Column

پاک، چین رفاقت، خطے کی طاقت

پاک، چین رفاقت، خطے کی طاقت
دنیا اس وقت تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی، معاشی اور تذویراتی صف بندیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں مفادات کی بنیاد پر اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں، لیکن بعض تعلقات ایسے بھی ہوتے ہیں جو وقت، حالات اور آزمائشوں کی ہر کسوٹی پر پورا اترتے ہیں۔ پاکستان اور چین کی دوستی انہی منفرد تعلقات میں شمار ہوتی ہے، جسے دونوں ممالک کی قیادت نے ہمیشہ ’’ آہنی برادری‘‘ اور ’’ ہر موسم کی دوستی‘‘ قرار دیا ہے۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی ( پی ایل اے) کے 99ویں یومِ تاسیس کی تقریب کے موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ کہنا کہ ’’ پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے‘‘، درحقیقت دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں بلکہ ان کی بنیاد باہمی اعتماد، احترام، مشترکہ مفادات اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کے عملی رویے پر قائم ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں دونوں ممالک نے نہ صرف دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا بلکہ تجارت، معیشت، توانائی، بنیادی ڈھانچے، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے میدان میں بھی تعاون کو مسلسل فروغ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک چین تعلقات کو دنیا بھر میں ایک کامیاب اور مثالی شراکت داری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب کی اہمیت اس لحاظ سے بھی نمایاں ہے کہ اس میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سینئر افسروں، چین کے دفاعی اتاشی میجر جنرل وانگ ژونگ، چینی سفارت خانے کے حکام اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ اس تقریب نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض رسمی نوعیت کا نہیں بلکہ اعتماد، ہم آہنگی اور مشترکہ وعن پر مبنی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے پیپلز لبریشن آرمی کی پیشہ ورانہ خدمات، چین کی قومی ترقی اور عالمی امن کے لیے کردار کو سراہنا اس دیرینہ تعلق کی مضبوطی کا واضح اظہار ہے۔ حالیہ برسوں میں خطے کو جن سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں دہشت گردی، انتہاپسندی، سرحدی سلامتی، سائبر خطرات اور غیر روایتی جنگیں نمایاں ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ دونوں ممالک کی افواج مشترکہ تربیت، انٹیلی جنس تعاون، دفاعی ٹیکنالوجی کے تبادلے اور عسکری مشقوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کررہی ہیں۔ یہ تعاون نہ صرف دونوں ممالک کی قومی سلامتی کو مضبوط بناتا ہے بلکہ پورے خطے میں امن اور استحکام کے قیام میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ پاکستان اور چین کی شراکت داری کا سب سے نمایاں معاشی پہلو چین پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک) ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات کا سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔ سی پیک کے تحت توانائی، شاہراہوں، بندرگاہوں، صنعتی زونز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں نے پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں۔ اگرچہ اس منصوبے کو مختلف چیلنجز اور رکاوٹوں کا سامنا بھی رہا، تاہم دونوں ممالک نے اپنے عزم اور باہمی اعتماد کے ذریعے اس تعاون کو جاری رکھا۔ یہی اعتماد مستقبل میں بھی پاکستان کی معاشی بحالی اور علاقائی رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے چین کی اہمیت صرف اقتصادی یا دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ عالمی سفارتی سطح پر بھی چین نے متعدد مواقع پر پاکستان کے مقف کی حمایت کی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا احترام کیا ہے۔ اسی طرح پاکستان نے بھی ہمیشہ ’’ ایک چین‘‘ پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے حوالے سے اپنے موقف کو واضح رکھا ہے۔ یہی باہمی اعتماد دونوں ممالک کے تعلقات کو دیگر بین الاقوامی شراکت داریوں سے ممتاز بناتا ہے۔ تقریب میں پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں کو سراہنا بھی نہایت اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل اور کٹھن جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے جب کہ ملکی معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ عالمی برادری کی جانب سے ان قربانیوں کا اعتراف نہ صرف پاکستان کے موقف کو تقویت دیتا ہے بلکہ مستقبل میں سیکیورٹی تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا کرتا ہے۔ یہ امر بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو وقتاً فوقتاً مختلف بیرونی عوامل اور علاقائی کشیدگیوں کے تناظر میں مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا رہا ہے، مگر دونوں ممالک نے ہمیشہ اپنے تعلقات کو باہمی مفادات، خودمختاری کے احترام اور عدم مداخلت کے اصولوں پر استوار رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات، اقتصادی دبا اور جغرافیائی سیاست کے باوجود یہ دوستی نہ صرف برقرار رہی بلکہ مزید مضبوط ہوئی ہے۔آج پاکستان کو معیشت کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ، جدید ٹیکنالوجی کے حصول، صنعتی ترقی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے جیسے اہم چیلنجز درپیش ہیں۔ چین کے ساتھ تعاون ان شعبوں میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ منصوبہ بندی، شفافیت اور موثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اسی طرح تعلیم، تحقیق، مصنوعی ذہانت، زرعی جدت اور ڈیجیٹل معیشت جیسے نئے شعبوں میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک چین تعلقات کو صرف ریاستی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی روابط، ثقافتی تبادلوں، تعلیمی تعاون اور نوجوان نسل کے درمیان رابطوں کو بھی مزید فروغ دیا جائے۔ مضبوط ریاستی تعلقات اس وقت زیادہ پائیدار بنتے ہیں جب دونوں ممالک کے عوام بھی ایک دوسرے کے قریب ہوں اور باہمی اعتماد کی فضا مزید مستحکم ہو۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ بیان کہ پاکستان اور چین حقیقی شراکت دار ہیں، صرف ایک سفارتی اظہار نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے گزشتہ سات دہائیوں کی تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں دونوں ممالک کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو نئی جہتوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے امن، ترقی، علاقائی استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے اہداف کے حصول کے لیے مل کر آگے بڑھیں۔ یہی مضبوط شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہے بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے بھی امید کی ایک روشن کرن ثابت ہو سکتی ہے۔
شذرہ۔۔۔
دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن جدوجہد
پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں قومی سلامتی، عوام کے تحفظ اور ریاستی رٹ کے استحکام کے لیے مسلسل اور موثر اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں۔ شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک اور بلوچستان کے ضلع نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کامیاب کارروائیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف ریاست کا عزم بدستور مضبوط اور غیر متزلزل ہے۔ ان کارروائیوں میں متعدد دہشت گردوں کا ہلاک ہونا اور بھاری مقدار میں اسلحہ و دھماکا خیز مواد کی برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو کمزور کرنے کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں مثر ثابت ہو رہی ہیں۔ تاہم ان کامیابیوں کی قیمت بھی قوم کے بہادر سپوت ادا کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں کارروائی کے دوران میجر حافظ احسان الٰہی کی شہادت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ وطن کا امن اور سلامتی ہمارے جوانوں کی بے مثال قربانیوں کا مرہونِ منت ہے۔ ایسے افسران اور جوان نہ صرف اپنے فرائض پوری دیانت اور بہادری سے انجام دیتے ہیں بلکہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی بنیاد بھی رکھتے ہیں۔ قوم پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے۔ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سمیت قومی اتحاد، موثر انٹیلی جنس نظام، مضبوط عدالتی عمل، سرحدی نگرانی، سماجی آگاہی اور مربوط حکمت عملی بھی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے قومی ایکشن پلان کی روح کے مطابق تمام ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کے ہر سہولت کار اور نیٹ ورک کا قلع قمع کیا جا سکے۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی اور مالی نقصان برداشت کر چکا ہے۔ ہزاروں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کے بعد ملک میں امن کی جو فضا قائم ہوئی، اسے برقرار رکھنا ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ اس ضمن میں عوام کا تعاون، بروقت اطلاعات کی فراہمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ حالیہ کارروائیاں اس عزم کی غماز ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد بلاامتیاز جاری رہے گی۔ ریاست کی اولین ذمے داری اپنے شہریوں کا تحفظ ہے اور جب تک ملک دشمن عناصر کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتے، سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ کاوشیں اور قوم کی اجتماعی یکجہتی ہی پاکستان کے امن، استحکام اور روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button