معاشی استحکام سے معاشی ترقی تک

معاشی استحکام سے معاشی ترقی تک
پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں کے دوران بے یقینی، بلند مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، صنعتی سست روی اور مالیاتی دبا جیسے متعدد چیلنجز سے دوچار رہی ہے۔ ایسے حالات میں اگر حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ مسلسل محنت اور مربوط پالیسیوں کے نتیجے میں معیشت کو استحکام حاصل ہوا ہے تو اس کا زمینی حقائق اور مستقبل کے امکانات کی روشنی میں جائزہ لینا ضروری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی کاروباری برادری اور ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس کی قیادت سے ملاقات اسی تناظر میں اہمیت اختیار کر جاتی ہے، کیونکہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ حالیہ مہینوں میں بعض معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ مہنگائی کی شرح میں نسبتاً کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام، ترسیلات زر میں اضافہ اور کاروباری اعتماد کی بحالی کے آثار اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ معیشت شدید بحران کے مرحلے سے نکل کر استحکام کی طرف گامزن ہے۔ تاہم معاشی استحکام اور معاشی ترقی دو الگ مراحل ہیں۔ استحکام صرف بنیاد فراہم کرتا ہے جب کہ حقیقی کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب صنعت، تجارت، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملے۔وزیراعظم کی جانب سے ایف بی آر کو 15جون تک ٹیکس ریفنڈ کے تمام زیر التوا کیسز نمٹانے کی ہدایت ایک مثبت قدم ہے۔ پاکستان میں برآمد کنندگان اور صنعت کاروں کی ایک بڑی شکایت یہ رہی ہے کہ ان کے اربوں روپے کے ریفنڈز طویل عرصے تک سرکاری نظام میں پھنسے رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں کاروباری سرمائے کا بہائو متاثر ہوتا ہے۔ اگر حکومت اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس سے صنعتی پیداوار اور برآمدی سرگرمیوں کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے عزم کا اظہار بھی خوش آئند ہے۔ دنیا کی کامیاب معیشتوں نے اپنی ترقی کا سفر برآمدات میں اضافے کے ذریعے طے کیا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ روایتی برآمدی شعبوں کے ساتھ انجینئرنگ، آئی ٹی، فارماسیوٹیکل، الیکٹرک وہیکلز اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی پیداوار کو فروغ دے۔ وزیراعظم کی جانب سے مقامی سرمایہ کاروں کو جوائنٹ وینچرز کے ذریعے الیکٹرک وہیکلز کی تیاری کی ترغیب دینا مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ایک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ دنیا تیزی سے ماحول دوست ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے اور پاکستان کو بھی اس دوڑ میں شامل ہونا ہوگا۔ ایس ایم ای سیکٹر، یعنی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اس شعبے کا کردار انتہائی اہم ہے۔ بدقسمتی سے یہ شعبہ طویل عرصے سے مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور سہولتوں کی کمی کا شکار رہا ہے۔ حکومت اگر واقعی ایس ایم ای سیکٹر کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتی ہے تو اس کے نتائج نہ صرف معاشی ترقی بلکہ غربت میں کمی اور روزگار کے نئے مواقع کی صورت میں بھی سامنے آسکتے ہیں۔ کاروباری برادری کی جانب سے ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن، ای انوائسنگ اور گرے اکانومی کو دستاویزی معیشت میں لانے کی کوششوں کی حمایت بھی قابلِ توجہ ہے۔ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ اب بھی غیر دستاویزی شعبے پر مشتمل ہے، جس کے باعث ٹیکس وصولی کا بوجھ محدود طبقے پر آجاتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور شفاف نظام کے ذریعے نہ صرف ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جاسکتا ہے بلکہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں میں بھی نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (PRAL)کا مرکزی دفتر کراچی منتقل کرنے کی ہدایت بھی ایک اہم فیصلہ ہے۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا تجارتی اور صنعتی مرکز ہے، جہاں قومی معیشت کا بڑا حصہ سرگرم ہے۔ ایسے میں کاروباری معاملات سے متعلق اہم اداروں کی موجودگی تجارتی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اسی طرح گجرات میں پاسپورٹ دفتر قائم کرنے کی ہدایت بھی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور مقامی کاروباری طبقے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم حکومت کے لیے اصل چیلنج اعلانات سے زیادہ ان پر مثر عمل درآمد ہے۔ پاکستان میں ماضی میں بھی کئی اصلاحاتی منصوبے اور معاشی پیکیجز متعارف کرائے گئے، لیکن ان میں سے متعدد مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے۔ اس کی بڑی وجہ پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا، بیوروکریٹک رکاوٹیں اور ادارہ جاتی کمزوریاں تھیں۔ لہٰذا موجودہ حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ جو اقدامات آج تجویز کیے جارہے ہیں وہ محض اعلانات تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے ثمرات عام شہری تک بھی پہنچیں۔ یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ کاروباری برادری نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کے لیی نجی شعبے کا اعتماد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سرمایہ کار اس وقت سرمایہ کاری کرتے ہیں جب انہیں پالیسیوں کے تسلسل، قانونی تحفظ اور معاشی استحکام کا یقین ہو۔ اگر حکومت کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہے۔ پاکستان اس وقت ایک اہم معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ معاشی استحکام کی ابتدائی کامیابیوں کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس کے لیے برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی، ٹیکس اصلاحات ، ڈیجیٹائزیشن، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری سہولتوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ باہمی تعاون کے ساتھ ان اہداف کے حصول کے لیے سنجیدگی سے کام کریں تو پاکستان نہ صرف موجودہ معاشی مشکلات پر قابو پا سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ معیشت کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ملک کو معاشی خودانحصاری، روزگار کے وسیع مواقع اور عوامی خوشحالی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔
شرحِ خواندگی کو سو فیصد پر لایا جائے
پاکستان میں شرحِ خواندگی 61فیصد تک پہنچ جانا ایک مثبت پیش رفت ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کسی حد تک موثر ثابت ہوئے ہیں۔ پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق ملک میں 10سال یا اس سے زائد عمر کے 10کروڑ 41لاکھ افراد خواندہ ہیں، جبکہ مردوں میں شرحِ خواندگی 68 فیصد اور خواتین میں 53فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اگرچہ حوصلہ افزا ہیں، لیکن اس حقیقت سے بھی چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ ملک کی قریباً 39فیصد آبادی اب بھی تعلیم کی بنیادی نعمت سے محروم ہے۔ صوبوں کے درمیان شرحِ خواندگی میں نمایاں تفاوت بھی تشویش کا باعث ہے۔ اسلام آباد 84فیصد شرحِ خواندگی کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ بلوچستان صرف 42فیصد کے ساتھ آخری نمبر پر موجود ہے۔ یہ فرق اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ تعلیمی سہولتوں، وسائل اور مواقع ملک بھر میں یکساں طور پر دستیاب نہیں۔ خاص طور پر دور دراز اور پس ماندہ علاقوں میں تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ ملک میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے دو کروڑ 53لاکھ 70ہزار بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ یعنی 36فیصد بچے تعلیم حاصل نہیں کررہے۔ یہ بچے درحقیقت پاکستان کے مستقبل کا سرمایہ ہیں اور اگر انہیں تعلیم کے مواقع فراہم نہ کیے گئے تو ملک کی ترقی کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ حکومت، نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کو مل کر ایسی جامع حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی جس کے ذریعے ہر بچے تک تعلیم کی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔ نئے اسکولوں کا قیام، اساتذہ کی بھرتی اور تربیت، طالب علموں کے لیے وظائف، لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ اور جدید ڈیجیٹل تعلیمی سہولتوں کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین میں تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے شعور بیدار کرنا بھی ضروری ہے۔ شرحِ خواندگی میں حالیہ اضافہ یقیناً ایک کامیابی ہے، لیکن اصل ہدف سو فیصد خواندگی ہونا چاہیے۔ جب تک ملک کا ہر بچہ اور ہر شہری تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں ہوتا، اُس وقت تک حقیقی ترقی، خوشحالی اور قومی استحکام کا خواب مکمل نہیں ہوسکتا۔ تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو پاکستان کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا کر سکتی ہے۔






