معرکہ حق: بھارتی عسکری غرور کا خاتمہ

معرکہ حق: بھارتی عسکری غرور کا خاتمہ
تحریر: سید محمد حمزہ
تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو رہتی دنیا تک قوموں کے عزم و استقلال اور ان کی دفاعی صلاحیتوں کے سنگِ میل بن جاتے ہیں۔ پچھلے سال مئی کے مہینے میں پیش آنے والا معرکہ، جسے آج پوری پاکستانی قوم ’’ معرکہ حق‘‘ کے عنوان سے یاد کر رہی ہے اور اس کی پہلی سالگرہ منا رہی ہے، بلاشبہ ایک ایسا ہی درخشاں باب ہے۔ یہ معرکہ محض دو ممالک کے درمیان ایک سرحدی جھڑپ یا محدود پیمانے کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ ایک طرف جدید ترین ٹیکنالوجی اور عددی برتری کے زعم میں مبتلا ایک جارح ریاست کا تکبر تھا اور دوسری طرف اپنے ایمان، پیشہ ورانہ مہارت اور وطن کی مٹی سے محبت سے سرشار ایک چھوٹی مگر غیور فوج کا جواب تھا۔ آپریشن معرکہ حق نے عالمی سطح پر جنگی ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ جنگیں صرف مہنگے ترین ہتھیاروں سے نہیں بلکہ درست حکمتِ عملی اور جانثاری کے جذبے سے جیتی جاتی ہیں۔ اس معرکے نے بھارتی عسکری قیادت کے ان تمام دعووں کو خاک میں ملا دیا جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے رافیل طیاروں کی آمد اور ایس۔400جیسے دفاعی نظام کے گرد بنتی رہی تھی۔
اس تنازع کا پس منظر دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارت اپنی اندرونی سیاسی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے اور خطے میں اپنی نام نہاد بالادستی قائم کرنے کے لیے ایک عرصے سے اشتعال انگیزی کر رہا تھا۔ بھارتی میڈیا اور سیاسی قیادت نے رافیل طیاروں کو ایک ایسی ’’ طلسماتی طاقت‘‘ بنا کر پیش کیا تھا جس کا مقابلہ کرنا پاکستان کے لیے ناممکن قرار دیا جا رہا تھا۔ بھارتی دفاعی ماہرین کا خیال تھا کہ رافیل کی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور اس کی اسٹیلتھ خصوصیات پاکستان کے فضائی دفاع کو مفلوج کر دیں گی۔ تاہم، مئی کے ان تپتے دنوں میں جب بھارتی فضائیہ نے ایک بار پھر ’’ سرجیکل اسٹرائیک‘‘ کا ناپاک منصوبہ بنایا، تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ دوسری طرف پاکستان کے شاہین کس قدر مستعدی سے ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپریشن معرکہ حق کا آغاز اس وقت ہوا جب بھارتی طیاروں نے بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی، لیکن اس بار پاکستانی ردِعمل اتنا برق رفتار اور ہمہ جہت تھا کہ دشمن کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔
پاکستان ایئر فورس کے جے۔10سی اور جے ایف۔17تھنڈر طیاروں نے جس طرح فضائوں میں اپنی برتری ثابت کی، وہ جدید ہوائی معرکہ آرائی کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ رافیل طیارے، جن پر اربوں ڈالر خرچ کیے گئے تھے، پاکستانی پائلٹوں کی مہارت اور مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرانک وارفیئر سسٹم کے سامنے بے بس نظر آئے۔ معرکہ حق کے دوران بھارتی فضائیہ کے مواصلاتی نظام کو جس طرح جام کیا گیا اور ان کے طیاروں کو جس طرح ’’ بلاک‘‘ کیا گیا، اس نے بھارتی اسٹریٹجک پوسچرنگ کی بنیادیں ہلا دیں۔ یہ صرف طیاروں کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ ٹیکنالوجی کے درست استعمال اور اعصاب کی جنگ تھی۔ پاکستانی قیادت نے کمالِ تدبر سے کام لیتے ہوئے نہ صرف جارحیت کا بھرپور جواب دیا بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ دشمن کی اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر اسے یہ پیغام دیا جائے کہ پاکستان کی پہنچ سے کچھ بھی دور نہیں ہے۔
