سرمایہ، اعتماد اور پاکستان کی معیشت

سرمایہ، اعتماد اور پاکستان کی معیشت
حرف جاوید
تحریر: جاوید اقبال
حالیہ دنوں میں وزیرداخلہ محسن نقوی کے ایک بیان نے ملک کے معاشی اور سیاسی مباحث میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI)سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تاجروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی بیرونِ ملک منتقل کی گئی دولت کا 20سے 30فیصد حصہ پاکستان واپس لے آئیں اور اس کے بدلے حکومت انہیں سہولیات فراہم کرے گی۔ اس بیان کے ساتھ ہی ان کے بعض جملے، جیسے، ’’ ایک دو بندوں کو اٹھائیں گے تو سب پتہ چل جائے گا ‘‘ اور’’ 4،5بڑی ٹرانزیکشنز پکڑی گئی ہیں‘‘، بحث کا مرکز بن گئے اور مختلف حلقوں میں اس کی مختلف تشریحات سامنے آئیں۔
یہ پورا معاملہ دراصل ایک شخص کے بیان سے زیادہ ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے، یعنی پاکستان سے سرمائے کے انخلا، ریاستی اداروں کی کارکردگی اور بزنس کمیونٹی کے اعتماد کا بحران۔ اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سوال محض ایک دعویٰ یا تنازع نہیں کہ کتنی رقم باہر گئی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اتنی بڑی مالی نقل و حرکت ایک منظم اور مضبوط ریگولیٹری نظام کے باوجود ممکن ہے؟ اور اگر ممکن ہے تو اس کے پیچھے کمزوری کہاں ہے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، کسٹمز اور مالیاتی نگرانی کے دیگر ادارے موجود ہونے کے باوجود اربوں ڈالر کا بیرون ممالک منتقل ہوجانا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ مسئلہ صرف افراد کا نہیں بلکہ نظام کے اندر موجود خامیوں کا بھی ہے۔ سرمایہ ہمیشہ کسی نہ کسی راستے سے منتقل ہوتا ہے، اور وہ راستے اکثر قانونی اور غیر قانونی طریقوں کے امتزاج سے بنتے ہیں۔ اوور انوائسنگ اور انڈر انوائسنگ، ہنڈی اور حوالہ، آف شور کمپنیاں، اور بعض اوقات قانونی سرمایہ کاری کے پردے میں مالیاتی نقل و حرکت وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے سرمائے کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ عمل اچانک نہیں ہوتا بلکہ ایک طویل اور پیچیدہ مالیاتی طریقہ کار کا نتیجہ ہوتا ہے۔
اسی پس منظر میں جب ایسے بیانات سامنے آتے ہیں کہ ’’ بڑی ٹرانزیکشنز پکڑی گئی ہیں‘‘ یا ’’ کچھ لوگوں کو سامنے لایا جائے گا‘‘، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی مکمل تحقیقات پر مبنی دعویٰ ہے یا محض ایک ابتدائی تاثر؟ اگر واقعی مخصوص ٹرانزیکشنز کی نشاندہی ہو چکی ہے تو پھر منطقی طور پر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان پر قانونی کارروائی کب اور کیسے ہوگی، اور کیا یہ کارروائی ایک شفاف اور ادارہ جاتی عمل کے ذریعے آگے بڑھے گی یا کسی محدود دائرے میں رہے گی۔
اس بیان کا ایک اور اہم پہلو اس کا لہجہ ہے، جو بزنس کمیونٹی کے لیے خاصا حساس سمجھا جاتا ہے۔ کاروباری طبقہ عام طور پر استحکام، پالیسی کے تسلسل اور قانونی تحفظ کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ ایسے ماحول میں سرمایہ کاری کرتا ہے جہاں قواعد واضح ہوں اور ان کا اطلاق غیر امتیازی بنیادوں پر ہو۔ جب اس کے برعکس غیر واضح یا سخت تاثر دینے والے بیانات سامنے آتے ہیں تو اس سے غیر یقینی صورتحال جنم لیتی ہے۔ غیر یقینی صورتحال کسی بھی معیشت کے لیی وہ عنصر ہے جو سرمایہ کاری کے بہائو کو سست یا روک سکتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا سرمائے کے انخلا کی ذمہ داری صرف تاجروں یا کاروباری طبقے پر عائد کی جا سکتی ہے؟ پاکستان کی معاشی تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ مختلف ادوار میں مختلف طبقات نے بیرونِ ملک اثاثے بنائے ہیں۔ سیاستدان، بیوروکریٹس اور دیگر بااثر حلقے بھی اس عمل سے مکمل طور پر الگ نہیں رہے۔ ایسے میں اگر صرف ایک طبقے کو مخاطب کیا جائے تو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ احتساب کا عمل یکساں نہیں، اور یہی تاثر اعتماد کو مزید کمزور کرتا ہے۔
اصل مسئلہ درحقیقت سرمائے کے جانے یا آنے سے زیادہ اعتماد کا ہے۔ جب کسی ملک میں معیشت کے حوالے سے پالیسی کا تسلسل نہ ہو، جہاں ٹیکس نظام پیچیدہ ہو، جب قانونی تحفظ غیر یقینی ہو اور جب اداروں کے درمیان ہم آہنگی کمزور ہو تو سرمایہ قدرتی طور پر محفوظ راستوں کی تلاش میں نکل جاتا ہے۔ سرمایہ کسی جذباتی فیصلے کے تحت نہیں بلکہ عقلی بنیادوں پر حرکت کرتا ہے۔ وہ وہاں جاتا ہے جہاں اسے استحکام، تحفظ اور منافع کی یقین دہانی ہو۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ محض اپیلیں یا وقتی اقدامات طویل المدتی نتائج پیدا نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں ماضی میں بھی ایمنسٹی اسکیمز اور دیگر اقدامات کے ذریعے سرمایہ واپس لانے کی کوشش کی گئی، جن سے وقتی طور پر کچھ بہتری ضرور آئی، مگر مستقل بنیادوں پر مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب تک بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات نہیں ہوتیں، اعتماد بحال نہیں ہوتا وہاں سرمایہ باہر جانے کا رجحان برقرار رہتا ہے۔
اگر واقعی مقصد سرمائے کی واپسی ہے تو اس کے لیے چند بنیادی شرائط کو پورا کرنا ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ سرمایہ کار کو یہ یقین ہو کہ آج جو اصول ہیں وہ کل بھی موجود رہیں گے۔ دوسرا ٹیکس نظام کو سادہ، شفاف اور قابلِ عمل بنانا ہوگا تاکہ کاروبار کو غیر ضروری بوجھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تیسرا قانونی نظام کو مضبوط اور غیر امتیازی بنانا ہوگا تاکہ ہر شخص کو برابر تحفظ حاصل ہو۔ چوتھا اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ احتساب کا عمل ہر طبقے پر یکساں طور پر لاگو ہو تاکہ اعتماد بحال ہو سکے۔
اس کے علاوہ مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور نگرانی کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے تاکہ غیر رسمی ذرائع جیسے ہنڈی اور حوالہ کی گنجائش کم ہو۔ ساتھ ہی اگر کوئی ایمنسٹی یا مراعاتی اسکیم دی جائے تو وہ واضح، محدود اور آخری ہونی چاہیے، تاکہ اسے بار بار دہرایا نہ جائے اور نظام میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔
آخر میں یہ سنا جھنا ضروری ہے کہ سرمایہ محض رقم کا نام نہیں بلکہ اعتماد کا مظہر ہے۔ جب تک ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط نہیں ہوگا، نہ صرف سرمایہ باہر جاتا رہے گا بلکہ اسے واپس لانا بھی مشکل رہے گا۔ موجودہ بحث، چاہے وہ بیان کے گرد ہو یا اس پر ہونے والے ردعمل کے گرد، دراصل ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ ہے: کیا پاکستان ایک ایسا ماحول پیدا کر سکتا ہے جہاں سرمایہ خود کو محفوظ سمجھے اور واپس آنے کو ترجیح دے؟ اگر اس سوال کا جواب ہاں میں چاہتے ہیں تو پھر اصلاحات کو بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا، ورنہ یہ بحث بھی ماضی کی دیگر بحثوں کی طرح وقت کے ساتھ مدھم ہو جائے گی۔





