Column

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
بعض اشعار صرف پڑھے نہیں جاتے، انسان کے اندر اُتر جاتے ہیں۔ وہ دل کے کسی خاموش گوشے میں جا بیٹھتے ہیں اور پھر عمر بھر وہاں سے نہیں اُٹھتے۔
عباس تابش کا یہ شعر بھی انہی لازوال اشعار میں سے ایک ہے۔ بظاہر یہ صرف دو مصرعے ہیں مگر حقیقت میں ماں کی پوری کائنات ان میں سمٹ آئی ہے۔
ایک بچہ صرف ایک لمحے کے لیے اپنے خوف کا اظہار کرتا ہے، مگر ماں اُس ایک جملے کو اپنی پوری زندگی کی جاگ بنا لیتی ہے۔ یہی ماں ہوتی ہے۔ اولاد وقتی خوف محسوس کرتی ہے، مگر ماں عمر بھر اس خوف کی نگرانی کرتی رہتی ہے۔ ماں دنیا کا وہ واحد رشتہ ہے جو محبت بھی ہے، دعا بھی، سایہ بھی اور پناہ بھی۔ گویا آس دنیا میں ماں سے بڑھ کوئی رشتہ نہ پیارا ہے نہ مکمل ہے۔
انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو سب سے پہلے ماں کی دھڑکن سنتا ہے، اور جب زندگی کی سختیاں اسے اندر سے توڑنے لگتی ہیں تو سب سے پہلے اُسے ماں ہی یاد آتی ہے۔ ماں صرف ایک عورت نہیں، ایک مکمل احساس ہے۔ ایسا احساس جس کی خوشبو انسان کے وجود سے کبھی جدا نہیں ہوتی۔ دنیا کی ہر رشتے میں کہیں نہ کہیں مفاد، ضرورت یا توقع شامل ہو سکتی ہے، مگر ماں کا رشتہ صرف ایثار سے بنا ہوتا ہے۔ وہ خود ٹوٹ جاتی ہے مگر اولاد کو بکھرنے نہیں دیتی۔وہ خود بھوکی سو جاتی ہے مگر بچے کا پیٹ بھر دیتی ہے۔ وہ اپنی خواہشوں کا گلا گھونٹ دیتی ہے تاکہ اولاد کی خواب زندہ رہ سکیں۔ ماں کی محبت دراصل خاموش محبت ہوتی ہے۔ وہ اپنے احسان نہیں جتاتی۔ وہ اپنے دکھوں کی فہرست نہیں سناتی۔ وہ اپنی قربانیوں کا حساب نہیں مانگتی۔ وہ بس چپ چاپ اپنی زندگی اولاد کے نام کرتی رہتی ہے۔ ایک غریب ماں کا تصور کیجیے۔ سارا دن لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے۔ ہاتھوں کی لکیروں میں صابن کی جھریاں اور چہرے پر تھکن کی دھول جم جاتی ہے۔ مگر شام کو جب بچہ دروازے پر دوڑتا ہوا آ کر لپٹتا ہے تو اس کی ساری تھکن اتر جاتی ہے۔ وہ خود سوکھی روٹی کھا لیتی ہے مگر بچے کے لیے سالن بچا کر رکھتی ہے۔ بچہ سمجھتا ہے کہ ماں کو بھوک نہیں، حالاں کہ ماں نے اپنی بھوک کو ممتا کے نیچے دبا رکھا ہوتا ہے۔ ایک ماں رات بھر سلائی مشین چلاتی رہی۔ آنکھیں بوجھل تھیں، انگلیوں میں سوئیاں چبھ رہی تھیں، مگر وہ کپڑے مکمل کرنا چاہتی تھی تاکہ صبح بچے کی فیس جمع کرا سکے۔ صبح جب بیٹے نے یونیفارم پہن کر خوشی سے کہا: ’’ امی! آج میری فیس جمع ہو جائے گی نا؟‘‘، تو ماں نے مسکرا کر صرف اتنا کہا: ’’ ہاں بیٹا، تم بس دل لگا کر پڑھنا‘‘۔ بیٹے نے کبھی نہ جانا کہ اُس کی تعلیم کے پیچھے ماں کی کتنی جاگتی راتیں دفن تھیں۔
ماں کی زندگی دراصل مسلسل قربانی کا دوسرا نام ہے۔ وہ اپنی جوانی اولاد کے نام کر دیتی ہے۔ اپنی نیندیں اولاد کے بخار پر قربان کر دیتی ہے۔ اپنے خواب اولاد کی خواہشوں کی نذر کر دیتی ہے۔ ایک عورت جب ماں بنتی ہے تو صرف ایک بچے کو جنم نہیں دیتی بلکہ خود کو نئے سرے سے جنم دیتی ہے۔ اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔اس کے خوف بدل جاتے ہیں۔ اس کی دعائیں بدل جاتی ہیں۔ اب وہ اپنے لیے نہیں جیتی، اولاد کے لیے جیتی ہے۔ شاید اسی لیے ماں ہمیشہ خوف میں مبتلا رہتی ہے۔ بچہ ذرا دیر سے گھر آئے تو دل بے چین ہو جاتا ہے۔بچہ بیمار ہو جائے تو ماں کی سانسیں الجھنے لگتی ہیں۔ بچہ اداس ہو تو ماں کے چہرے کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے۔