بھارت کی عسکری پوسچرنگ ہمیشہ سے اس بات پر منحصر رہی ہے کہ وہ اپنے بڑے دفاعی بجٹ اور اسرائیل و مغرب سے خریدے گئے اسلحے کے ذریعے پاکستان پر رعب ڈال سکے۔ لیکن معرکہ حق نے یہ ثابت کر دیا کہ ’’ وار مشینری‘‘ اس وقت تک بے کار ہے جب تک اس کے پیچھے ایک مربوط دفاعی نظریہ موجود نہ ہو۔ آپریشن معرکہ حق کے دوران پاکستان نے اپنی مقامی دفاعی صنعت کی طاقت کا بھی مظاہرہ کیا۔ جے ایف۔17تھنڈر بلاک 3نے اپنی پہلی بڑی آزمائش میں وہ کارکردگی دکھائی جس نے بین الاقوامی دفاعی منڈیوں میں ہلچل مچا دی۔ اس کے برعکس، بھارتی دفاعی نظام، جو کہ مختلف ممالک کے ہتھیاروں کا ایک پیچیدہ آمیزہ ہے، جنگ کی شدت کے دوران باہمی رابطے کی کمی کا شکار رہا۔ بھارتی ایس۔400میزائل سسٹم، جسے ’’ ناقابلِ شکست‘‘ ” قرار دیا جا رہا تھا، پاکستانی ڈرونز اور میزائلوں کی بوچھاڑ کے سامنے اپنی افادیت ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ اس ناکامی نے بھارتی عسکری غرور کو وہ زخم لگایا ہے جو برسوں تک مندمل نہیں ہو سکے گا۔
آپریشن معرکہ حق کی کامیابی کا ایک اہم پہلو اس کا مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تھا۔ پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ نے ایک مٹھی بن کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ جب فضائیہ فضاں میں دشمن کو دھول چٹا رہی تھی، اسی وقت پاک فوج نے سرحدوں پر دشمن کی توپوں کو خاموش کرایا اور پاک بحریہ نے سمندری حدود میں دشمن کی آبدوزوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلا کر پسپائی پر مجبور کیا۔ یہ وہ ہم آہنگی تھی جس کا تصور بھارتی فوج میں مفقود ہے، جہاں مختلف شاخوں کے درمیان رابطے کا فقدان اکثر ان کی ناکامی کا سبب بنتا ہے۔ معرکہ حق نے ثابت کیا کہ پاکستان کا دفاعی نظام ایک ’’ فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس‘‘ پر مبنی ہے، یعنی پاکستان ہر سطح کی جنگ، چاہے وہ روایتی ہو یا غیر روایتی، لڑنے اور جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارتی قیادت کا یہ گمان کہ وہ پاکستان کو تنہا کر کے یا دبائو ڈال کر اپنی شرائط منوا سکتا ہے، اس آپریشن کے بعد دم توڑ گیا ہے۔
اس معرکے کا ایک اور اہم سبق یہ ہے کہ قوم کا مورال اور اتحاد کسی بھی ہتھیار سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ جب آپریشن معرکہ حق جاری تھا، تو پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی تھی۔ سوشل میڈیا سے لے کر گلی کوچوں تک، ہر پاکستانی کا جذبہ دیدنی تھا۔ اس کے برعکس، بھارت کے اندر افراتفری اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ بھارتی میڈیا، جو شروع میں جنگ کے ڈھول بجا رہا تھا، اپنی فوج کی ذلت آمیز شکست کے بعد صفائیاں پیش کرنے پر مجبور ہو گیا۔ رافیل کی برتری کے غبارے سے ہوا نکلنے کے بعد بھارتی عوام میں اپنی قیادت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا گیا، کیونکہ انہیں احساس ہوا کہ ان کے ٹیکسوں کا پیسہ ایسے ہتھیاروں پر خرچ کیا گیا جو میدانِ جنگ میں کسی کام نہ آ سکے۔ پاکستان نے اس جنگ میں نہ صرف عسکری میدان میں فتح حاصل کی بلکہ اخلاقی اور سفارتی محاذ پر بھی بھارت کو شکستِ فاش دی۔
معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ کامیابی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ برسوں کی محنت، ریاضت اور درست دفاعی پالیسیوں کا ثمر ہے۔ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود جس طرح اپنی کمیت (Quantity)کو معیار (Quality)سے بدلا، وہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ بھارتی عسکری غرور کا خاتمہ اس بات کی علامت ہے کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اب تبدیل ہو چکا ہے۔ اب بھارت کے پاس وہ آپشنز موجود نہیں رہے جو وہ ماضی میں استعمال کرنے کی دھمکیاں دیا کرتا تھا۔ کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن ہو یا سرجیکل اسٹرائیک کا ڈھونگ، پاکستان نے ہر بار ثابت کیا ہے کہ وہ دشمن کی ہر چال کو الٹنے کی پوری قوت رکھتا ہے۔ آپریشن معرکہ حق نے بھارت کے ’’ گریٹر انڈیا‘‘ کے خواب کو چکنا چور کر دیا اور اسے یہ باور کرایا کہ پاکستان کے دفاع کو چیلنج کرنا اپنی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
آج جب ہم اپنے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، تو ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اسی اتحاد اور جذبے کو برقرار رکھیں گے جس کا مظاہرہ آپریشن معرکہ حق کے دوران کیا گیا تھا۔ دشمن آج بھی سازشوں میں مصروف ہے اور اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے نئے ہتھکنڈے ڈھونڈ رہا ہے۔ لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے کہ معرکہ حق صرف ایک آپریشن نہیں تھا بلکہ یہ ایک سوچ اور ایک پیغام تھا کہ جب حق کے سپاہی باطل کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، تو فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جدید ٹیکنالوجی کے درست استعمال اور غیر متزلزل ایمان کے ذریعے بھارتی عسکری دعووں کا وہ حال کیا ہے کہ اب وہ دنیا بھر میں مضحکہ خیز بن کر رہ گئے ہیں۔ معرکہ حق کی فتح صرف پاکستان کی فتح نہیں ہے بلکہ یہ خطے کے امن اور انصاف کی فتح ہے، جس نے ثابت کر دیا کہ کوئی بھی طاقت کسی آزاد قوم کے ارادوں کو زنجیر نہیں پہنا سکتی۔اس عظیم معرکے نے یہ حقیقت بھی واضح کر دی کہ جنگی میدان میں برتری حاصل کرنے کے لیے صرف طیارے خریدنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ ان طیاروں کو اڑانے والے بازوں میں وہ طاقت ہونی چاہیے جو وطن کی حرمت پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہو۔ بھارتی فضائیہ کے وہ پائلٹ جو رافیل میں بیٹھ کر آسمان چھونے کے خواب دیکھ رہے تھے، انہیں زمین پر پاکستانی سپاہیوں کے سامنے جوابدہ ہونا پڑا۔ آپریشن معرکہ حق کی داستان آنے والی نسلوں کو سنائی جائے گی کہ کس طرح ایک بار پھر تاریخ دہرائی گئی ۔ آج کا پاکستان ایک ایسا قلعہ ہے جس کی فصیلیں اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں اور جس کے نگہبان ہر پل بیدار ہیں۔ بھارتی عسکری غرور کا سورج مئی کی اسی دوپہر کو ڈھل گیا تھا جب پاکستانی میزائلوں نے ان کے فضائی غرور کو پیوندِ خاک کیا تھا۔ معرکہ حق کی یہ سالگرہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادی کی قیمت مسلسل بیداری ہے، اور ہم اس قیمت کو ادا کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔





