Column

سوشل میڈیا اپنا اعتبار کھو رہا ہے

سوشل میڈیا اپنا اعتبار کھو رہا ہے
تحریر:قاسم علی
سوشل میڈیا نے اپنے سفر کا آغاز عوامی اعتماد سے کیا تھا لیکن آج وہی اعتماد تیزی سے کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب سلجھے ہوئے اور باشعور لوگ اس پر آنے والی ہر بات پر پہلے جیسا یقین کرتے ۔ اپنے آغاز کے دور میں سوشل میڈیا نے معلومات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کیا۔ ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا موقع ملا۔ یہ ایک بڑی تبدیلی تھی لیکن ہر آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے اس آزادی کا استعمال تو بھرپور کیا مگر ذمہ داری کو نظر انداز کر دیا گیا۔ آج ہر شخص اپنے موبائل کو استعمال کر کے خود کو صحافی بھی سمجھتا ہے اور تجزیہ کار بھی لیکن افسوس کہ اس کی دی گئی خبروں اور گفتگو میں نہ صداقت نظر آتی ہے اور نہ تحقیق ۔ محض قیاس آرائیوں پر مبنی کونٹیٹ سے سوشل میڈیا کا پیٹ بھر کر کنفیوژن پھیلائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مثبت اور اصلاحی مواد کو وہ توجہ نہیں ملتی جو بیہودہ گفتگو اور سنسنی خیز موضوعات کو ملتی ہے۔ علمی گفتگو ہزاروں لوگوں تک پہنچتی ہے جبکہ کسی کی عزت اچھالنے والی ویڈیو لاکھوں افراد دیکھ لیتے ہیں۔ کسی کے گھریلو اور ذاتی معاملات کو عوامی تماشہ بنا دینا اب معمول بنتا جا رہا ہے۔ چند روز سے ایک میاں بیوی کا ذاتی اختلاف پورے ملک کی تفریح کا باعث بنا ہوا ہے۔ مختلف پروگراموں اور پوڈ کاسٹس میں ایسی گفتگو کی جا رہی ہے جسے ایک شریف خاندان اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر سن بھی نہیں سکتا۔ افسوس کہ ایسا مواد نہ صرف دھڑلے سے بنایا جا رہا ہے بلکہ اسے غیر معمولی دلچسپی سے دیکھا بھی جا رہا ہے۔ فیک نیوز کی بھرمار نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ آئے روز کسی معروف شخصیت کے انتقال کی خبر پھیلا دی جاتی ہے۔ چند لمحوں میں لاکھوں لوگ اسے آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اہل خانہ صدمے سے دوچار اور مداح غم میں ڈوب جاتے ہیں تاہم پھر چند گھنٹے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ خبر جھوٹ تھی۔ بعض اوقات تو متعلقہ شخصیت کو خود ویڈیو پیغام جاری کر کے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ معروف فوک گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی اس اذیت سے کئی مرتبہ گزر چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ چند ویوز اور شہرت کے لیے کسی کے جذبات سے کھیلنے کا حق ان لوگوں کو کس نے دیا ہے۔اسلام نے خبر کے معاملے میں جو اصول دیا وہ آج کے ڈیجیٹل دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو تاکہ نادانی میں کسی کو نقصان نہ پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔
اگر سوشل میڈیا استعمال کرنے والا ہر شخص صرف اس ایک حکم پر عمل کر لے تو جھوٹ اور افواہوں کا ایک بڑا دروازہ بند ہو سکتا ہے۔ ایک اور خطرناک رجحان یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے یک طرفہ کہانیوں کو بھی سچ بنا دیا ہے۔ کوئی شخص اپنی بات بیان کرتا ہے اور ہزاروں لوگ دوسرا موقف سنے بغیر فیصلہ بھی سنا دیتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک معروف حکمت اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے پاس آ کر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی بیان کرے تو صرف اس کی بات سن کر فیصلہ نہ کرو۔ ممکن ہے حقیقت کا دوسرا رخ اس سے بالکل مختلف ہو۔ انصاف ہمیشہ تحقیق مانگتا ہے۔ جذبات نہیں۔
یہ صورت حال اخلاقی مسئلے سے بڑھ کر اب معاشرتی بحران بنتی جا رہی ہے۔ جب نئی نسل روزانہ جھوٹی خبروں اور کردار کشی کو تفریح بنتے دیکھے گی تو اس کی سوچ بھی اسی ماحول میں پروان چڑھے گی۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں قومی سطح پر آگاہی مہم چلائے۔ تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل اخلاقیات کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ ایسے موثر قوانین نافذ کیے جائیں جو جھوٹی خبروں اور کردار کشی کی حوصلہ شکنی کریں لیکن یہ قانون سازی جائز تنقید اور آزادی اظہار کو متاثر نہ کرے۔ قانون کا حق کی آواز کو دبانا نہیں بلکہ جھوٹ کے کاروبار کو روکنا ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا ایک نعمت بھی بن سکتا ہے اور ایک فتنہ بھی تاہم یہ فیصلہ فیس بک، ٹک ٹاک یا یوٹیوب کے الگورتھم نے نہیں بلکہ ہم نے کرنا ہے۔ اگر ہم نے تحقیق کو نظر انداز کیا اور سنسنی کو سچ پر ترجیح دی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اعتماد کسی معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ اگر یہ سرمایہ ضائع ہو جائے تو پھر صرف سوشل میڈیا نہیں بلکہ پورا معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا جہاں سے واپسی شاید ممکن نہ رہے۔ اللہ ہمیں ہدایت دے۔

جواب دیں

Back to top button