ایک ماں کا جوان بیٹا پردیس چلا گیا۔ لوگ مبارک دیتے رہے کہ: ’’ اب تمہارا بیٹا کامیاب ہو گیا ہے‘‘۔ ماں مسکراتی رہی، مگر رات کو خاموشی سے اس کے کپڑے سینے سے لگا کر روتی رہی۔ کسی نے پوچھا: ’’ آخر اتنی پریشان کیوں ہو؟‘‘ ۔ ماں نے آہستہ سے کہا: ’’ وہ کھانا وقت پر کھاتا بھی ہوگا یا نہیں‘‘، یہی ماں ہے۔ وہ اولاد کی عمر نہیں دیکھتی، صرف اس کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔
ایک اور ماں تھی۔ اس کا بیٹا فوج میں تھا۔ ہر بار سرحد پر کشیدگی بڑھتی تو ماں کی دعائیں بڑھ جاتیں۔ ٹی وی پر خبریں چلتی رہتیں اور ماں خاموشی سے تسبیح پھیرتی رہتی۔ گھر والے کہتے: ’’ اللہ خیر کرے گا‘‘۔ مگر ماں کے دل کو جیسے ہر گولی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ ایک رات فون آیا۔ ماں گھبرا کر اُٹھی۔ بیٹے کی آواز سنائی دی: ’’ امی! میں ٹھیک ہوں‘‘ ۔ بس اتنا سننا تھا کہ ماں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
کچھ رشتے لفظوں سے نہیں، دھڑکنوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ مگر افسوس! جس ماں نے اپنی پوری زندگی اولاد پر وار دی، اکثر وہی ماں بڑھاپے میں تنہا کر دی جاتی ہے۔ آج گھروں میں سہولتیں تو بہت ہیں مگر رشتوں میں حرارت کم ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ ماں کے لیے مہنگے تحفے خرید لیتے ہیں مگر اس کے پاس بیٹھنے کے لیے وقت نہیں نکالتے۔ سوشل میڈیا پر ’’ مدرز ڈے‘‘ کے پیغامات لکھ دیتے ہیں، مگر ماں کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اس کی تھکن نہیں پڑھتے۔
سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ماں کو بوجھ سمجھ لیا جائے۔
ایک بوڑھی ماں روز شام دروازے کے پاس کرسی رکھ کر بیٹھ جاتی تھی۔ ہر گاڑی کی آواز پر چونک جاتی۔ پڑوسی نے پوچھا: ’’ اماں، کس کا انتظار کرتی ہو؟‘‘۔ اس نے دھیرے سے کہا: ’’ میرا بیٹا کہتا تھا ایک دن مجھے اپنے ساتھ لے جائے گا، شاید آج آ جائے‘‘۔ مگر وہ دن کبھی نہ آیا۔
یہ صرف ایک عورت کی کہانی نہیں، ہمارے عہد کا نوحہ ہے۔
آج مائیں گھروں میں موجود ہو کر بھی تنہا ہیں۔
ان کے بچے مصروف ہیں، مگر ان کی مائیں یادوں کے سہارے زندہ ہیں۔
مغرب میں اولڈ ہومز کا تصور تھا، اب مشرق بھی آہستہ آہستہ اسی راہ پر چل پڑا ہے۔ وہ مائیں جنہوں نے بچوں کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، آج واکر پکڑ کر اجنبی کمروں میں چل رہی ہیں۔ وہ مائیں جنہوں نے رات رات بھر بچوں کے بخار اتارے، آج اپنی دوائیں خود ڈھونڈتی ہیں۔ وہ مائیں جنہوں نے بچوں کے رونے پر نیند قربان کی، آج اُن کی سسکیاں سننے والا کوئی نہیں۔
ایک بوڑھی ماں اسپتال کے بستر پر لیٹی تھی۔ ڈاکٹر نے پوچھا: ’’ کسی کو بلانا ہے؟‘‘۔ اس نے کمزور آواز میں کہا: ’’ میرے بیٹے بہت مصروف ہیں، اگر وقت ہو تو آ جائیں گے‘‘۔ یہ جملہ صرف ایک ماں کا جملہ نہیں، ہمارے سماج کا آئینہ ہے۔
