
جگائے گا کون؟
ٹرمپ کی عیاری، پاکستان، ایران کی ذمہ داری
تحریر: سی ایم رضوان
ان دنوں پاکستان کی ثالثی اور میزبانی میں جاری ایران، امریکہ مذاکرات کے نتیجہ میں ایک امن ڈیل قریباً مکمل ہو چکی ہے۔ پاکستان کی موثر اور پُرامن کوششوں کے نتیجے میں ایران جیسا امریکہ پر اعتبار کے عوض زخم خوردہ ملک بھی امن کے لئے سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہو چکا ہے۔ ان حالات میں چاہئے تو یہ تھا کہ ٹرمپ بھی بڑے پن اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا اور بلاتاخیر، اپنی روایتی یاوا گوئی سے اجتناب کرتے ہوئے امن ڈیل کی تکمیل کے لئے خاموشی سے دستخط کر دیتا مگر اس نازک اور حساس موڑ پر بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عیارانہ اور مکارانہ ٹویٹس جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف بھی یہ کہتے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو بھی ایران کے سرنڈر کے طور پر پیش کرنے کا حیلہ کر رہے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آج مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر جو صورتحال بن چکی ہے، یہ محض دو ممالک کی کشیدگی نہیں، ایک تباہ کن عالمگیر جنگ کا نقطہ آغاز ہے۔ ان حالات میں پاکستان کی سول و عسکری قیادت نے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے امن کی کوشش کی جس کی یہ کامیابی ہے کہ حالیہ فوجی تصادم کے بعد جنگ بندی اور پھر مذاکرات کے پہلے دور کی کامیابی اور دوسرے دور میں ڈیل کی راہ ہموار ہو جانے کی نوید کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی اور ایران کو تباہ کر دینے کی دوبارہ سے دھمکیوں والے ٹویٹس نے ایک بار پھر دنیا کو ایک ایسی جنگ کے خدشات پر لا کھڑا کیا ہے جس کی تپش سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ اس ہولناک منظر نامے میں ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی روایتی عیاری اور متلون مزاجی ہے، تو دوسری طرف ایران، پاکستان اور علاقائی طاقتوں کے کندھوں پر امن کی بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے ہی پریشر ککر کے ابال کی مانند رہی ہے۔ عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ وہ پہلے کسی مسئلے کو انتہا تک الجھاتے ہیں، سخت ترین پابندیاں لگاتے ہیں اور پھر اچانک مذاکرات کی پیشکش کر کے خود کو ایک ’’ امن پسند ڈیل میکر‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اس بار معاملہ مختلف ہے۔ اس وقت ٹرمپ کی ایران پر حالیہ ’’ زیادہ سے زیادہ دبائو‘‘ کی پالیسی کا مقصد مذاکرات نہیں بلکہ ایران کی جانب سے تسلیمِ محض ہے۔ وہ ایک ہاتھ میں جنگ کی دھمکی اور دوسرے میں مذاکرات کا فریب اٹھا کر تہران کو اندرونی طور پر کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کی یہ عیاری سفارتی اخلاقیات کی نفی اور عالمی قوانین کے منہ پر طمانچہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں طاقتور اپنے مفاد کے لئے کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو پامال کرنا اپنا حق سمجھ لیتا ہے۔
