ڈیجیٹل فریب

ڈیجیٹل فریب
تحریر: رفیع صحرائی
آزاد کشمیر کے نوجوان عرفان کی گرفتاری کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یہ ہمارے عہد کی ایک لرزہ خیز علامت ہے۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جنگ کا میدان بدل چکا ہے۔ اب بارود کی بو نہیں آتی، نہ ہی گولیوں کی آواز سنائی دیتی ہے بلکہ ایک خاموش مگر نہایت خطرناک جنگ ہمارے ہاتھوں میں موجود موبائل فون کی سکرینوں پر لڑی جا رہی ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں دشمن سامنے نہیں آتا بلکہ ایک مسکراتی پروفائل تصویر، ایک دلکش نام اور ایک پرکشش پیشکش کی صورت میں ہماری روزمرہ زندگی میں داخل ہو جاتا ہے۔
عرفان نامی نوجوان انٹرمیڈیٹ کا طالب علم ہے جسے فیس بک پر فرینڈ ریکوئسٹ کے ذریعے جال میں پھنسایا گیا پھر آن لائن کام دینے کا جھانسہ دے کر ابتدا میں اپنے ہی گلی محلے اور اردگرد کی تصاویر منگوائی گئیں اور ان کا معاوضہ دے کر شکار کے لیے چارے کا بندوبست کیا گیا۔ بعد ازاں ٹارگٹس دے کر حساس مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز اس سے بنوائی گئیں اور یوں عرفان وطن دشمنی کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔
یہ ڈیجیٹل دور اپنی تمام تر سہولتوں کے باوجود ایک نیا عذاب بھی لے کر آیا ہے اور وہ عذاب’’ ہائبرڈ وارفیئر‘‘ کا ہے۔ اس جنگ میں نہ توپیں استعمال ہوتی ہیں اور نہ ٹینک، بلکہ انسانی کمزوریوں کو ہتھیار بنایا جاتا ہے۔ غربت، بیروزگاری، اور ڈیجیٹل لاعلمی اس جنگ کے سب سے بڑے ہدف ہیں۔ دشمن کو اب سرحد پار سے ایجنٹ بھیجنے کی ضرورت نہیں رہی؛ ہم خود اپنی کمزوریوں کے باعث اس کے لیے راستے ہموار کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ بظاہر رابطے کے ذرائع ہیں مگر درحقیقت یہ ایک کھلی کتاب بن چکے ہیں جس میں ہم اپنی زندگی کے تمام راز خود ہی تحریر کر رہے ہیں۔ ہماری تصاویر، لوکیشنز، روزمرہ معمولات حتیٰ کہ ہماری سوچیں، سب کچھ دشمن کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بن چکا ہے۔ اب روایتی جاسوسی کے دن لد چکے ہیں جب ایجنٹوں کو سرحد پار بھیجنے کے لیے طویل منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔ دشمن ایجنسیاں اب ایسے نوجوانوں کو ہدف بناتی ہیں جو معاشی مسائل کا شکار ہوں یا جن میں ڈیجیٹل آگاہی کی کمی ہو۔ اس کھیل کا آغاز انتہائی معصومیت سے ہوتا ہے۔ ایک بے ضرر سے پیغام سے اس کی ابتدا ہوتی ہے۔ پھر تھوڑی سی گپ شپ لگائی جاتی ہے۔ اعتماد کا تعلق بنایا جاتا ہے۔ جب ہدف مکمل طور پر شکنجے میں آ جاتا ہے تو اسے پرکشش معاوضے کے بدلے چھوٹے چھوٹے ٹاسک دیئے جاتے ہیں۔ ڈیجیٹل جاسوسی کا طریقہ کار نہایت سادہ مگر مہلک ہے۔ پہلے ایک پرکشش نوکری یا بیرون ملک موقع کا جھانسہ دیا جاتا ہے۔ پھر چھوٹے چھوٹے کام لیے جاتے ہیں جنہیں بظاہر بے ضرر سمجھا جاتا ہے، جیسے کسی پل، سڑک یا عمارت کی تصویر لینا۔ جب ایک بار کوئی شخص اس جال میں پھنس جاتا ہے تو پھر واپسی کے تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔ چند ہزار روپے کا لالچ انسان کو اس مقام پر لے آتا ہے جہاں وہ بلیک میلنگ اور خوف کے شکنجے میں جکڑ جاتا ہے۔ یوں ایک وقتی غلطی عمر بھر کی غلامی اور رسوائی میں بدل جاتی ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ دشمن ان تصاویر سے کیسے فائدہ اٹھاتا ہے؟ اس کے جواب کے لیے ہمیں سمجھنا ہو گا کہ سائنسی ترقی کے اس دور میں اب ٹینکوں اور توپوں کی جنگوں کا دور ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے اب ہزاروں کلومیٹر دور اور آنکھ سے اوجھل ہدف کو درست نشانہ بنانا ممکن ہو گیا ہے۔ میزائل میں AIسسٹم نصب کیا جاتا ہے، ٹارگٹ کی تصویر اور لوکیشن فیڈ کی جاتی ہے اور میزائل کا بٹن دبا دیا جاتا ہے ۔ یہ میزائل اپنے ٹارگٹ کو ہر صورت میں تلاش کر لیتا ہے۔ فیڈ کی گئی تصویر کے مطابق عمارت، پُل، ریلوے لائن، مسجد یا امام بارگاہ تک پہنچنا اس کے لیے مشکل نہیں ہوتا۔ یوں ہزاروں میل دور بیٹھا دشمن ایک بٹن دبا کر مطلوبہ ٹارگٹ کو تباہ کر سکتا ہے۔ اس کے لیے سہولت کاری کا کام وہ نوجوان انجام دیتا ہے جو پیسوں یا نوکری کے لالچ میں ان کا آلہ کار بن جاتا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ آخر ایک عام شہری، جو اپنے ملک سے محبت کرتا ہے، کیسے ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے؟ اس کا جواب تلخ ضرور ہے مگر بہت واضح ہے اور وہ ہے ڈیجیٹل ناخواندگی۔ ہمیں یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ انٹرنیٹ ایک غیر محفوظ دنیا بھی ہو سکتی ہے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہر آن لائن شناخت حقیقی نہیں ہوتی اور ہر پیشکش ایک موقع نہیں بلکہ ایک جال بھی ہو سکتی ہے۔
یہ مسئلہ محض انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہے۔ اس کا حل بھی اجتماعی شعور میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی ڈیجیٹل عادات بدلنا ہوں گی۔ نامعلوم افراد سے فاصلہ، ذاتی معلومات کی حفاظت اور ہر پیشکش کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ یہ اب محض احتیاطی تدابیر نہیں بلکہ قومی ذمہ داری بن چکی ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں جبکہ تعلیمی اداروں کو ڈیجیٹل سکیورٹی کو نصاب کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔
اس کے لیے ریاستی سطح پر بھی فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ سائبر سکیورٹی کے اداروں کو مزید فعال بنانا، آگاہی مہمات چلانا اور ایسے واقعات کی بروقت تشہیر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ عوام سیکھ سکیں۔ یہ سب وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ سنسنی سے ہٹ کر شعور اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
آج کے دور میں سب سے بڑا ہتھیار نہ ایٹم بم ہے اور نہ ہی میزائل ہے۔ آج کا سب سے بڑا ہتھیار آگاہی ہے۔ ایک باشعور نوجوان دشمن کے سب سے بڑے منصوبے کو ناکام بنا سکتا ہے جبکہ ایک لاپروا کلک اسے ناقابلِ تلافی نقصان میں دھکیل سکتا ہے۔
یاد رکھیے! آپ کے ہاتھ میں پکڑا موبائل فون صرف ایک اسکرین نہیں۔ یہ ایک سرحد ہے۔ آپ کا ہر کلِک اس سرحد کی حفاظت بھی کر سکتا ہے اور اسے کمزور بھی کر سکتا ہے۔ فیصلہ اب بھی آپ کے ہاتھ میں ہے۔




