Column

’’ چار نشے‘‘

’’ چار نشے‘‘
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
انسانی تاریخ میں اخلاقی زوال اور فکری بیداری کے درمیان ہمیشہ ایک باریک لکیر موجود رہی ہے۔ یہ لکیر اکثر ’’ نشہ‘] کہلانے والی کیفیتوں سے دھندلا جاتی ہے۔ نشہ صرف شراب یا کسی مادی چیز تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک ایسی ذہنی اور جذباتی حالت ہے جس میں انسان اپنی اصل حقیقت ، اپنی حدود اور اپنے انجام کو بھول جاتا ہے۔
اسلامی اخلاقی روایت میں، خصوصاً مولا علی علیہ السلام سے منسوب حکمت و اقوال میں ، انسان کی اسی کمزوری کو مختلف زاویوں سے سمجھایا گیا ہے۔
یہ مقالہ اسی تصور کو بنیاد بنا کر انسان کی داخلی نفسیات، سماجی رویے اور اخلاقی انحطاط کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔
1۔ نشہ بطور نفسیاتی تصور
نشہ دراصل شعور کے بگاڑ کا نام ہے۔ جب انسان کی ادراک کی قوتیں متوازن نہ رہیں تو وہ حقیقت کو اس کی اصل صورت میں نہیں دیکھ پاتا۔ وہ یا تو اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے یا دنیا کو بہت چھوٹا۔فلسفہ، نفسیات اور مذہب تینوں اس بات پر متفق ہیں کہ انسان کی سب سے بڑی آزمائش’’ خود فریبی‘‘ ہے۔
یہی خود فریبی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے، اور انہی شکلوں کو علامتی طور پر ’’ نشہ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ جوانی کا نشہ
جوانی انسان کی زندگی کا وہ دور ہے جہاں جسمانی توانائی، خواہشات اور جذبات اپنے عروج پر ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب انسان کو لگتا ہے کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے، سب کچھ حاصل کر سکتا ہے، اور اسے کوئی روک نہیں سکتا۔یہی احساس اگر شعور اور اخلاقی تربیت کے بغیر ہو تو ’’ نشہ‘‘ بن جاتا ہے۔
جوانی کا نشہ دراصل طاقت کا دھوکہ ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اس کی طاقت ہمیشہ قائم رہے گی، حالانکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اس کے فیصلے اس کی پوری زندگی کا نقشہ بدل دیتے ہیں۔اس نشے کی سب سے بڑی علامت جلد بازی ہے۔ جوان انسان انجام سے زیادہ آغاز پر یقین رکھتا ہے۔ وہ ’’ کل‘‘ کے بجائے ’’ آج‘‘ میں جیتا ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔
اخلاقی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ جوانی کو دبانا نہیں بلکہ اسے شعور کے ساتھ سنوارنا ہے۔ جوانی اگر عقل کے ساتھ ہو تو وہ تعمیر کرتی ہے، اور اگر جذبات کے ساتھ ہو تو وہ تخریب بن جاتی ہے۔
نیند یا غفلت کا نشہ
یہ نشہ سب سے زیادہ خاموش مگر سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ انسان کو بیدار ہوتے ہوئے بھی سوتا ہوا رکھتا ہے۔یہ صرف جسمانی نیند نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی غفلت ہے۔ انسان اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کو دیکھتا ہے، مگر ان سے سبق نہیں لیتا۔ وہ زندگی کو گزرتا ہوا دیکھتا ہے مگر اس کے معنی نہیں سمجھتا۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان عادتوں کا قیدی بن جاتا ہے۔ وہ روزمرہ کے معمولات میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اس کی سوچ رک جاتی ہے۔
قرآن و سنت کی تعلیمات میں بار بار ’’ غفلت‘‘ کو ایک بڑی روحانی بیماری قرار دیا گیا ہے۔ غفلت دراصل وہ پردہ ہے جو انسان اور حقیقت کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔
یہ نشہ آہستہ آہستہ انسان کی بصیرت کو ختم کرتا ہے۔ وہ صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اس کا ضمیر کمزور پڑ جاتا ہے اور وہ صرف ’’ چلتی ہوئی زندگی‘‘ کا حصہ بن جاتا ہے، ’’ سمجھی ہوئی زندگی‘‘ کا نہیں۔ مال و دولت کا نشہ
