Column

گڈ گورننس، قومی سلامتی اور پاکستان کو درپیش چیلنجز

گڈ گورننس، قومی سلامتی اور پاکستان کو درپیش چیلنجز
شہرِ خواب
صفدر علی حیدری
پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے داخلی و خارجی نوعیت کے ایسے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے جنہوں نے قومی سلامتی، معاشی استحکام اور سماجی ترقی کو متاثر کیا ہے۔ دہشت گردی، بد عنوانی، سیاسی عدم استحکام، کمزور ادارہ جاتی کارکردگی، بے روزگاری، غربت اور گورننس کے مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا صرف عسکری کامیابیاں ملک کو پائیدار امن فراہم کر سکتی ہیں، یا اس کے ساتھ موثر حکمرانی، مضبوط ادارے، قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد بھی ناگزیر ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ قومی سلامتی اور گڈ گورننس ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ایک کمزور نظامِ حکمرانی کسی بھی مضبوط ریاست کو اندر سے کمزور کر سکتا ہے، جبکہ اچھی حکمرانی قومی استحکام کی مضبوط بنیاد بنتی ہے۔
گڈ گورننس سے مراد ایسا نظامِ حکمرانی ہے جس میں قانون کی بالادستی، شفافیت، احتساب، میرٹ، انصاف، مثر منصوبہ بندی اور عوامی خدمت کو یقینی بنایا جائے۔ اچھی حکمرانی کا مقصد صرف سرکاری امور چلانا نہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہے جہاں ہر شہری خود کو محفوظ، باوقار اور مساوی حقوق کا حامل محسوس کرے۔ جب عوام کو بروقت انصاف، معیاری تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات میسر ہوں تو ریاست پر ان کا اعتماد بڑھتا ہے، اور یہی اعتماد کسی بھی ملک کی اصل طاقت ہوتا ہے۔
آج قومی سلامتی کا تصور بھی پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔ ماضی میں اسے صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن موجودہ دور میں مضبوط معیشت، تعلیم، صحت، خوراک، ماحولیات، سائبر سیکیورٹی، توانائی اور سماجی ہم آہنگی بھی قومی سلامتی کا حصہ ہیں۔ ایک مضبوط فوج ریاست کی ناگزیر ضرورت ہے، مگر اس کے ساتھ مضبوط معیشت، موثر عدالتی نظام، جواب دہ سول ادارے اور فعال مقامی حکومتیں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ یہی عناصر ریاست کو دیرپا استحکام عطا کرتے ہیں۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل اور کٹھن جدوجہد کی ہے۔ مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اور عام شہریوں نے بے مثال قربانیاں دے کر امن کی بحالی میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ ان قربانیوں کی بدولت دہشت گردی کے بڑے نیٹ ورک کمزور ہوئے اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ دہشت گردی صرف عسکری کارروائیوں سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔ جب تک انتہا پسندی کے معاشی، سماجی اور تعلیمی اسباب کا خاتمہ نہیں ہوگا، نئے خطرات جنم لیتے رہیں گے۔
پاکستان کے دور افتادہ، پسماندہ اور سرحدی علاقوں کے مسائل کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں ترقی کا سفر رک جائے، بنیادی سہولیات نہ ہوں، صحت کے مراکز دور ہوں، معیاری تعلیم میسر نہ آئے، روزگار کے مواقع محدود ہوں اور انصاف کے لیے لوگوں کو سیکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑے، وہاں احساسِ محرومی جنم لیتا ہے۔ یہی محرومی آہستہ آہستہ بداعتمادی، بے چینی اور بعض اوقات انتہا پسند عناصر کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہے۔ بھوک، غربت اور ناانصافی صرف معاشی مسائل نہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں، کیونکہ مایوس نوجوانوں کو گمراہ کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ اس لیے ریاست کی موجودگی صرف سیکورٹی چوکیوں کی صورت میں نہیں بلکہ اسکول، اسپتال، عدالت، سڑک اور روزگار کی شکل میں بھی محسوس ہونی چاہیے۔
بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور دیگر حساس علاقوں میں امن کے قیام کے لیے سیکورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری، مقامی صنعت، تعلیم اور صحت پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ جب ہر شہری خود کو قومی ترقی میں برابر کا شریک محسوس کرے گا تو قومی یک جہتی مزید مضبوط ہوگی اور منفی عناصر کے لیے نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا مشکل ہو جائے گا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نئے صوبوں کے قیام یا موجودہ صوبوں کی تقسیم کا معاملہ بھی اکثر سیاسی بحث کا موضوع رہا ہے۔ بدقسمتی سے کئی مواقع پر اس حساس مسئلے کو انتظامی ضرورت کے بجائے سیاسی مفادات اور انتخابی نعروں کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے قومی اتحاد اور وفاقی ہم آہنگی متاثر ہوئی۔ اگر کسی علاقے میں آبادی، جغرافیہ اور انتظامی تقاضے نئے صوبے کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس پر آئین، حقائق، ماہرین کی رائے اور قومی اتفاقِ رائے کی روشنی میں غور کیا جا سکتا ہے، لیکن صرف نئے صوبے بنا دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اصل مسئلہ گڈ گورننس ہے۔اگر اختیارات، وسائل اور فیصلے نچلی سطح تک منتقل نہ ہوں تو نئے صوبے بھی پرانے مسائل کا شکار ہو جائیں گے۔ مضبوط اور بااختیار مقامی حکومتیں ہی گڈ گورننس کی حقیقی بنیاد ہیں۔ شہریوں کے روزمرہ مسائل، جیسے صاف پانی، نکاسی آب، صفائی، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بنیادی صحت، پرائمری تعلیم اور بلدیاتی خدمات مقامی سطح پر حل ہونے چاہئیں۔ افسوس کہ ہمارے ہاں ایک گلی کی بند نالی یا ٹوٹی ہوئی سڑک کا غصہ بھی وفاقی یا صوبائی حکومت پر نکالا جاتا ہے، حالانکہ یہ مقامی حکومتوں کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ جب تک مقامی اداروں کو آئینی تحفظ، مالی وسائل اور انتظامی اختیار نہیں دیا جائے گا، اس وقت تک گڈ گورننس کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو صحت، تعلیم، انصاف اور دیگر بنیادی خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا ہی حقیقی ترقی ہے۔
خارجہ محاذ پر مسئلہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ پاکستان مسلسل یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اسی طرح خطے کے تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ تنازعات کے حل میں سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کو ترجیح دیں تاکہ جنوبی ایشیا امن، ترقی اور خوش حالی کی طرف بڑھ سکے۔
پاکستان کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین، ترکی اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ تعلقات باہمی احترام، تعاون اور اعتماد پر مبنی ہیں۔ ان تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم اور صنعتی تعاون کے ذریعے مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ مضبوط خارجہ تعلقات بھی قومی سلامتی اور معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
میڈیا اور سوشل میڈیا بھی قومی زندگی میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ذمہ دارانہ صحافت، حقائق پر مبنی رپورٹنگ اور جھوٹی اطلاعات کی روک تھام آج پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر اختلاف کو نفرت، اشتعال انگیزی اور جھوٹے پراپیگنڈے میں تبدیل کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے۔ اسی طرح عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی خبر کو قبول کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کی ترقی اور قومی سلامتی کا راستہ صرف عسکری طاقت، صرف مضبوط معیشت یا صرف سیاسی استحکام سے ہموار نہیں ہوگا، بلکہ ان تمام عناصر کے امتزاج سے ممکن ہوگا۔ جب قانون سب کے لیے برابر ہوگا، ادارے آئین کے مطابق کام کریں گے، سیاسی قیادت قومی مفاد کو مقدم رکھے گی، مقامی حکومتیں با اختیار ہوں گی، دور دراز علاقوں کے عوام کو ترقی، صحت، تعلیم اور انصاف ان کی دہلیز پر میسر ہوگا اور گڈ گورننس قومی پالیسی کا بنیادی اصول بن جائے گی، تب ہی پاکستان ایک مضبوط، پرامن، خوشحال اور باوقار ریاست کے طور پر اپنے تمام داخلی و خارجی چیلنجز پر موثر انداز میں قابو پا سکے گا۔ یہی راستہ قومی یکجہتی، عوامی اعتماد اور روشن مستقبل کی حقیقی ضمانت ہے۔

جواب دیں

Back to top button