CM RizwanColumn

سکیورٹی یا معاشی ایمرجنسی؟

جگائے گا کون؟

سکیورٹی یا معاشی ایمرجنسی؟

تحریر: سی ایم رضوان

صوبہ کے پی کے میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی باتیں ان دنوں ہر طرف سے سامنے آ رہی ہیں لیکن ملک کے اکثریتی عوام کو مہنگائی اور معاشی ایمرجنسی کی ضرورت بھی شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے تو ایمرجنسی نامی اس بلا کی آئینی حیثیت دیکھنی چاہئے جو ہنگامی حالات کے بعد اپنے پنجے گاڑتی ہے۔ پاکستان میں کسی صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے لئے بنیادی طور پر آرٹیکل 232اور آرٹیکل 234کے تحت باقاعدہ قانونی اور آئینی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس ضمن میں آئین کا آرٹیکل 234اس وقت لاگو ہوتا ہے جب کسی صوبے میں ایسی صورتحال پیدا ہو جائے جہاں صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلانا ناممکن ہو جائے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ صدرِ مملکت کو متعلقہ صوبے کے گورنر کی طرف سے باقاعدہ رپورٹ موصول ہو ( یا صدر خود اس بات سے مطمئن ہوں) کہ صوبے کا نظام آئینی طریقوں کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا. اس کے تحت صدرِ مملکت فرمان جاری کر کے صوبائی حکومت کے تمام یا کوئی سے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں، صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمنٹ کو سونپ سکتے ہیں اور گورنر کو صوبے کا انتظام سنبھالنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔ اس صدارتی حکم کو دو ماہ کے اندر پارلیمنٹ ( قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس) سے منظور کرانا لازمی ہوتا ہے۔ آرٹیکل 232کے تحت ملک کے کسی بھی حصے میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے اگر ریاست کی سلامتی جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسے اندرونی انتشار کی وجہ سے خطرے میں ہو جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد اس شق میں یہ شرط بھی شامل کی گئی ہے کہ اگر صوبے کے اندرونی حالات کی بنیاد پر ایمرجنسی لگانا ہو تو اس کے لئے متعلقہ صوبائی اسمبلی یا پارلیمنٹ سے مخصوص آئینی تقاضے پورے کرنا ہوتے ہیں۔ اگرچہ آئین یہ گنجائش فراہم کرتا ہے، لیکن سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلوں ( مثلاً پیر صابر شاہ کیس) کے مطابق آرٹیکل 234کا اطلاق محض سیاسی اختلاف یا معمولی نوعیت کے انتظامی مسائل پر نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت درکار ہوتے ہیں کہ صوبائی حکومت نے عملاً آئین کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے یا صوبائی نظامِ حکومت مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شقیں انتہائی غیر معمولی حالات کے لئے رکھی گئی ہیں۔ یہاں پھر عوام کی مصیبتوں کا خیال آتا ہے کہ وہ اس وقت معاشی طور پر شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

