تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیات

مارکو روبیو نے ایرانی وفد کو امریکا چھوڑنے کا حکم کیوں دیا تھا؟

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک ایرانی وفد کو امریکا چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

 

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ نے سفارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد مذکورہ احکامات جاری کیے تھے۔

 

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق امریکی مشن برائے اقوامِ متحدہ نے پیر کی شام روبیو کی ہدایت پر اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن کو مطلع کیا کہ عباس عراقچی کی سربراہی میں وفد کو فوری طور پر نیویارک چھوڑنا ہو گا۔

 

رپورٹ میں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی ختم ہونے کے بعد ایرانی وفد کو مزید رکنے کی اجازت نہیں تھی۔

 

ایکسیوس کے مطابق امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایرانی وفد مقامی وقت کے مطابق منگل کی صبح 1 بج کر 20 منٹ پر نیویارک سے دوحہ جانے والی پرواز میں سوار ہوا

 

پورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کو پیر کی صبح ایران کے ساتھ مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت کی توقع تھی، تاہم سہ پہر تک واضح ہو گیا کہ بات چیت تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔

 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قطری ثالث فریقین کے ساتھ ایک سمجھوتے کی تجویز پر مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

رپورٹ میں ایک دوسرے ذریعے کے حوالے سے کہا گیا کہ عباس عراقچی کا پیر کی شب ہی ایران واپس جانے کا پروگرام طے تھا۔

 

رپورٹ کے مطابق ایرانی مشن نے امریکی میڈیا رپورٹس کے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفد کی روانگی پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوئی تھی اور اس بارے میں امریکی محکمۂ خارجہ کو بھی پیشگی آگاہ کر دیا گیا تھا۔

 

ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ مشن ایرانی وفد پیر کی شام نیویارک سے روانہ ہوا، جس کا شیڈول 17 ستمبر کو امریکی محکمۂ خارجہ کو بھی پیشگی بتا دیا گیا تھا۔

 

مشن نے کہا کہ کچھ بھی حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد امریکی محکمۂ خارجہ نے بے بنیاد اور بے وقعت خبروں کی تشہیر کا سہارا لیا ہے۔

 

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے رواں سال 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔

 

تہران نے خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دیا اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز کو عملاً بند کر دیا۔

جواب دیں

Back to top button