یہ وہ نشہ ہے جس نے انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ فساد پیدا کیا ہے۔ دولت بذاتِ خود برائی نہیں، مگر جب یہ دل میں اتر جائے تو پھر انسان کا دل اس کا غلام بن جاتا ہے۔ مال و دولت کا نشہ انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ محفوظ ہے، طاقتور ہے، اور دوسروں سے برتر ہے۔ یہی احساس تکبر کو جنم دیتا ہے۔
یہ نشہ انسان کو دو بڑی غلطیوں میں مبتلا کرتا ہے:: وہ دوسروں کو کم تر سمجھنے لگتا ہے، وہ اپنی کمزوریوں کو نظر انداز کر دیتا ہے، مال کا نشہ انسان کو حساب سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ ہر چیز عارضی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاقی زوال شروع ہوتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں بار بار یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ مال ’’ امانت‘‘ ہے، ملکیت نہیں۔ مگر نشے کی حالت میں انسان امانت کو ملکیت سمجھ لیتا ہے، اور پھر وہی اس کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔
حکومت یا اختیار کا نشہ: یہ نشہ سب سے خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ صرف فرد کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ اقتدار انسان کو یہ احساس دیتا ہے کہ اس کے فیصلے آخری ہیں۔ وہ خود کو قانون سے بالا تر سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان انسان نہیں رہتا بلکہ ایک ’’ کردار‘‘ بن جاتا ہے جس کے پیچھے طاقت بولتی ہے۔حکومت کا نشہ تین بڑے بگاڑ پیدا کرتا ہے: انصاف کا زوال، حقیقت کا انکار اور خود احتسابی کا خاتمہ۔
جب انسان کو کوئی روکنے والا نہ رہے تو وہ خود کو روکنے کی صلاحیت بھی کھو دیتا ہے۔
اخلاقی تعلیمات کا سب سے بڑا مقصد یہی ہے کہ اقتدار کو ذمہ داری بنایا جائے، غرور نہیں۔
چاروں نشوں کا باہمی تعلق
یہ چاروں نشے الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
جوانی انسان کو طاقت دیتی ہے، نیند اسے غافل کرتی ہے، مال اسے مغرور بناتا ہے اور حکومت اسے مطلق العنان بنا دیتی ہے۔ یہ چاروں مل کر ایک ایسا دائرہ بناتے ہیں جس میں انسان حقیقت سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اخلاقی نظام ہمیشہ ’’ توازن‘‘ پر زور دیتا ہے۔ توازن ہی وہ واحد چیز ہے جو انسان کو نشے سے بچا سکتی ہے۔
جب انسان ان نشوں میں سے کسی ایک کا بھی شکار ہو جائے تو اس کی شخصیت میں بگاڑ شروع ہو جاتا ہے۔ وہ سننے کے بجائے حکم دینے لگتا ہے، وہ سمجھنے کے بجائے فیصلہ کرنے لگتا ہے، وہ سیکھنے کے بجائے سکھانے لگتا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں علم بھی غرور میں بدل جاتا ہے اور طاقت بھی ظلم میں۔
ان نشوں سے نجات کا راستہ انکار نہیں بلکہ شعور ہے۔ انسان کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ محدود ہے۔ اس کی طاقت، اس کی دولت، اس کی عمر اور اس کا اختیار سب عارضی ہیں۔ یہی احساس انسان کو عاجزی کی طرف لے جاتا ہے، اور عاجزی ہی اصل دانائی ہے۔
’’ چار نشے‘‘ دراصل انسان کے اندر چھپی ہوئی چار کمزوریاں ہیں۔ یہ وہ دروازے ہیں جن سے داخل ہو کر غرور، غفلت اور زوال انسان کی شخصیت پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ انسان جب خود کو پہچان لیتا ہے تو وہ ان نشوں سے آزاد ہو جاتا ہے، اور جب خود کو بھول جاتا ہے تو وہ ان کا غلام بن جاتا ہے۔
کسی شاعر نے شاید سچ ہی کہا ہے:
اپنی کشیدِ جاں کی ہی پیتا رہا، جیتا رہا
نشہ کہاں ساغر میں تھا، مستی کہاں بوتل میں تھی

جواب دیں

Back to top button