مہنگائی سے قطع نظر ملک کی موجودہ سیاسی، سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں وفاقی حکومت کی طرف سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے بیانات، چہ میگوئیاں اور واضح بیانات کثرت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور دیگر حکومتی وزراء نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اگر آئینی تقاضے پورے ہوں اور حالات اجازت دیں تو آئین کے تحت یہ قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت اور اتحادی رہنمائوں ( جن میں وزیر قانون اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی شامل ہیں) کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کے مسائل، دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں، حکومتی کارکردگی اور سیاسی کشمکش کی وجہ سے ایمرجنسی یا گورنر راج کا آئینی آپشن میز پر موجود ہے۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی قیادت نے اس طرح کے کسی بھی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی دبائو قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ ایسی دھمکیوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور سکیورٹی فورسز بالخصوص پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جانی نقصان پر ریاستی اور عسکری سطح پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال کے تدارک اور سکیورٹی خامیوں کو دور کرنے کے لئے عسکری قیادت کی جانب سے بعض ہنگامی اقدامات اور لائحہ عمل پر سنجیدگی سے غور اور عمل درآمد جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی عسکری حکمت عملی اور انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لائی گئی ہے۔ وفاقی اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جامع قومی وژن کے تحت آپریشنز کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ان کے ٹھکانوں پر ہی ختم کیا جا سکے۔ پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کو مزید سخت کرنے اور دراندازی کو روکنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور موثر بارڈر مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے، کیونکہ سکیورٹی اداروں کا موقف رہا ہے کہ کے پی کے میں ہونے والی زیادہ تر دہشت گردی کے تار سرحد پار سے جڑے ہیں۔ دوسرا یہ کہ موجودہ سیٹ اپ میں صوبائی و وفاقی سطح پر کوآرڈینیشن کا فقدان ہے جس کا فوری تدارک ضروری ہے۔ سکیورٹی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور کے پی کے کی صوبائی حکومت کے درمیان اکثر سرد جنگ یا پالیسیوں کا تضاد دیکھا گیا ہے جبکہ عسکری سطح پر یہ کوشش کی جاتی ہے کہ سیاسی چپقلش سے بالا تر ہو کر صوبائی پولیس اور کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے، تاکہ فرنٹ لائن پر صوبائی فورسز بھی موثر جواب دے سکیں۔ داخلی سلامتی اور جانی نقصان کو کم کرنے کے لئے نئی حفاظتی لائن، سکیورٹی اہلکاروں اور افسران کی قربانیوں کے بعد ملٹری کمانڈ کی طرف سے فیلڈ کمانڈرز اور فارمیشنز کو سخت حفاظتی ایس او پیز جاری کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سکیورٹی لیپس یا غفلت کی گنجائش کو ختم کیا جا سکے۔ ان دنوں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور اعلیٰ عسکری قیادت کے مسلسل دورے اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ فوجی جوانوں اور عوام کے خون کا حساب لیا جائے گا اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور فتنہ الخوارج کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اس تمام تر صورتحال میں عسکری قیادت کی بنیادی ترجیح یہی ہے کہ سیاسی بحث سے ہٹ کر زمینی حقائق کی بنیاد پر عسکری و انٹیلیجنس ڈھانچے کو اتنا مضبوط کیا جائے کہ بار بار ہونے والے جانی نقصانات کو روکا جا سکے۔

خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال اس وقت ملک کے سب سے بڑے سکیورٹی چیلنجز میں سے ایک ہے کیونکہ کے پی کے اور سابقہ فاٹا کے اضلاع میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سب سے زیادہ بوجھ سکیورٹی فورسز پر ہے جبکہ عام شہریوں کی قربانیاں بھی بیش بہا ہیں۔ پاک فوج، ایف سی، پولیس اور سی ٹی ڈی کے جوان روزانہ کی بنیاد پر آپریشنز میں شہید اور زخمی ہو رہے ہیں۔ اس لئے یہ سوال قدرتی ہے کہ اتنی قربانیوں کے بعد اس کا مستقل حل کیا ہونا چاہیے۔ آئین کے تحت امن و امان اور انسداد دہشت گردی وفاق اور صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسی لئے ماضی میں چند فریم ورک بنائے گئے تھے جن میں سے نیشنل ایکشن پلان 2014ء سب سے زیادہ قابل ذکر ہے جس میں طے ہوا تھا کہ تمام صوبے، وفاق، فوج اور انٹیلی جنس ادارے دہشت گردی کے خلاف ایک پیج پر ہوں گے۔ اسی پلان کے تحت ہر صوبے میں وزیر اعلیٰ اور کور کمانڈر کی سربراہی میں ایپکس کمیٹی ہوتی ہے تاکہ سول اور ملٹری قیادت میں کوآرڈینیشن رہے۔ نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینیشن نیکٹا کے نام سے انٹیلی جنس شیئرنگ کے لئے ادارہ بنایا گیا تھا۔ تاہم یہ پالیسی تو بن گئی لیکن اب مسئلہ اس پر عمل درآمد کا ہے۔ اس میں تین آراء پائی جاتی ہیں۔ پہلی رائے یہ ہے کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے، اسے صوبائی سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔ جب تک وفاق، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور کے پی کے ایک ہی بیانیے، ایک ہی آپریشنل حکمت عملی اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف یکساں کارروائی پر متفق نہیں ہوں گے، تو ایک صوبے میں آپریشن سے دبائو دوسرے صوبے میں منتقل ہوتا رہے گا۔ دوسری رائے اس سے مختلف ہوں ہے کہ کے پی کے حکومت کا موقف ہوتا ہے کہ امن و امان کے لئے وسائل، ایف سی اور پولیس کی جدید تربیت و اسلحہ، اور آئی ڈی پیز اور بارڈر مینجمنٹ کے لئے وفاقی فنڈز ضروری ہیں۔ صوبائی حکومت کے پاس اختیار محدود ہے جب کہ تھریٹ لیول بہت زیادہ ہے۔ اس اختلاف کے خاتمے کے لئے صوبائی حکومت کو بھی اپنی ترجیحات میں انسداد دہشت گردی کو اول رکھنا چاہیے۔ جیسے پولیس اور سی ٹی ڈی کو مضبوط کرنا، انتہا پسندانہ لٹریچر اور سہولت کاری کے نیٹ ورک پر کریک ڈائون، اور بلدیاتی سطح پر انٹیلی جنس کوآرڈینیشن ضروری اوامر ہیں۔ عملی طور پر ایک مربوط پالیسی کے لئے ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں کو باقاعدہ اور فیصلہ کن بنانا لازم ہے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کو سیاسی مداخلت سے پاک اور جدید ہتھیاروں سے لیس کرنا بھی ضروری ہے۔ تمام صوبوں میں سہولت کاروں، مالی معاونت اور نقل و حرکت پر ایک جیسا قانون نافذ کرنا بھی انتہائی اہم ہے لیکن افسوس کہ کے پی کے میں جب سے پی ٹی آئی کی حکومت منتخب ہوتی چلی آ رہی ہے وہ اس نیشنل ایکشن پلان کی بعض شقوں اور ترجیحات کو اپنے سیاسی خیالات اور مفادات کے تحت اہمیت دینے سے یکسر پرہیز کرتی آ رہی ہیں جس سے دہشت گردی کے خلاف اس صوبہ میں وہ کوآرڈینیشن قائم نہیں ہو سکی جو کہ دیگر صوبوں اور وفاق کے درمیان قائم ہے۔ جس کا لامحالہ نتیجہ یہ سامنے آ رہا ہے کہ اس صوبہ میں ایک پاک فوج اور عوام کی شہادتوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور دوسرا یہاں دہشت گردوں کو لاتعداد سافٹ ٹارگٹس مل رہے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک اور پرتشویش صورت حال ہے۔ لہٰذا موجودہ قربانیوں کے بعد اب صرف بیانات نہیں بلکہ وفاق اور تمام صوبوں کا ایک مشترکہ، مربوط تحریری اور قابل احتساب سکیورٹی روڈ میپ لازمی ہے۔

