اسلام آباد میں امریکہ اور ایران مذاکرات کا نیا موڑ اور پاکستان کا سفارتی کردار

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران مذاکرات کا نیا موڑ اور پاکستان کا سفارتی کردار
کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالی
اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز کے طور پر ابھرا ہے، جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت محض دو ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور دنیا تک پھیلتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل مذاکرات بھی اسی نوعیت کے حامل ہیں، جن میں امید اور مایوسی دونوں کے آثار نمایاں دکھائی دئیے۔ اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے، لیکن اسے مکمل ناکامی قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا کیونکہ کم از کم دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست رابطہ بحال ہوا، جو اپنے آپ میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جب بھی امریکہ اور ایران ایک میز پر آتے ہیں تو اعتماد کی فضا سب سے بڑا سوال بن کر سامنے آتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط کشیدگی کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی عمل ہے جس میں انقلابی تبدیلیاں، علاقائی جنگیں، اور عالمی طاقتوں کی مداخلت شامل رہی ہے۔ اسی لیے ہر نیا مذاکراتی دور امید بھی پیدا کرتا ہے اور ساتھ ہی شک و شبہات کو بھی جنم دیتا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی ان بات چیت کے دوران دونوں ممالک اپنے اپنے موقف پر سختی سے قائم رہے۔ امریکہ کا مطالبہ تھا کہ ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کو طویل عرصے کے لیے محدود کرے، جبکہ ایران نے اپنی خودمختاری اور قومی وقار کا حوالہ دیتے ہوئے اس شرط کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ ایران کا موقف یہ تھا کہ اسے اپنے سائنسی اور توانائی کے منصوبوں پر مکمل حق حاصل ہے اور کسی بھی بیرونی دبائو کے تحت وہ اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔
اس صورتحال میں مذاکرات کا بے نتیجہ رہنا غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان ایک دیرینہ مسئلہ ہے جو ہر کوشش کو مشکل بنا دیتا ہے۔ جب دو ریاستیں ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھتی ہوں تو کسی بھی معاہدے تک پہنچنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں مذاکرات شروع ہوتے ہیں، کچھ پیش رفت بھی ہوتی ہے، لیکن آخرکار بات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ پاتی۔
امریکہ اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں۔ اس کشیدگی کی بنیادی وجہ ایران میں آنے والا انقلابی نظام تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے گئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ فاصلے صرف سفارتی نہیں رہے بلکہ سیاسی، معاشی اور دفاعی سطح پر بھی گہرے ہوتے گئے۔ مختلف ادوار میں مذاکرات کی کوششیں کی گئیں، کچھ پیش رفت بھی ہوئی، لیکن ہر بار اختلافات کی دیوار حائل ہو گئی۔
خاص طور پر جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی تو اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف سفارتی ماحول کو متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا۔ ایران نے اسے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا جبکہ امریکہ نے اپنے تحفظات کو بنیاد بنایا۔
اسلام آباد مذاکرات کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان براہِ راست بات چیت ہوئی، جو ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس طرح کے رابطے اس وقت ہی ممکن ہوتے ہیں جب دونوں فریق کسی نہ کسی سطح پر بات چیت کی ضرورت محسوس کریں۔ اگرچہ اس بار کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن مستقبل میں پیش رفت کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ سفارت کاری کے عمل میں ناکامیاں بھی کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہیں اور یہی عمل آگے بڑھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
اس سارے عمل میں پاکستان کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف ان مذاکرات کی میزبانی کی بلکہ پسِ پردہ دونوں ممالک کو قریب لانے کے لیے بھی کوششیں کیں۔ پاکستان کی قیادت اس بات کو بخوبی سمجھتی ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ بڑی طاقتیں تصادم کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔ اسی لیے پاکستان نے ایک ایسا ماحول فراہم کیا جہاں دونوں فریق اپنے موقف کو پیش کر سکیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
پاکستان کی اس حکمت عملی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ ایک طرف وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، اور دوسری طرف ایران کے ساتھ اپنی جغرافیائی قربت اور ہمسائیگی کی بنیاد پر تعلقات کو بھی مضبوط رکھنا اس کے مفاد میں ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں کے درمیان توازن قائم رکھے اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ خطے کی سیاست میں پاکستان ہمیشہ ایک نازک مگر اہم پوزیشن پر رہا ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت اسے مجبور بھی کرتی ہے اور موقع بھی فراہم کرتی ہے کہ وہ بڑے تنازعات میں مثبت کردار ادا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ اعتماد کا فقدان ہے۔ جب دو ممالک ایک دوسرے کی نیت پر شک کرتے ہوں تو کسی بھی معاہدے تک پہنچنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو دفاعی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کر سکتا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے توانائی اور سائنسی مقاصد کے لیے یہ پروگرام جاری رکھنے کا حق رکھتا ہے۔
اس تضاد کی وجہ سے کسی درمیانی راستے تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی طاقتوں کے اپنے اپنے مفادات بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن نہایت حساس ہے اور مختلف ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ کچھ ممالک ایران کے بڑھتے ہوئے اثر سے پریشان ہیں جبکہ کچھ امریکہ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں۔
اقتصادی پابندیاں بھی اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہیں۔ ایران پر عائد پابندیوں نے اس کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے اور عام عوام کی زندگی بھی اس سے متاثر ہوئی ہے۔ ایران ان پابندیوں کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ امریکہ ان پابندیوں کو دبا کے طور پر استعمال کرتا ہے تاکہ ایران کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی پر مجبور کیا جا سکے ۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے مستقبل کے لیے امید پیدا ہوئی ہے۔ اگر بات چیت کا سلسلہ جاری رہا تو آہستہ آہستہ اعتماد کی فضا بحال ہو سکتی ہے۔ اس عمل میں پاکستان جیسے ممالک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جو دونوں فریقین کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں اور ایک پل کا کام کر سکتے ہیں۔
دنیا کی سیاست میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ طاقت کے استعمال سے زیادہ دیرپا حل مکالمے اور سفارت کاری سے ہی نکلتے ہیں۔ اگر یہ رجحان مضبوط ہوتا ہے تو مستقبل میں کئی بڑے تنازعات حل ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد مذاکرات اسی سمت ایک چھوٹا مگر اہم قدم ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سفارت کاری ایک طویل، صبر آزما اور پیچیدہ عمل ہے جس میں فوری نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ کئی بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہیں، لیکن دراصل یہی ناکامیاں مستقبل کی کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت ایک مسلسل عمل کا حصہ ہے۔ ایسے پیچیدہ مسائل ایک ہی مرحلے میں حل نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے وقت، صبر اور مسلسل کوشش درکار ہوتی ہے۔ اگر مکالمے کا دروازہ کھلا رہے تو امید ہے کہ کسی نہ کسی مرحلے پر ایک قابلِ قبول حل سامنے آ جائے گا اور دنیا ایک بڑے تصادم سے بچ سکے گی۔
یہی وہ امید ہے جو پاکستان جیسے ممالک کو مسلسل کوششوں پر آمادہ رکھتی ہے، اور یہی امید عالمی سیاست میں امن کے امکانات کو زندہ رکھتی ہے۔





