ColumnRoshan Lal

عطا آباد جھیل، متاثرین کے ہمدرد؟

عطا آباد جھیل، متاثرین کے ہمدرد؟

روشن لعل
اگر کالم کا عنوان مختصر رکھنے کی تنبیہ مد نظر نہ ہوتی تو تحریر کے سرنامہ میں کچھ لفظوں کا اضافہ کر کے یہ لکھا جاتا ’’ عطا آباد جھیل متاثرین کے ہمدرد کہاں مر گئے ہیں‘‘۔ جن لوگوں کو ابھی تک عطا آباد جھیل کا ظہور پذیر ہونا یاد ہے انہوں نے یہ بات فراموش نہیں کی ہوگی کہ جس طرح اچانک جھیل بننے سے دیکھتے ہی دیکھتے اس کے متاثرین سامنے آئے تھے اسی طرح آناً فاناً ان متاثرین کے ہمدرد بھی نمودار ہو گئے تھے۔ جب عطا آباد جھیل بننے کا واقعہ رونما ہوا ، اس وقت مرکز اور گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ عطا آباد جھیل کے واقعہ سے پہلے ہی پیپلز پارٹی کی مرکز میں قائم حکومت پر ، مخالف سیاسی جماعتوں، ایجنسیوں، عدلیہ اور میڈیا ہائوسز پر مشتمل کارٹل ، بے دردی سے وار کر رہا تھا۔ اس کارٹل نے پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے خلاف اپنی ہرزہ سرائیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے عطا آباد جھیل واقعہ کو غنیمت موقع سمجھ کر استعمال کیا۔ اس وقت عوام کے سامنے حقائق رکھنے کی بجائے یہ پراپیگنڈا کیا گیا کہ نہ صرف پہاڑی تودہ گرنے سے دریائے ہنزہ کا بہائو رکنا اور وہاں جھیل بننا حکومت کی نااہلی ہے بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے اس جھیل میں ملحقہ دیہاتوں کو غرق ہونے نہ روکنا بھی حکومت کی بد نیتی پر مبنی نالائقی ہے۔ اس پراپیگنڈے کے ساتھ ملک کے اکثر میڈیا ہائوسز کے نامور نابغے اپنی نشریات میں یہ تاثر دیتے رہے کہ عطا آباد جھیل کے متاثرین کا ان سے زیادہ کوئی اور ہمدرد نہیں ہے۔
عطا آباد میں جنوری 2010ء میں جو جھیل نمودار ہوئی اس کا پس منظر یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں لینڈ سلائڈنگ کے اکثر رونما ہونے والے واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے سال 2004ء میں مشرف حکومت نے جیالوجیکل سروے آف پاکستان کو یہ ذمہ داری سونپی کہ تفصیلی سروے کے ذریعے لینڈ سلائیڈنگ کے لیے زیادہ حساس علاقوں کی نشاندہی کی جائے۔ جیالوجیکل سروے آف پاکستان کو دی گئی یہ ذمہ داری معمول کی کاروائی تھی لیکن سال 2005ء کے زلزلہ کے بعد جب معاملات زیادہ حساس ہو گئے تو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لاتے ہوئے لینڈ سلائیڈنگ جیسی قدرتی آفات سے نمٹنے کی ذمہ داری اس خود مختار ادارے کو سونپ دی گئی۔ جیالوجیکل سروے آف پاکستان کو قبل ازیں جو کام دیا گیا تھا اس کے مطابق ستمبر 2009ء میں ایک رپورٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور حکومت کے حوالے کی گئی جس میں مستقبل قریب میں عطا آباد کے قرب و جوار میں لینڈ سلائیڈنگ کا زیادہ امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ جیالوجیکل سروے آف پاکستان نے جس علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کا زیادہ خطرہ ظاہر کیا حکومت نے وہاں سے 103خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیاتھا۔ اس طرح کے پیشگی حفاظتی انتظامات کے باوجود بھی جب ایک تودے کی بجائے پورے پہاڑ کی لینڈ سلائیڈنگ نے دریائے ہنزہ کا قدرتی بہائو مکمل روک کر اچانک ایک ایسی جھیل کی بنیاد رکھ دی جو ابتدا میں ، 1900میٹر لمبی ، 690میٹر چوڑی اور 200فٹ اونچی تھی تو انتظامیہ کو ایسے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ گیا جس کی نہ کوئی پیشگوئی تھی اور نہ اس سے نمٹنے کی پیشگی تیاریاں کی گئی تھیں۔ دریائے ہنزہ کا بہائو مکمل طور پر رک جانے کی وجہ سے عطاآباد جھیل نے بالائی سمت میں تیزی سے پھیلتے ہوئے راستے میں میں موجود صدیوں پرانے دیہات غرق کرنا شروع کردیئے۔ جس پہاڑی تودے کے گرنی سے دریائے ہنزہ کا بہائو رکا اسے ہٹانے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ اسے بم سے اڑا دیا جائے لیکن بم دھماکے سے کیونکہ وہاں مزید لینڈ سلائیڈنگ اور عطاآباد جھیل بننے جیسے کئی مزید سانحات رونما ہوسکتے تھے اس لیے دیگر آپشنز پر غور شروع کر دیا گیا۔ اس غور و خوص کے دوران جنوری 2010ء میں بننے ہونے والی جھیل ، 26مارچ 2010ء تک 11.7کلومیٹر طویل اور اس میں پانی کی سطح 230فٹ تک بلند ہوگئی۔ اس جھیل کو مزید وسیع ہونے سے روکنے کے لیے اس پر 40میٹر چوڑا اور415میٹر لمبا نہر نما سپل وے بنانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ پانی کا اخراج ممکن ہو سکے۔ عطا آباد جھیل پر سپل وے بننے کے بعد وہاں کی صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی، جس جھیل کو مقامی لوگوں کے لیے آفت قرار دیا گیا تھا، اس نے بعد ازاں ایک خوبصورت تفریحی مقام کی شکل اختیار کر لی۔ عطا آباد جھیل کے تفریحی مقام بننے سے پہلے تک، اس کے متاثرین سے ہمدردی کی آڑ میں، پیپلز پارٹی کی حکومت کے مخالف سیاستدانوں، ایجنسیوں، عدلیہ اور میڈیا ہائوسز کے کارٹل نے اس کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی غرض سے حقائق چھپا کر ہر ممکن حد تک جھوٹا پراپیگنڈا کیا۔ اس کے بعد کسی نے مڑ کر نہ دیکھا کہ عطا آباد جھیل کے جن متاثرین کی ہمدردی کا دم بھرتے ہوئے گمراہ کن پرپیگنڈا کیا جاتا رہا وہ کس حال میں ہیں۔
جس عطا آباد جھیل نے دنوں اور ہفتوں کے دوران وسعت اختیار کرتے ہوئے، کئی دیہات اپنے اندر سمو کر ان کے باسیوں کی زندگی اجیرن بنا دی تھی، وہ جھیل کچھ برس تک خوبصورت تفریحی مقام بنے رہنے کے بعد گزشتہ ایک دو برس کے دوران تیزی سے سکڑنا شروع ہو چکی ہے۔ جس طرح عطا آباد جھیل کے وسعت اختیار کرنے سے مقامی لوگوں کے لیے مسائل پیدا ہوئے تھے اسی طرح اس کے سکڑنے سے ارد گرد کے باسیوں کی زندگی اجیرن بن رہی ہے۔ عطا آباد جھیل سے ملحقہ دیہاتوں کے باسیوں کی زندگی اجیرن بننے کی وجہ یہ ہے کہ جھیل سکڑنے سے قبل جو ریت اس کی تہہ میں اکٹھی ہو رہی تھی اب اس نے پانی سے باہر ہونے کی وجہ سے وہاں ایک ننھا منا سا ریگستان بنا دیا ہے۔ تیز اور طاقتور ہوائوں کی موجودگی میں زندگی گزارنا گلگت بلتستان کے لوگوں کا معمول ہے لیکن اب ان ہوائوں کے ریگ آلود ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لیے ایسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں جس کے وہ کبھی عادی نہیں رہے۔ عطاآباد جھیل کے قرب و جوار میں چلنے والی ریگ آلود ہوائوں نے وہاں کے لوگوں کے لیے صرف صفائی نہیں بلکہ صحت کے مسائل بھی پیدا کر دیئے ہیں۔ عطا آباد جھیل کی تقریباً ہر وقت اڑتی ہوئی ریت لوگوں کے گھر آنگن ، کھیتوں کھلیانوں میں بکھرنے کے ساتھ ان کی خوراک کو بھی آلودہ کیے رکھتی ہے۔ جتنے لوگ عطا آباد جھیل کے بننے سے متاثر ہوئے ، اس سے کہیں بڑی تعداد میں لوگ اس کے سکڑنے سے نازل ہونے والے عذاب کے متاثریں بن چکے ہیں۔ عطا آباد جھیل کے متاثرین تو سال 2010ء کی طرح 2026ء میں بھی موجود ہیں لیکن جو لوگ سولہ برس قبل ان کے ہمدرد بن کر سامنے آئے تھے وہ زندہ ہونے کے باوجود شاید کسی ضروری کام کی وجہ سے سوئے ہوئے ہیں۔ جب تک ان لوگوں کو سیاسی اداکاری کرتے ہوئے کسی حکومت کو گرانے یا اس کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا ٹھیکہ نہیں مل جاتا، عوام کے یہ نام نہاد ہمدرد اس وقت تک سوئے رہتے ہیں۔ عطا آباد جھیل کے موجودہ متاثرین اگر چاہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ 2010ء میں ہمارے ہمدرد بن کر سامنے آئے تھے وہ اب کہاں مر گئے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button