ColumnRoshan Lal

پاکستان کی نجات کا محسن نقوی فارمولا

پاکستان کی نجات کا محسن نقوی فارمولا
روشن لعل
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ تسلیم کرنے کے بعد کہ ملک میں نظام حکمرانی تباہ ہو چکا ہے، بحرانوں کے شکار پاکستان کی نجات کا یہ فارمولا پیش کیا کہ اسے چار صوبوں کی بجائے کئی مزید چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ محسن نقوی نے جس بائبرڈ نظام حکمرانی کے تباہ ہونے کا اعتراف کیا ،وہ خود بھی اسی نظام کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے حیران کن بات یہ ہے کہ ہائبرڈ نظام حکمرانی کا حصہ ہونے کے باوجود محسن نقوی نے نظام حکومت کی تمام تر برائیوں کا ذمہ دار روایتی سیاستدانوں کو قرار دیا۔ یہ ہائبرڈ نظام حکمرانی صرف زمانہ حال کا مظہر نہیں بلکہ قیام پاکستان کے فوراً بعد شروع ہونے والی ناقابل تحسین تاریخ کا تسلسل ہے۔ محسن نقوی نے اس ہائبرڈ نظام حکومت کے تباہ ہونے کا جس لب و لہجے میں اقرار کیا اس سے ان حقیقتوں کا انکار ظاہر ہوتا ہے جن کی وجہ سے یہ ملک اس حد تک سیاسی، سماجی اور معاشی انتشاروں کا شکار ہوا کہ عمر کے صرف پچیسویں برس، اسے لاکھوں لوگوں کے خون کا الزام سر پر ہونے کے باوجود ٹوٹنے سے نہ بچایا جاسکا۔
پاکستان کی ناقابل تحسین تاریخ کو نظر انداز کر کے ، محسن نقوی نے رائج نظام حکمرانی کے تباہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے ، ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے کئی چھوٹے یونٹوں میں تقسیم کرنے کا جو حل پیش کیا اس پر صرف دانشوروں نے نہیں بلکہ عام لوگوں نے بھی اپنے تحفظات کے اظہار کے ساتھ مختلف سوال پوچھنا شروع کردیئے ہیں۔ جو سوال پوچھے جارہے ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ کیا دنیا میں ایسی کوئی مثال موجود ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ ، قومیتوں کے وجود کو نظر انداز کر کے ان کے علاقوں کی چھوٹے یونٹوں میں تقسیم سے کسی ملک کے معاشی و سماجی مسائل حل کیے گئے ہوں۔ جن حلقوں نے ملک کی حد سے زیادہ آبادی کو چھوٹے یونٹوں میں تقسیم کا جواز قرار دیا ، ان سے بھی یہ پوچھا جارہا ہے کہ گزشتہ سو برسوں میں امریکہ نے سائنسی، سماجی اور معاشی میدانوں میں ترقی کرتے ہوئے دنیا کی ایسی ایمپائرز کی جگہ خود کو عالمی طاقت تسلیم کروایا جن کی نوآبادیوں میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا ، کیا امریکہ کواس ترقی کے لیے اپنی ریاستوں کو تقسیم کرنا پڑا تھا۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ گزشتہ سو برس کے دوران امریکہ کی آبادی 117.4ملین سے بڑھ کر 342ملین ہو چکی ہے، اس دوران اوکلوہاما، الاسکا اور ہوائی نام کی تین مزید ریاستیں امریکہ میں شامل ضرور ہوئیں لیکن بڑھتی ہوئی آبادی کو نہ تو کسی ریاست کے مسائل کی وجہ قرار دیا گیا اور نہ ہی ریاستوں کی تقسیم کو کسی مسئلے کا حل سمجھا گیا۔ امریکہ کو دنیا کی سپر پاور تصور کرتے ہوئے اگر ایک طرف رکھ دیا جائے تو مسائل حل کرنے کے لیے کسی ملک کو چھوٹے یونٹوں میں تقسیم کرنے کی مثال ایسی ریاستوں میں بھی نظر نہیں آتی جنہیں تیسری دنیا کے ملک کہا جاتا ہے۔ کسی اور کی بات کیا کریں ، پاکستان سے علیحدہ ہو کر الگ ملک بننے والے بنگلہ دیش کے قیام کے وقت اس کی باقی ماندہ پاکستان سے دس فیصد زیادہ آبادی کو بھی اس کے ابتدائی مسائل میں شامل گیا تھا۔ زیادہ آبادی کے مسئلہ کے باوجود وہاں کسی نے بھی ملک کی چھوٹے یونٹوں میں تقسیم کو اس کے مسائل کا حل تصور نہیں کیا تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ بنگلہ دیش کو چھوٹے یونٹوں میں تقسیم کیے بغیر نہ صرف وہاں آبادی میں اضافے کو کنٹرول کیا گیا بلکہ اس کی معیشت کو بھی پاکستان کی نسبت زیادہ مضبوط بنایا گیا۔ یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام کے وقت اس کی آبادی پاکستان کی آبادی سے دس فیصد زیادہ تھی جبکہ آج پاکستان کی آبادی بنگلہ دیش کی آبادی سے قریباً 45فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔
