Column

پاکستان کا افغانستان کو دوٹوک پیغام

پاکستان کا افغانستان کو دوٹوک پیغام
افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کا معاملہ ایک بار پھر خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ بنوں میں فتح خیل پولیس پوسٹ پر ہونے والا حالیہ حملہ، جس میں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا، نہ صرف ایک افسوس ناک سانحہ ہے بلکہ یہ صورت حال اس وسیع تر مسئلے کی نشان دہی بھی کرتی ہے جو پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے مسلسل چیلنج بنا ہوا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے افغان ناظم الامور کو طلب کرنا اسی بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار ہے کہ سرحد پار سے سرگرم عناصر پاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں میں ملوث ہیں۔ پاکستانی موقف کے مطابق، بعض دہشت گرد گروہ افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں، جس پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ دفتر خارجہ نے افغانستان کو دوٹوک پیغام دیا کہ پاکستان ان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ پاکستان کا یہ موقف نیا نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے اسلام آباد بارہا یہ مطالبہ کرتا آیا ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس، خواہ وہ کسی بھی نام سے سرگرم ہوں، خطے کے امن کے لیے ایک مشترکہ خطرہ ہیں، جن کا خاتمہ صرف باہمی تعاون اور عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔ دوسری جانب افغان حکام کی جانب سی مسلسل یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیتے۔ تاہم پاکستان کا موقف یہ ہے کہ زمینی حقائق اور متعدد واقعات اس دعوے کے برعکس ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں، جہاں بعض شدت پسند گروہ سرحدی علاقوں میں موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جو صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہ سکتا۔ اگر کسی بھی خطے میں شدت پسند گروہوں کو محفوظ ماحول میسر ہو تو اس کے اثرات سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ موثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں تاکہ ان نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا جا سکے۔ بنوں حملے جیسے واقعات نہ صرف سیکیورٹی اداروں کے لیے چیلنج ہیں، بلکہ یہ عام شہریوں کے لیے بھی خوف اور عدم تحفظ کا باعث بنتے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کی قربانی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے اس خطرے کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں، تاہم اس جدوجہد کو مزید موثر بنانے کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔ پاکستان نے ماضی میں متعدد بار ثالث ممالک کی مدد سے افغان عبوری حکومت کے ساتھ مذاکرات بھی کیے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد یہی تھا کہ اعتماد سازی کے ساتھ ایسے عملی اقدامات طے کیے جائیں جو دونوں ممالک کی سرزمین کو پُرامن بنا سکیں۔ تاہم پاکستان کے مطابق ان کوششوں کے باوجود زمینی سطح پر مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خطے میں سرگرم مختلف گروہ پاکستان کے امن و امان کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں افغانستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ موثر حکمت عملی اپنائیں، کیونکہ دہشت گردی سب کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سفارتی چینلز کھلے رہیں اور اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ خطے میں دیرپا امن کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ فریقین اپنی ذمے داریاں پوری کریں۔ اگر واقعی دہشت گرد گروہ موجود ہیں تو ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، اور اگر کوئی غلط فہمیاں یا معلوماتی خلا موجود ہیں تو انہیں سفارتی سطح پر دور کیا جائے۔ آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ جنوبی ایشیا پہلے ہی متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں مزید کشیدگی نہ صرف ترقی کو متاثر کرے گی بلکہ عام عوام کی زندگیوں کو بھی غیر محفوظ بنا دے گی۔ امن ہی واحد راستہ ہے اور امن ہی وہ بنیاد ہے جس پر مستقبل کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔
توانائی اصلاحات اور امیدیں
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئی پی پیز کے ماڈل کو آئندہ کے لیے دفن کر دیا ہے اور بجلی کی قیمتوں کو اس حد تک کم کرنے کا ہدف رکھا جارہا ہے کہ صارفین اضافی بجلی بیٹریوں میں محفوظ کرکے رات کے وقت استعمال کر سکیں۔ یہ دعویٰ بظاہر انقلابی سوچ کی عکاسی ہے، تاہم عملی صورت اور نفاذ کے چیلنجز پر سنجیدہ غور و فکر ضروری ہے۔ پاکستان کا توانائی شعبہ گزشتہ کئی دہائیوں سے گردشی قرضے، مہنگی بجلی، غیر موثر معاہدوں اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا شکار رہا ہے۔ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدے وقت کے ساتھ بوجھ بنتے گئے اور صارفین پر مہنگی بجلی کا دبا بڑھتا گیا۔ ایسے میں اگر حکومت واقعی اس ماڈل سے نکلنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ ایک بڑی اصلاح تصور ہوگی۔ وزیر توانائی کا یہ اعلان کہ حکومت مزید بڑے پیمانے پر آئی پی پیز منصوبے نہیں لگا رہی اور پرائیویٹائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے، پالیسی کی سمت میں واضح تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔ اسی طرح اسمارٹ میٹرز اور نجی شعبے کی شمولیت کو بڑھانا جدید توانائی نظام کی طرف ایک قدم ضرور ہے، لیکن اس کے لیے مضبوط ریگولیٹری فریم ورک اور شفاف نگرانی ناگزیر ہے۔ سب سے اہم بات کہ بجلی کو اتنا سستا کرنے کا دعویٰ کہ صارفین اسے بیٹریوں میں محفوظ کریں، ایک بلند ہدف تو ہو سکتا ہے مگر موجودہ معاشی حالات میں اس کی حقیقت پسندانہ بنیادیں کمزور دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان میں بجلی کی پیداواری لاگت، ترسیلی نقصانات اور ایندھن کی قیمتیں اب بھی بڑے مسائل ہیں۔ صرف پالیسی بیانات سے ان چیلنجز پر قابو پانا ممکن نہیں۔ صنعت اور زراعت کے لیے مختلف ٹیرف اور دن کے اوقات میں سستی بجلی فراہم کرنے کی تجویز مثبت ضرور ہے، لیکن اس کے لیے مربوط انفرا اسٹرکچر، لوڈ مینجمنٹ اور ڈیٹا بیسڈ پالیسی کی ضرورت ہوگی۔ اگر یہ اقدامات موثر طریقے سے نافذ کیے جائیں تو یہ معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ آنے والے ایک دو سال میں توانائی کمپنیاں نجی شعبے کے حوالے کی جائیں گی۔ یہ عمل اگر شفاف نہ ہوا تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں کئی اداروں کی نجکاری کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام اصلاحات صرف بیانات کی حد تک محدود رہیں گی یا واقعی ان پر عملی پیش رفت بھی دیکھنے کو ملے گی؟ پاکستان کے عوام اب وعدوں سے زیادہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ توانائی بحران ایک ایسا مسئلہ ہے جو براہ راست ہر گھر، ہر صنعت اور ہر کسان سے جڑا ہوا ہے۔ اگر حکومت واقعی آئی پی پیز کے بوجھ کو کم کرنے، بجلی سستی کرنے اور نظام کو جدید بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ لیکن اس کے لیے مستقل مزاجی، پالیسی تسلسل اور سیاسی عزم ضروری ہے۔ فی الحال یہ کہا جا سکتا ہے کہ توانائی اصلاحات کی سمت درست ہوسکتی ہے، مگر منزل ابھی بہت دور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا توانائی مستقبل ٹھوس اقدامات اور شفاف حکمرانی سے ہی روشن ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button