ہرمز سے اسلام آباد تک

ہرمز سے اسلام آباد تک
قادر خان یوسف زئی
مشرق وسطیٰ کی سلگتی ہوئی ریت پر بچھائی گئی عالمی بساط اس وقت ایک ایسے تاریخی اور نازک موڑ پر ہے جہاں سفارت کاری اور تباہ کن جنگ کے درمیان محض ایک کمزور دھاگے کا فاصلہ رہ گیا ہے۔ اس ڈیڈ لاک کے بیچ پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار خطے کی سیاست کا ایک حیران کن اور فیصلہ کن باب ہے۔ یہ محض کوئی رسمی یا اخلاقی ثالثی نہیں ہے، بلکہ آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے کے بدلتے ہوئے طاقت کے توازن نے اسلام آباد کو اس سفارتی شطرنج کا اہم ترین مہرہ بننے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکہ اور ایران، دونوں کی حکمتِ عملی واضح طور پر ان کے اپنے ریاستی اور قومی مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ امریکہ، بطور عالمی طاقت، مشرق وسطیٰ میں اپنا اسٹریٹجک اور معاشی غلبہ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا ہدف یہ ہے کہ وہ بحری ناکہ بندی اور دبائو کی پالیسی کے ذریعے ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود کرے اور خطے میں اس کے اتحادی نیٹ ورک کے اثر و رسوخ کو کم کرے۔ دوسری جانب، ایران ایک خودمختار علاقائی طاقت کے طور پر اپنے دفاعی نظام، جوہری پروگرام اور تزویراتی گہرائی کو اپنی قومی سلامتی کا ضامن سمجھتا ہے۔ ایران کے لیے امریکی مطالبات کے سامنے ہتھیار ڈالنا اپنی ریاستی سا لمیت پر سمجھوتہ کرنے کے مترادف ہے۔ اسی لیے، جب امریکہ نے خلیج میں ناکہ بندی کی، تو تہران نے اسے جنگی اقدام قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر کے اپنے مضبوط ترین غیر متناسب ہتھیار کا استعمال کیا تاکہ طاقت کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔
اس انتہائی کشیدہ ماحول میں پاکستان کی سفارتی سرگرمی نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کے بعد، جب تنا عروج پر تھا اور فریقین اپنی اپنی پوزیشنز پر ڈٹے ہوئے تھے، تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ امن کا یہ نازک شیشہ کسی بھی وقت ٹوٹ جائے گا۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ایران نے امریکی پابندیوں اور بحری محاصرے کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا۔ تہران کا اصولی موقف تھا کہ دبائو، دھمکیوں اور محاصرے کے سائے میں برابری کی سطح پر مذاکرات نہیں ہو سکتے، اور ہارنے والا فریق کبھی اپنی شرائط مسلط نہیں کر سکتا۔ تاہم، یہ پاکستانی قیادت کی سفارتی ہنر مندی تھی، جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں، کہ انہوں نے ایران کی میز پر غیر موجودگی کے باوجود ایک اہم سفارتی ہدف حاصل کر لیا۔ پاکستانی قیادت کے مسلسل رابطوں اور ٹھوس سفارتی دلائل کے نتیجے میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ایران کے خلاف جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا۔ یہ توسیع اس شرط کے ساتھ کی گئی ہے کہ جب تک ایران کوئی مشترکہ تجویز پیش نہیں کرتا اور مذاکرات مکمل نہیں ہوتے، جنگ رکی رہے گی، گو کہ امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی برقرار رکھے گا۔ عالمی سطح پر پاکستان کے اس ابھرتے ہوئے مصالحانہ کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے، جسے بعض بین الاقوامی مبصرین سفارت کاری کے حوالے سے مشرق کے ’’ اوسلو‘‘ سے بھی تشبیہ دے رہے ہیں۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران، دونوں کے ساتھ اپنے متوازن اور قابلِ اعتماد تعلقات کا موثر استعمال کیا۔ ایک جانب آرمی چیف عاصم منیر نے تہران کا دورہ کر کے واشنگٹن کا پیغام پہنچایا اور ایران کی قیادت کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی، تو دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور ترکی کے دورے کر کے خطے کے اہم ممالک کو اس امن عمل کی حمایت پر آمادہ کیا۔ ایک غیر جانبدار مسلم ایٹمی ریاست کے طور پر پاکستان نے فریقین کے درمیان رابطے کا وہ مستحکم ذریعہ فراہم کیا جس نے اس انتہائی کشیدہ صورتحال میں بھی جنگ بندی کی راہ ہموار کی۔ اس سفارتی و تزویراتی کشمکش میں خلیجی اور یورپی ممالک کا کردار اور ان پر مرتب ہونے والے اثرات بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عمان، بحرین اور قطر اس وقت تنازعہ کے انتہائی خطرے کی زد میں ہیں اور انہیں ’’ کنفلکٹ رسک الرٹ‘‘ پر رکھا گیا ہے۔
یورپی ممالک اس بحران کے معاشی اور سفارتی اثرات کو کم کرنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں 30سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ سازوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی حفاظت کے لیے ایک کثیر القومی مشن تشکیل دیا جا سکے۔ اس سے قبل، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت 22 ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا اور جہاز رانی کو محفوظ بنانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم، یورپی سفارت کار اس بات پر سخت نالاں ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں امن مذاکرات اور معاہدوں کے عمل سے مکمل طور پر سائیڈ لائن کر دیا ہے، حالانکہ وہ 2003ء سے ایران کے ساتھ جوہری بات چیت کا کلیدی حصہ رہے ہیں۔ دو درجن کے قریب یورپی اور مغربی ممالک نے لبنان میں جنگ بندی کے لیے بھی زور دیا ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے، لیکن خطے کی موجودہ سنگین صورتحال میں ان کا براہِ راست فیصلہ کن اثر و رسوخ محدود نظر آتا ہے۔ اب ممکنہ امن مذاکرات کے دوسرے دور کی بات کی جائے تو پہلا اور سب سے متوقع ’’ اوپن فار اوپن‘‘ فارمولے پر مبنی ایک عبوری معاہدہ ہے۔ اس منظرنامے میں، دونوں ممالک پیچیدہ سیاسی اور جوہری معاملات کو کچھ عرصے کے لیے موخر کرتے ہوئے فوری معاشی مفادات کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ امریکہ ایرانی بندرگاہوں سے اپنی بحری ناکہ بندی ہٹائے، اور اس کے جواب میں ایران آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دے۔
دوسری صورت ایک طویل ’’ منجمد جنگ بندی‘‘ کی ہے۔ اس صورتحال میں فریقین کسی جامع معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہیں گے، لیکن براہ راست جنگ کے تباہ کن نتائج سے بچنے کے لیے خاموش ڈیٹرنس پر اکتفا کریں گے۔ امریکہ رسمی طور پر محاصرہ قائم رکھے گا لیکن عملی طور پر کچھ رعایتیں دے گا، جبکہ ایران آبنائے ہرمز میں دبا برقرار رکھے گا مگر ایسی کارروائی سے گریز کرے گا جو کھلی جنگ کو دعوت دے۔ عالمی بساط پر کھیلی جانے والی یہ بازی انتہائی خطرناک ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان اور خطے کی پیچیدہ حرکیات صورتحال کو کسی بھی لمحے بدل سکتی ہیں۔ لیکن اس سب کے دوران، پاکستان کی جانب سے کی جانے والی حقیقت پسندانہ، فعال اور بروقت سفارت کاری ہی وہ واحد پل ہے جو اس وقت پورے خطے کو ایک بڑے معاشی اور عسکری بحران کی کھائی میں گرنے سے روکے ہوئے ہے۔