یہ تو تھی دہشت گردی کی صورت حال اور اس کے تدارک کے لئے آئینی طور پر انتہائی اقدام یعنی ایمرجنسی کی کہانی لیکن ایک کہانی جو کہ ام الامراض یعنی حد سے زیادہ مہنگائی اور معاشی بدحالی کی کہانی ہے جس کے لئے پاکستان کے آئین (1973)میں براہِ راست معاشی یا مالیاتی ایمرجنسی کی شق سرے سے موجود ہی نہیں ہے جیسا کہ بعض دیگر ممالک کے آئین میں ہوتی ہے ( مثلاً بھارت کے آئین کا آرٹیکل 360) ہے۔ تاہم پاکستان میں اگر معاشی بدحالی اتنی بڑھ جائے کہ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں بے قابو فسادات، خانہ جنگی یا شدید ترین لا اینڈ آرڈر کے مسائل پیدا ہو جائیں جو حکومت کی رٹ کو ختم کر دیں، تو اس شق کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کی بنیادی وجہ معیشت نہیں بلکہ ’’ امن عامہ کا تباہ کن بحران‘‘ ہی بنے گا۔ واضح رہے کہ محض مہنگائی، بی روزگاری، کرنسی کی گراوٹ یا معاشی بدحالی کو آئینِ پاکستان کے تحت براہِ راست ’’ ایمرجنسی‘‘ کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لئے حکومتیں عام قانون سازی، مالیاتی ایمرجنسی ( بغیر آئینی شق کے ہنگامی معاشی پیکیج یا صدارتی آرڈیننس)، مالیاتی اداروں کے قوانین اور پارلیمنٹ کے ذریعے پالیسی فیصلے کرتی ہیں، نہ کہ آئینی ایمرجنسی کے نفاذ کے ذریعے۔ لیکن حالات چیخ چیخ کر دہائی دے رہے ہیں کہ ملک میں سکیورٹی کے ساتھ ساتھ مالیاتی ایمرجنسی بھی نافذ ہونی چاہئے۔ اب دیکھتے ہیں کہ سکیورٹی ایمرجنسی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے معاشی ایمرجنسی کی بھی بات کرتے ہیں یا نہیں۔

جواب دیں

Back to top button