کیا امن کوششیں جنگ کو شکست دے سکیں گی؟

اداریہ۔۔۔۔
کیا امن کوششیں جنگ کو شکست دے سکیں گی؟
خطے کی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ایک طرف جنگ کے سائے گہرے ہوتے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب سفارت کاری کی ہلکی سی روشنی امید کی کرن بن کر ابھر رہی ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کے زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس اور اس میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے بعد کی صورت حال کا جائزہ اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر خطے میں امن کے قیام کے لیے فعال اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ایران اور امریکا کے تعلقات دہائیوں سے کشیدہ چلے آرہے ہیں۔ ایسے میں جنگ بندی کا برقرار رہنا اور اس میں توسیع بذات خود ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس ضمن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان اور پاکستان کی درخواست کو قبول کرنا ایک مثبت اشارہ ہے، جو اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ عالمی طاقتیں بھی کسی حد تک سفارتی حل کی اہمیت کو تسلیم کر رہی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا محض رسمی بیان نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری سفارتی حکمت عملی کارفرما ہے۔ پاکستان نے ماضی میں بھی مشکل حالات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی اسلام آباد کی کوشش ہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایک جامع اور دیرپا امن معاہدہ طے پا سکے۔ تاہم، اس تمام تر پیش رفت کے باوجود زمینی حقائق اتنے سادہ نہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے بیانات صورتحال کا ایک مختلف رخ پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جبکہ امریکی فریق کے رویے میں عدم تسلسل اور سخت بیانات نے فضا کو مزید کشیدہ کیا۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ امر تشویش ناک ہے، کیونکہ کسی بھی امن عمل کی کامیابی کے لیے دونوں فریقوں کا یکساں سنجیدہ ہونا ناگزیر ہوتا ہے۔ مزید برآں، آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی جہاز پر مبینہ کارروائی جیسے واقعات جنگ بندی کی روح کے منافی ہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف اعتماد سازی کے عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ کسی بھی وقت صورت حال کو دوبارہ تصادم کی طرف لے جاسکتے ہیں۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں عالمی برادری کو محض تماشائی بننے کے بجائے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال بیک وقت ایک موقع بھی ہے اور ایک چیلنج بھی۔ موقع اس لیے کہ وہ خود کو ایک ذمے دار اور موثر ثالث کے طور پر منوا سکتا ہے اور چیلنج اس لیے کہ معمولی سی لغزش بھی اس کے سفارتی امیج کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ پاکستان نہ صرف غیر جانبداری کو برقرار رکھے بلکہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات بھی کرے۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ خطے میں کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی، تجارتی راستے اور علاقائی سلامتی سب اس کشیدگی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا، امن کا قیام صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ عالمی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں سب سے اہم چیز تسلسل ہے۔ مذاکرات کا دوسرا دور محض ایک رسمی کارروائی نہ ہو بلکہ اس میں ٹھوس پیش رفت نظر آئے۔ دونوں فریقین کو اپنے بیانات اور اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی۔ دھمکی آمیز لہجہ اور طاقت کے مظاہرے وقتی دبائو تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی سفارتی کوششوں کو مزید منظم اور مربوط بنائے۔ چین، سعودی عرب اور دیگر علاقائی طاقتوں کو ساتھ ملا کر ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جاسکتا ہے، جو نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان فاصلے کم کرے بلکہ پورے خطے میں استحکام کا باعث بنے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ تباہی کی طرف لے جاتا ہے جبکہ امن کا راستہ اگرچہ کٹھن ضرور ہوتا ہے مگر اس کا انجام روشن ہوتا ہے۔ آج دنیا ایک بار پھر اس دوراہے پر کھڑی ہے۔ فیصلہ طاقت کے استعمال کا نہیں، بلکہ دانش مندی اور بردباری کا ہونا چاہیے۔ اگر ایران اور امریکا واقعی امن کو ایک موقع دیتے ہیں اور پاکستان اپنی سفارتی کوششوں کو خلوص اور مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھتا ہے، تو بعید نہیں کہ یہ خطہ ایک نئے باب کا آغاز دیکھے، ایک ایسا باب جہاں بارود کی بو کے بجائے مکالمے کی خوشبو ہو۔
شذرہ۔۔۔۔
الیکٹرک گاڑیاں، مستقبل کی ضرورت
ملک میں الیکٹرک وہیکلز (EV)کے فروغ سے متعلق حالیہ اجلاس جس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف نے کی، درحقیقت پاکستان کی معاشی اور ماحولیاتی سمت کا تعین کرنے کی اہم کوشش ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایندھن کی بڑھتی درآمدی لاگت نے ملکی معیشت پر غیر معمولی دبائو ڈالا ہے اور ایسے میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کا فروغ ایک موثر متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اجلاس میں دی گئی ہدایات خاص طور پر اس حوالے سے اہم ہیں کہ EVپالیسی کو صرف اعلانات تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے بلکہ اسے عملی شکل دینا ضروری ہے۔ کم آمدن والے طبقے کے لیے الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی سبسڈی ایک مثبت قدم ہے، مگر اس میں شفافیت اور برابر رسائی کو یقینی بنائے بغیر یہ پالیسی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گی۔ یہ بھی قابل توجہ بات ہے کہ ملک میں اب تک درجنوں مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ جاری کیے جاچکے، جو صنعتی سرگرمی میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ کافی نہیں بلکہ چارجنگ انفرا سٹرکچر کی تیز ترقی بھی ناگزیر ہے، کیونکہ اس کے بغیر عوام کا اعتماد حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حکام کی جانب سے آئندہ پانچ برسوں میں تیس فیصد گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کرنے کا ہدف بلاشبہ حوصلہ افزا ہے، مگر اس کے حصول کے لیے پالیسی تسلسل اور ادارہ جاتی ہم آہنگی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی طرح سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کی اسکیم بھی اس تبدیلی کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، بشرطیکہ اس کا نفاذ شفاف اور موثر ہو۔ مجموعی طور پر یہ کہنا درست ہوگا کہ الیکٹرک وہیکلز کی طرف منتقلی محض ایک ٹیکنالوجیکل فیصلہ نہیں بلکہ قومی ترقی کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ ان پالیسیوں پر عمل درآمد یقینی بنائے تو نہ صرف زرمبادلہ بچے گا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئے گی اور ملک ایک پائیدار مستقبل کی جانب گامزن ہو سکے گا۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ عوام میں آگاہی مہمات کو فروغ دیا جائے تاکہ لوگ اس ٹیکنالوجی کے فوائد سے مکمل طور پر واقف ہوسکیں اور اعتماد کے ساتھ اسے اپنائیں۔ نجی شعبے کی شمولیت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری سے بھی اس شعبے کو مزید مضبوط کیا جاسکتا ہے اور ترقی کی رفتار تیز ہوسکتی ہے۔







