Column

پولیس کے کرائم کنٹرول کے دعوے، وزیر اعلی پنجاب کا دھواں دار اجلاس

پولیس کے کرائم کنٹرول کے دعوے، وزیر اعلی پنجاب کا دھواں دار اجلاس
فیاض ملک
فیاضیاں۔۔۔۔۔۔
جرم کبھی ختم نہیں ہوتا لیکن اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی اقدامات پر مشتمل ہو تو کم ضرور ہو جاتا ہے۔ عموما ارض پاک کے کسی صوبے کے اضلاع میں تعینات ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی طرف سے سنگین و عام نوعیت کے جرائم پر قابو پانے کے حوالے سے بڑے دعوے سامنے آتے ہیں جوکہ اسکی ٹرانسفر کے ساتھ ہی چلے بھی جاتے ہیں۔ بلاشبہ اس وقت پنجاب ہو یا سندھ، کے پی کے ہو یا پھر بلوچستان، قریبا ہر جگہ ، ڈکیتی اور دیگر وارداتوں میں سال بہ سال اضافہ ہی ہوتا رہا ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل اضافہ ہوتا ہی جارہا ہے۔، امن و امان کی اس دگرگوں صورت حال کے حوالے سے شریف شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے۔ مجموعی طور پر، اگرچہ حکومتی سطح پر جرائم میں کمی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق اور رپورٹس سنگین جرائم میں اضافے کی نشاندہی کر رہی ہیں۔
یہی نہیں بلکہ خواتین کے خلاف تشدد، زیادتی، اغوا، غیرت کے نام پر قتل اور سائبر ہراسگی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سو، اسی صورتحال کے تناظر میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے آئی جی پنجاب سمیت پولیس اور بیوروکریسی کے اعلیٰ افسروں پر مشتمل ہنگامی اجلاس بلایا، جس میں تمام اضلاع کے آر پی اوز، ڈی پی اوز، سی پی اوز، سی ٹی اوز اور مختلف ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز اور ایس ایس پی بھی آن لائن موجود تھے۔ اس اہم اور ہنگامی اجلاس میں مجموعی طور پر صوبے کی امن و امان کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے جرائم کی شرح میں اچانک اضافے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے مختلف جرائم کے واقعات کی ویڈیوز افسروں میں خود شئیر کرکے نا صرف سخت برہمی کا اظہار کیا بلکہ انہوں نے متعلقہ پولیس افسروں سے باز پرس کرتے ہوئے ان کو اپنے اپنے اضلاع میں بڑھتے ہوئے جرائم روکنے کے لئے پیشگی اقدامات پر کام کرنے کا ہدف مقرر کرنے کی سختی سے ہدایات کی۔ اس موقع پر مریم نواز نے شیخوپورہ اور فیصل آباد میں جرائم کنٹرول نہ ہونے پر متعلقہ افسروں کی بھی سخت سرزنش کرتے ہوئے کارکردگی کو بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے تمام اضلاع کے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو ہر صورت میں سی سی ڈی سے بھرپور تعاون کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اتنی محنت کے بعد جرائم کی شرح میں اچانک اضافے کا رجحان شرمناک اور فکر انگیز ہے۔ قتل، ڈکیتی، اغوا اور گمشدگی جیسے واقعات کا تسلسل اور بڑھنا قطعاً برداشت نہیں۔ چھوٹے سے چھوٹا جرم بھی جرم ہے، اسے ہر صورت میں روکنا ہوگا۔ میں نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب 100فیصد میرٹ پولیسنگ کیلئے اپنے پرائے سب کی ناراضی مول لی ہے۔ پچھلے دور میں سیاسی وابستگیوں سے تعیناتیاں ہوتی تھیں، اب سیاسی مداخلت بالکل صفر ہے۔ پولیس افسروں کا فائنل انٹرویو خود کرتی ہوں، ان کو من چاہا بجٹ دیا، اسلحہ، آلات اور گاڑیاں بھی دیں، لیکن اس کے باوجود پنجاب بھر میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بے نظر آتی ہیں۔ آخر کیوں؟۔ ہم ہر صورت میں عوام کو تحفظ اور سکون کا احساس دینے چاہتے ہیں۔ میں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے امن و امان میں بہتری کے لئے جو کرنا پڑا کروں گی، سختی برتنا پڑی تو سختی بھی برتیں گے۔ انہوں نے بھرے اجلاس میں کہا کہ لاہور کے علاقہ گلبرگ میں گاڑی کی بیٹری چوری ہونے کی ویڈیو شرمناک ہے۔ اسی صوبے کے دیگر ریجن میں کرائم کا برا حال ہے، بس روک کر بیگ چھینے گئے، ایسے واقعات خوف و ہراس پید کرتے ہیں، اگر اس طرح کہیں پر سر عام ڈکیتی ہوسکتی ہے تو وہاں پر قتل بھی ہوسکتا ہے۔ بہرحال صوبہ بھر میں سیف سٹی قائم ہونے کے باوجود اس طرح جرائم کا سرزد ہونا قابل فکر ہے۔ اسی اجلاس میں مریم نواز شریف نے افسروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے واقعات کے اعداد شمار دیکھ کر شرم آتی ہے۔ جس طرح سپیڈو بس کے کنڈیکٹر نے بچی کو مارا، یوں محسوس ہوتا ہے کہ صوبے میں قانون کا خوف ختم ہوچکا ہے کیونکہ اگر قانون کا خوف ہوتو ایسے واقعات نہیں ہوسکتے۔ میں نے امن و امان کیلئے محکمہ پولیس کو گزرے ہوئے دو سال میں مجموعی طور پر 527ارب روپے کا ریکارڈ بجٹ دیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، لیکن اس کے باوجود کرائم کا کنٹرول نہ ہونا افسروں کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔
وزیراعلیٰ کے اس اجلاس کے حوالے سے یہ بھی کہا جارہا کہ آنے والے دنوں میں پنجاب پولیس میں اعلیٰ سطح کے تبادلے ہونے کا بھی امکان ہے۔ جس میں متعدد آر پی او، سی پی او اور ڈی پی اوز کے ناموں کی فہرست مرتب کی جارہی ہے۔ میں بحیثیت صحافی یہ سمجھتا ہوں کہ مریم نوازشریف کو صوبے کی چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے امن وا مان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے ایسے اجلاس کم از کم ہفتے میں ایک بار ضرور کرنے چاہئیں۔ شاید ان کی اس دبنگ انداز کی میٹنگ اور اس میں ہونے والی سرزنش کا خوف ہی پولیس کو اپنا قبلہ درست کرنے پر مجبور کر دیں۔ وگرنہ جرائم کنٹرول کرنے کے اعدادوشمار میں ہیر پھیر کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کمال ہے۔
یہاں اگر ہم صرف گزرے ہوئے 100دن میں ہونے والے جرائم کے اعدادوشمار کا ہی جائزہ لیں تو معلوم پڑتا ہے کہ پنجاب میں 100روز مختلف جرائم کے2لاکھ 35ہزار 986مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں ان مختلف نوعیت کے جرائم کے سب سے زیادہ مقدمات لاہور شہر میں درج کیے گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور 59ہزار 41مقدمات کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ فیصل آباد ریجن 25ہزار ،454مقدمات کے ساتھ دوسرے نمبر پر، شیخوپورہ ریجن 23ہزار693مقدمات کے ساتھ تیسرے نمبر پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مختلف جرائم کے درج مقدمات کے اعداد شمار میں ملتان ریجن 23ہزار 99مقدمات کے ساتھ چوتھے نمبر پر، گوجرانوالہ ریجن 22ہزار 644مقدمات کے ساتھ پانچویں نمبر پر، راولپنڈی ریجن 16ہزار737مقدمات کے ساتھ چھٹے نمبر پر اور بہاولپور ریجن 15ہزار 757مقدمات کے ساتھ ساتویں نمبر پر رہا ہے۔ اسی طرح ساہیوال ریجن 14ہزار 692مقدمات کے ساتھ آٹھویں نمبر پر، ڈی جی خان ریجن 12ہزار640مقدمات کے ساتھ نویں نمبر پر جبکہ سرگودھا ریجن 12ہزار 440مقدمات کے ساتھ دسویں نمبر پر ہے، یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگر اس بڑھتے ہوئے کرائم کے بارے میں پولیس حکام سے پوچھا تو وہ اپنی اس نااہلی کو فری رجسٹریشن کا نام دیکر چھپا دیتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی انتہائی قابل غور ہے کہ روز بروز بڑھتے ہوئے ان جرائم میں حیرت انگیز طور پر سنگین جرائم کے اعداد شمار کو کم رکھا جاتا ہے۔ یہ کیا جادوگری ہے اس بارے میں تو محکمہ پولیس کے کرتا دھرتا ہی بتا سکتے ہیں۔ یقینا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو پولیس کی اس کرائم کے اعدادوشمار کو اوپر نیچے کرنے کی جادوگری کا ادراک ہوگیا ہوگا، تبھی انہوں نے یہ ہنگامی اجلاس بلا کر افسروں کی باز پرس کی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس اجلاس اور اس میں ہونے والی سرزنش کا اثر پولیس افسروں پر کافی دنوں تک رہے گا اور اس کو رہنا بھی چاہئے۔ کیونکہ اب پنجاب میں بڑھتے ہوئے جرائم ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ جرائم صرف چوری ڈکیتی تک محدود نہیں، بلکہ منظم جرائم اور دیگر سنگین جرائم بھی شامل ہیں۔ جن کو روکنے کیلئے اب زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی طور پر اقدامات وقت کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

Back to top button