ماں آخری سانس تک اولاد کا دفاع کرتی رہتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کی بے رخی کو بھی مصروفیت کا نام دیتی ہے۔ لیکن ماں پھر بھی ماں رہتی ہے۔ وہ ناراض ہو سکتی ہے، بے دعا نہیں ہو سکتی۔
ایک نوجوان غصے میں اپنی ماں سے بدتمیزی کر کے گھر سے نکل گیا۔ راستے میں حادثہ پیش آیا۔ جب اُسے زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا تو سب سے پہلے ماں پہنچی۔ لوگوں نے حیرت سے پوچھا: ’’ آپ تو اس سے ناراض تھیں؟‘‘۔ ماں رو پڑی اور بولی: ’’ ماں ناراض ہو سکتی ہے، مگر اپنے بچے کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی‘‘۔
دنیا کے ہر مذہب، ہر تہذیب اور ہر ثقافت نے ماں کو عظمت دی ہے، مگر اسلام نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھ کر اس رشتے کو وہ مقام عطا کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ صرف مذہبی فضیلت نہیں بلکہ ایک مکمل انسانی فلسفہ ہے۔جو معاشرہ اپنی مائوں کی عزت نہیں کرتا، وہ روحانی طور پر کبھی زندہ نہیں رہ سکتا۔
ماں دراصل انسان کی آخری پناہ ہوتی ہے۔ جب دنیا ٹھکرا دیتی ہے تو ماں گلے لگا لیتی ہے۔ جب انسان ٹوٹ جاتا ہے تو ماں دعا بن کر اس کے گرد حصار کھینچ دیتی ہے۔ جب سب دروازے بند ہو جائیں تو ماں کی گود اب بھی کھلی رہتی ہے۔ انسان زندگی بھر کامیابیاں سمیٹتا رہتا ہے۔ بڑے گھر، بڑی گاڑیاں، بڑے عہدے، مگر ماں کے بغیر یہ سب چیزیں اندر سے خالی محسوس ہوتی ہیں۔
جن لوگوں کی مائیں دنیا سے چلی جاتی ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اس کے بعد زندگی میں ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جو کبھی پُر نہیں ہوتا۔ گھر وہی رہتا ہے، در و دیوار وہی رہتے ہیں، مگر زندگی سے برکت اُٹھ جاتی ہے۔ پھر انسان اچانک بھیڑ میں بھی خود کو یتیم محسوس کرنے لگتا ہے۔ ماں کے جانے کے بعد انسان کو احساس ہوتا ہے کہ دنیا میں ایک ہی ہستی تھی جو بنا غرض کے محبت کرتی تھی۔ ایک ہی در تھا جہاں ہر خطا معاف ہو جاتی تھی۔ ایک ہی آواز تھی جو تھکے ہوئے دل کو سکون دیتی تھی۔
اسی لیے ماں پر لکھنا آسان نہیں۔ ماں کو لفظوں میں مکمل بیان نہیں کیا جا سکتا۔ وہ دعا کی طرح محسوس کی جاتی ہے، روشنی کی طرح جانی جاتی ہے اور سانس کی طرح زندگی میں شامل رہتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ماں سے محبت کا اظہار صرف ایک دن تک محدود نہ رکھیں۔ ان کے ساتھ بیٹھیں۔ ان کی خاموشیوں کو سنیں۔ ان کے ہاتھ تھامیں۔ ان کی دعائوں کی قدر کریں۔ کیونکہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب گھر تو وہی رہتا ہے، مگر ماں نہیں رہتی۔ اور پھر انسان پوری زندگی ایک آواز، ایک لمس اور ایک دعا کو ترستا رہتا ہے۔ تب جا کر احساس ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے بے لوث، سب سے سچی اور سب سے عظیم محبت صرف ماں کی محبت تھی۔ہمارے پیارے نبیؐ ایک بار ماں کی قبر پر تشریف لے گئے اور اتنا روئے کہ صحابہ کرام ؓکو خوف لاحق ہوا کہ کہیں ماں کی جدائی ان کی جان نہ لے لے۔ آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ اگر میری ماں زندہ ہوتی تو میں تمہیں دکھاتا کہ اس کی خدمت کیسے کرتے ہیں۔
کسی شاعر نے سچ کہا ہے
ماں جیسی ہستی دنیا میں ہے کہاں
نہیں ملے گا بدل، چاہے ڈھونڈ لو سارا جہاں

جواب دیں

Back to top button