کسی نئے تصور کا تعلق چاہے سیاسیات، تاریخ ، ادب اور عمرانیات جیسے سوشل سائنس کے شعبوں سے ہو یا نیچرل سائنس کی کسی شاخ سے، اس تصور کو پیش کرنے کے کچھ ایسے لوازمات ہیں جو پاکستان جیسے کسی ملک میں کشید نہیں ہوئے بلکہ دنیا کے مستند دانشوروں کے وضع کردہ ہیں۔ ان لوازمات کے مطابق کوئی بھی نیا تصور اس وقت تک قابل توجہ نہیں سمجھا جاسکتا جب تک سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد، ٹھوس علمی دلائل کے ساتھ اس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے ان مقاصد کے حصول کے لیے کوئی قابل عمل منصوبہ پیش نہ کیا گیا ہو۔ اگر کوئی تصور ملک کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی سے متعلق ہو تو یہ خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس تصور کے تحت تیار کیے گئے منصوبے کے نفاذ سے کسی قسم کا انتشار پیدا ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ مذکورہ لوازمات کا خیال رکھتے ہوئے، پیش کیے جانے کے بعد بھی کوئی تصور اس وقت تک قابل قبول نہیں سمجھا جاتا جب تک اس پر اٹھائے گئے اعتراضات کا تسلی بخش جواب نہ دے دیا جائے۔ محسن نقوی نے ملک کو چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹوں میں تقسیم کرنے کا جو تصور پیش کیا اس کا قابل قبول ہونا تو دور کی بات، اس کے قابل توجہ ہونے پر بھی سوال موجود ہیں کیونکہ ضروری لوازمات پورے کیے بغیر اس کا اعلان کیا گیا ہے۔
محسن نقوی نے وفاق پاکستان کی اکائیوں کو تقسیم کرنے کا جو تصور پیش کیا ، اس کا سوشل میڈیا پر پوسٹ مارٹم کرنے والوں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جنہوں نے اس پہلو پر غور کیاکہ وزیر داخلہ نے صحافیوں کی بجائے جن لوگوں کے سامنے اپنا تصور پیش کیا وہ کون ہیں ۔ وزیر داخلہ نے جس’’ پاکستان اکنامک سمٹ ‘‘ میں اپنا تصور پیش کیا وہ پاکستان میں منعقدہ اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس ہے۔ اس کانفرنس کا انعقاد یونائیٹڈ بزنس گروپ نے پاکستان چیمبرز آف کامرس اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اشتراک سے کیا۔ جن لوگوں کی تنظیموں نے ’’ پاکستان اکنامک سمٹ‘‘ کا انعقاد کیا ، ان لوگوں نے محسن نقوی کے صوبائی اکائیوں کی تقسیم کا تصور پیش کرنے پر ایسے دل کھول کر تالیاں بجائیں جیسے وہ یہ کام کرنے کے لیے پہلے سے تیار بیٹھے ہوں۔ ان لوگوں نے صرف محسن نقوی کے لیے تالیاں نہیں بجائیں، بلکہ ان کے سامنے یہ مطالبہ بھی رکھا کہ ان کی بزنس کمیونٹی کے لیے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ سینیٹ میں بھی سیٹیں مخصوص کی جائیں۔ جب محسن نقوی نے ملک کے نظام حکمرانی کے تباہ ہونے کا اعلان کیا تو تالیاں بجانے والوں نے یہ سوچنا گوارا نہ کیا کہ جن لوگوں کی شراکت داری میں چلنے والا موجودہ نظام حکمرانی تباہ ہوا وہ کون ہیں اور کن نرسریوں میں ان کی آبیاری ہوتی رہی۔ محسن نقوی کے صوبائی اکائیوں کی تقسیم کے تصور پر تالیاں بجانے والوں سے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ جب ملک کا نظام حکمرانی تباہ کیا جارہا تھا ، اس وقت وہ کیا کر رہے تھے ، کیا وہ نظام حکمرانی کی تباہ کاریوں کا باعث بننے والوں سے خود کو الگ کر کے کوئی ایسی مثال پیش کر سکتے ہیں، جس سے یہ ثابت ہو کہ ان کی تنظیموں نے ملک کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لیے ویسا کردار ادا کرنے کی کوشش کی جو، ڈھاکہ چیمبر آف کامرس نے بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کے لیے کیا۔

جواب دیں

Back to top button