ColumnTajamul Hussain Hashmi

عوام کچھ بھی سوچ لیں

عوام کچھ بھی سوچ لیں
تجمّل حسین ہاشمی
حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف ہمارے ہاں بلکہ پوری دنیا میں جنگی حالات نے انسان کو ذہنی اضطراب کا شکار کر دیا ہے۔ ایک ایسا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جسے روکنا اب آسان نہیں رہا۔ حالیہ ایران، امریکہ کشیدگی نے عالمی سطح پر خطرات میں خطرناک اضافہ کر دیا ہے، جبکہ اسرائیل، امریکہ کے لیے نئے جنگی محاذ کھولنے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ ویسے بھی جب کوئی بڑی طاقت کمزور پڑتی ہے تو دوسروں کے لیے جگہ خود بخود بن جاتی ہے، اور یہی خلا اب چین کے لیے پیدا کیا جا رہا ہے۔
دنیا کی تباہی کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک طے شدہ حقیقت ہے، جس کی نشان دہی قرآن بھی کرتا ہے۔ گزشتہ برس انہی دنوں بھارت کی جارحیت کو خاک میں ملا کر پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ وہ ایک مضبوط جمہوری ریاست ہے، جس کا دفاع محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات بھی بھارت کے لیے سبکی کا باعث بنتے رہے۔ اس تمام صورتحال میں ایک بات قابلِ فخر ہے کہ ہماری سکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دے کر قوم کا سر بلند کیا اور دشمن کو شکست سے دوچار کیا۔
معرکہ حق کوئی معمولی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ جدید ٹیکنالوجی کی جنگ تھی، جس میں پاکستان نے کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ دفاعی لحاظ سے نہ صرف مضبوط ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ بھی کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ، اربوں ڈالر کے نقصانات اور ہزاروں جانوں کی قربانیوں کے باوجود پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر منوایا ہے۔ تاہم، داخلی سطح پر صورتحال مختلف ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی محاذ مسلسل گرم رہتے ہیں، اور ان سیاسی کشمکشوں پر بیرونی ڈپلومیسی کے اثرات بھی واضح ہیں۔ ہم سیاسی طور پر اب بھی کمزور ہیں۔ ہمارے رہنما عوامی خدمت کے بجائے اقتدار کو ترجیح دیتے ہیں۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں شاید عوامی ووٹ کی اہمیت مزید کم ہو جائے۔
مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ کسی مثبت پالیسی کا نتیجہ نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اقتدار کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے، اور اس سوچ کا توڑ بظاہر کسی کے پاس نہیں۔ سندھ سمیت ملک کی کئی حصوں میں آج بھی عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں نہایت اہم سوال اٹھایا کہ جاری جنگ کے بعد پاکستان کی ’’ پوسٹ وار ڈپلومیسی‘‘ کیا ہوگی؟۔ اس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر، جنرل احمد شریف چودھری نے ایک متوازن اور جمہوری انداز اپناتے ہوئے مزید سوالات کے دروازے بند کر دئیے۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند برس میں پاکستان نے اپنی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی میں نمایاں بہتری لائی ہے، جس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔
ایران، امریکہ مذاکرات نے بھی مستقبل کی سفارتی سمت کا ایک واضح خاکہ پیش کیا ہے، جس میں پاکستان کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہماری اصل کمزوری کہاں ہے؟ اور اس کا حل کیا ہے؟ بدقسمتی سے، کئی بار حکومت میں رہنے والی سیاسی جماعتیں بھی اس کا جواب دینے میں ناکام رہی ہیں۔ ان کی ناکام پالیسیوں نے 24کروڑ عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ حال ہی میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی کوشش کی، جو ایک غیر ذمہ دارانہ بیان تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ ٹیکس اس وقت تنخواہ دار اور غریب طبقہ ادا کر رہا ہے، جبکہ مراعات یافتہ طبقات بدستور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ایف بی آر جیسے اہم ادارے کی کارکردگی ہر سال سوالیہ نشان بنی رہتی ہے۔ طاقتور طبقوں سے ٹیکس وصول کرنا اس کے بس میں نظر نہیں آتا۔ دوسری جانب، وزیر داخلہ کے مطابق 100ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہو چکی ہے، مگر اس کا احتساب کہیں نظر نہیں آتا۔ غیر ملکی بینکوں میں موجود قومی دولت پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
احتساب کے نام پر عوام کو بارہا دھوکہ دیا گیا۔ قوانین بنائے گئے، مگر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ آج عوام مہنگائی، کرپشن اور بدانتظامی سے نجات کی لیے مقتدر حلقوں کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ملک دشمن اور کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
معاشی بہتری کی تمام تر کوششیں اپنی جگہ، مگر عوامی ووٹ کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ آخر ایسا تاثر کیوں پیدا ہو رہا ہے کہ عوامی رائے کی کوئی قدر باقی نہیں رہی؟۔ یہی وہ سوال ہے جو ہر خاص و عام کے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ معاشی ظلم کا عوام کیوں شکار ہیں۔

جواب دیں

Back to top button