آج اگر عالمی میڈیا پر گردش کرتے ٹرمپ کے بیانات اور ایران کے پاسداران انقلاب کے منتقمانہ موقف کو سامنے رکھا جائے تو یہی لگتا ہے کہ مذاکرات ناکام ہو جائیں گے اور ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ دوبارا شروع ہو جائے گی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ کا دوبارہ چھڑنا نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک خوفناک منظر نامہ ثابت ہو گا۔ یہ محض دو ملکوں کی لڑائی نہیں ہو گی بلکہ ایک عالمی بحران کا شاخسانہ ہو گی۔ اس صورتحال کے ممکنہ معاشی اثرات یہ ہوں گے کہ دنیا میں بھوک اور افلاس بڑھ جائے گی اور خوشحالی ناپید ہو جائے گی کیونکہ دنیا کی معیشت کا دارومدار توانائی کی ترسیل پر ہے، جو اس جنگ سے بری طرح متاثر ہو گی۔ خلیج فارس میں واقع آبنائے ہرمز سے دنیا کا تقریباً 20فیصد تیل گزرتا ہے۔ ایران اسے بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 150 سے 200ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں جس سے دنیا بھر کی معیشتوں کی تباہی ہو جائے گی۔ اسی طرح پاکستان جو پہلے ہی معاشی دبائو میں ہے۔ یہاں تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا، زرمبادلہ کے ذخائر گر جائیں گے اور ٹرانسپورٹیشن لاگت بڑھنے سے ہر چیز مہنگی ہو جائے گی۔ عالمی حصص بازاروں میں مندی آئے گی اور سرمایہ کار اپنا پیسہ نکال کر سونے یا دیگر محفوظ اثاثوں میں منتقل کر دیں گے۔ یہ جنگ ممکنہ طور پر روایتی کے ساتھ ساتھ غیر روایتی بھی ہو گی۔ ایران اپنی جانب سے براہ راست مقابلے کے ساتھ ساتھ یمن ( حوثی)، لبنان ( حزب اللہ) اور عراق میں موجود اپنے اتحادیوں کو متحرک کر دے گا، جس سے پورے مشرق وسطیٰ میں محاذ کھل جائیں گے۔ ایران کا میزائل پروگرام کافی جدید ہے۔ وہ امریکی اڈوں اور اتحادیوں ( مثلاً اسرائیل اور سعودی عرب) تک کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکا اور ایران دونوں ممالک ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے ( گرڈز، بینکنگ، دفاع) پر بڑے پیمانے پر سائبر حملے کریں گے۔ ان حالات میں دنیا کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و امان خطرناک کشیدگی کی زد میں آ جائے گا اور پاکستان کے لئے یہ صورت حال آگ کے درمیان ہونے جیسی ہو گی۔ ایران کے ساتھ ہماری 900کلومیٹر طویل سرحد غیر محفوظ ہو جائے گی۔ مہاجرین کا سیلاب پاکستان کا رخ کر سکتا ہے جسے سنبھالنا ناممکن ہو گا۔ پاکستان میں مختلف مکاتیب فکر کے لوگ بستے ہیں۔ اس تناظر میں بھی ایران، امریکہ جنگ ملک کے اندرونی امن کو متاثر کر سکتی ہے اور یہاں فرقہ وارانہ حساسیت بڑھ سکتی ہے۔ ممکنہ جنگ کی صورت میں پاکستان پر امریکہ کی طرف سے اڈوں یا لاجسٹک سپورٹ کا دبائو بھی متوقع ہے جبکہ ایران ہمارا برادر پڑوسی ہے۔ ایسے میں توازن برقرار رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ ممکنہ جنگ کی صورت میں ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو تیز کر سکتا ہے یا اسے مکمل کرنے کا اعلان کر سکتا ہے، جس سے خطے میں ایٹمی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ اس جنگ کے بعد اگر چین اور روس نے ایران کی حمایت کی ( چاہے وہ صرف معاشی یا سفارتی ہو) تو یہ صورتحال تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ مختصر یہ کہ ممکنہ ایران امریکہ جنگ کا مطلب، عالمی سپلائی چین کی تباہی، بڑے پیمانے پر انسانی نقل مکانی اور دہائیوں پر محیط عدم استحکام ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لئے یہ ایک قومی بقا کا مسئلہ بن جائے گا، کیونکہ ہماری جغرافیائی پوزیشن ہمیں اس کے اثرات سے بچنے نہیں دے گی۔ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو پاکستان کو غیر جانبداری برقرار رکھنا یا کسی ایک فریق کا ساتھ دینا، دونوں مشکل ہو جائیں گے اسی لئے پاکستان دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران امریکہ مذاکرات کے نتیجہ میں ہر حال میں ایک امن ڈیل کے لئے کوشاں ہے۔ پاکستان جیسے خطرات کو محسوس کر کے ہی مصر، ترکی، عمان، قطر اور سعودی عرب وغیرہ بھی امن کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ایک سنجیدہ فکر اور ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے ایران کے لئے بھی یہ لمحہ تاریخ کا سب سے کڑا امتحان ہے۔ تہران پر اب یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ٹرمپ کے اس عیارانہ ظلم کے خلاف ’’ جذباتی رد عمل‘‘ دینے کی بجائے ’’ تزویراتی صبر‘‘ کا مظاہرہ کرے۔ اب ایران دنیا کو یہ باور کروائے کہ وہ ان لغویات کے باوجود جنگ نہیں بلکہ باعزت بقا چاہتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش جہاں امریکہ کے لئے بڑا چیلنج ہے، وہیں یہ عالمی معیشت کو بھی تباہ کر سکتی ہے۔ ایران کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بھی سفارتی دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں تاکہ ٹرمپ کو کسی بڑی مہم جوئی کا جواز نہ مل سکے۔ دنیا یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ اس پوری صورتحال میں پاکستان کا کردار پہلے دن سے سب سے اہم اور حساس رہا ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کے ایران کے ساتھ برادرانہ اور امریکہ کے ساتھ تزویراتی تعلقات ہیں۔ ان حالات میں حالیہ اسلام آباد مذاکرات کے پہلے اور اب دوسرے دور کا انعقاد ایک اہم، قابل ذکر اور مثبت قدم ہے، لیکن اسے محض ایک تجویز تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطے کے دیگر ممالک، عمان، مصر، ترکی اور قطر وغیرہ کے ساتھ مل کر ایک ایسا بلاک بنائے جو جنگ کی صورت میں کسی کا فریق بننے کے بجائے صرف امن کا علمبردار بنے۔ یہ بھی طے شدہ ہے کہ ایران پر سالہاسال سے عائد پابندیوں کے اثرات براہِ راست پاکستان کی معیشت اور سرحدی استحکام پر مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان کو چین اور روس کے ساتھ مل کر ایران کے لئے متبادل تجارتی راستے اور معاشی سہارے فراہم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ خلیجی ممالک، ترکی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر دوبارہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک ہمہ گیر جنگ چھڑ گئی تو ’’ ایشیائی صدی‘‘ کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔ تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور سمندری راستوں کی بندش پورے خطے کو دہائیوں پیچھے دھکیل دے گی۔ خطے کے ان ممالک کو ٹرمپ انتظامیہ کو اجتماعی طور پر یہ پیغام دینا ہو گا کہ طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نئی نسل کشی کا آغاز ہو گا۔
یعنی ٹرمپ کی عیاری کا مقابلہ صرف خطہ کے ذمہ دار ممالک کی عقل، دانش اور اتحاد سے ہی ممکن ہے۔ ایران کو اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ کیے بغیر لچک دکھانا ہو گی، جبکہ پاکستان کو ایک متحرک سفارتی کھلاڑی کے طور پر اپنی پوری توانائی جنگ روکنے میں لگانا ہو گی۔ دنیا اب کسی نئے غزہ یا حتیٰ کہ روس شکن افغانستان کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ توپوں کی گھن گرج کے بجائے دلیل کی آواز کو بلند کیا جائے، کیونکہ جنگ جہاں بھی ہو، ہر دو فریقین اور دنیا کو صرف لاشیں اور ملبہ ہی دیتی ہے، بالآخر حل صرف اور صرف مذاکرات کی میز پر ہی ملتا ہے۔ جو کہ اس عالمگیر جنگ سے تحفظ کے لئے پاکستان نے فراہم کیا ہوا ہے۔ اس میز پر حکمت اور دانائی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دنیا میں امن کی راہ متعین کر لینا چاہئے نہ کہ دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونکا جائے۔ خاص طور پر ٹرمپ کو شرم کرنا چاہیے۔





