہر مرحلے میں رکھی جا سکتی ہے۔ بچوں کو کھیلنے دیں۔ نوجوانوں کو جسمانی سرگرمی کی طرف راغب کریں۔بڑوں کو اپنے بلڈ پریشر، شوگر اور وزن سے باخبر رہنے کی ترغیب دیں۔ اور بزرگوں کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ بیماری عمر کا لازمی حصہ ہے۔ ہر سال منایا جانیوالا یومِ قلب صرف ایک تاریخ نہیں، ایک یاد دہانی ہے۔ یہ یاد دہانی کہ ہمارے اندر ایک ایسا دل ہے جو ہماری مرضی کے بغیر بھی ہمارے لیے کام کرتا رہتا ہے۔ ہم خوش ہوں یا غمگین۔ کامیاب ہوں یا ناکام۔ مصروف ہوں یا بے خبر۔ دل اپنا کام نہیں چھوڑتا۔ تو پھر کیا ہمارا بھی اس کے ساتھ کوئی فرض نہیں؟۔ دل کو صرف محبت کی شاعری میں یاد کرنا کافی نہیں۔ اسے صحت مند زندگی میں بھی جگہ دینا ہو گی۔ کبھی نمک کم کر کے۔ کبھی چند قدم زیادہ چل کر۔ کبھی سگریٹ سے انکار کرکے۔ کبھی اپنی پلیٹ پر نظر ڈال کر۔ کبھی پوری نیند لے کر۔ اور کبھی وقت پر ڈاکٹر سے مشورہ کرکے۔
زندگی کی ایک بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ انسان دوسروں کے دل کا خیال رکھنے میں پوری زندگی گزار دیتا ہے، مگر اپنے دل کا خیال رکھنا بھول جاتا ہے۔ ہم کسی عزیز کو پریشان دیکھیں تو فوراً پوچھتے ہیں: ’’ کیا ہوا؟‘‘۔ مگر جب ہمارا اپنا دل خاموشی سے تھک رہا ہو تو ہم اس سے یہ سوال بھی نہیں کرتے۔
غالب کا سوال شاید آج ہمارے لیے ایک نئی معنویت رکھتا ہے: ’’ دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟‘‘۔ دل شاید جواب دے: مجھے کچھ نہیں ہوا۔ تم نے بس میرا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔
اپنے دل کی آواز سننے کا انتظار نہ کیجیے۔ اس سے پہلے اپنے دل کی صحت سنبھال لیجیے۔ کیونکہ دل صرف دھڑکتا نہیں۔ یہ زندگی کو آگے بڑھاتا ہے۔ اور جو دل ہماری پوری زندگی کا خیال رکھتا ہے، اسے بھی اپنے حصے کا خیال چاہیے ۔

جواب دیں

Back to top button