ColumnImtiaz Aasi

گلگت بلستان الیکشن: سیاسی جماعتوں کے تحفظات

گلگت بلستان الیکشن: سیاسی جماعتوں کے تحفظات

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

گلگت بلستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سات جون کو ہو رہے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کی آئینی مدت گزشتہ سال نومبر میں ختم ہو گئی تھی۔ قبل ازیں الیکشن میں پی ٹی آئی سرفہرست تھی جس کے بعد حکومت بھی اسی جماعت کو ملی، لیکن بعد ازاں وفاق کی تقلید کرتے ہوئے گلگت بلستان میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت کو ختم کر دیا گیا۔ مسلم لیگ نون کے سنیئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے گلگت میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی جلسوں کی اجازت ہونی چاہیے، جو اس امر کا غماز ہے برسراقتدار جماعت کے رہنما کی طرف سے یہ کہنا تمام جماعتوں کو جلسوں کی اجازت ہونی چاہیے۔ گلگت بلستان میں سب اچھا نہیں ہے، بلکہ فارم 47کی تاریخ کو دوہرائی جائے گی۔ مجھے لگتا ہے ذمہ داروں نے سانحہ مشرقی پاکستان سے سبق نہیں سیکھا ہے۔ عجیب تماشہ ہے وفاق میں عوام نے جنہیں ووٹ نہیں دیا انہی کو اقتدار مل گیا، عوام منہ تکتے رہ گئے۔ اگرچہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے کوئی جماعت اقتدار میں لائی جا سکتی ہے، تاہم عوام کے دلوں سے کسی سیاسی رہنما اور اس کی جماعت کو ہرگز نہیں نکالا جا سکتا۔ ملک و قوم کی بدقسمتی دیکھئے 1970ء کے انتخابات کے بعد کوئی الیکشن ایسا نہیں، جس پر سیاسی جماعتوں کو تحفظات نہ ہوئے ہوں۔ آخر کیوں اگر ہم جمہوریت کے دعویٰ دار ہیں تو ہمیں عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنا ہوگا، اگر اسی طرح سلسلہ جاری رہا تو شائد ایک وقت آئے جب ہمیں پچھتاوا ہوگا، لیکن اس وقت پانی سر سے گزر چکا ہوگا، لہذا اس وقت سے ہمیں گریز کرنا چاہیے۔ عوام جن امیدواروں کو ووٹ دیں انہی کو ایوانوں میں ہونا چاہیے۔ آپ دیکھ لیں بلوچستان کے عوام کو یہی تو شکوہ ہے وہ جن جن امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں ان کی بجائے کوئی اور اقتدار میں آجاتا ہے، جس سے عوام کی بے چینی میں اضافہ قدرتی امر ہے۔ یہ بات درست ہے وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کو انتخابی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے تھی، انہیں گلگت بلستان کا سفر نہیں اختیار کرنا چاہیے تھا۔ جہاں تک اسد قیصر اور جیند اکبر کی بات ہے انہیں جلسوں سے خطاب کی اجازت ہونی چاہیے تھی۔ سوال ہے جب دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما جی بی میں جا کر جلسوں سے خطاب کر سکتے ہیں تو پی ٹی آئی رہنمائوں کے خطاب پر قدغن کیسی؟۔ سوشل میڈیا پر گلگت بلستان قانون ساز اسمبلی کے سابق رکن نواز خان ناجی شکوہ کر رہے تھے کہ یوتھ کو انتخابی عمل سے نکال دیا گیا ہے، جبکہ انتخابی حلقوں سے ووٹرز کو ادھر ادھر کر دیا گیا ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ گلگت بلستان کو بلوچستان نہ بنایا جائے بلکہ یہاں کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے ملک کے سیاست دانوں کی اکثریت راست باز نہیں انہیں اقتدار کی ہوس چین سے نہیں رہنے دیتی۔ یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان کئی موقعوں پر اس بات کا اظہار کر چکے ہیں انہیں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کو سابق آرمی چیف جنرل آصف باجوہ نے بلا کر عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کو کہا تھا۔ اب یہ بات کھلا راز ہے انتخابی عمل اور اقتدار کے بندر بانٹ میں طاقتور حلقوں کو پورا عمل دخل ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے بے نظیر حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کے لئے ایک سابق آرمی چیف نے ایم کیو ایم کی خدمات حاصل کرنے کے باوجود بے نظیر حکومت کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ گلگت بلستان کے الیکشن میں زیادہ تر تعداد آزاد امیدواروں کی ہے۔ ایک مذہبی حلقے کا خاصا اثر و رسوخ ہے جس کے باعث یہ کہنا غلط نہیں ہوگا وہ حلقے جن جن امیدواروں کو ووٹ دیں گے ان کی کامیابی یقینی ہے۔ تعجب ہے سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی پوسٹر پر تصویر چھپانے پر ان کی والدہ کو الیکشن کمیشن نے نوٹس بھیجا ہے جب کہ اس کے برعکس وفاق وزراء جا کر جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں تو کیا یہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے جی بی میں پی ٹی آئی کا ووٹ بنک ابھی تک موجود ہے شائد انہی خدشات کے پیش نظر وفاقی وزراء گلگت بلستان میں انتخابی جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ ہمیں ملک کے داخلی حالات کو ہر صورت میں بہتر رکھنے کی ضرورت ہے۔ کے پی کے اور خاص طور پر بلوچستان میں دہشت گردی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ بھارت اور افغانستان پاکستان کے خلاف کوئی موقع خالی نہیں جانے دیتے ہیں لہذا ایسے حالات میں داخلی صورت حال کا اچھا ہونا بہت ضروری ہے۔ وفاق سے وزراء کا جا کر خطاب اس بات کی واضح دلیل ہے وفاقی حکومت کو اپنی جماعت کی کامیابی کی بالکل امید نہیں ہے۔ درحقیقت وقتی طور پر آپ کسی کو دبائو میں لا سکتے ہیں لیکن کسی کے دل کو موڑنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ ملک میں داخلی امن و امان کی بہتری اسی صورت میں ممکن ہے جب وہاں کے عوام کو اپنے اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے کا پورا حق دیا جائے۔ اگر فارم 47کو بروئے کار لا کر انتخابات کو ڈھونگ رچانا مقصود ہے تو پھر چلنے دیں اور نتائج کا انتظار کریں۔ اگر ہم چند ماہ قبل کے واقعات کی طرف دیکھیں تو ہمیں سمجھ آجانی چاہیے عوام کو ان کے حق بالغ رائے دہی سے محروم کرنے کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔ اب جیسا کے کے پی کے میں وزیراعلیٰ کے خلاف ایک گروپ کھڑا کر دیا گیا ہے، جو وزیراعلیٰ کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے لئے سرگرم ہے۔ آج اگر پی ٹی آئی کا بانی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے تو اس کی تمام جدوجہد کا مقصد غلامی سے آزادی ہے۔ جب تک ملک کے عوام کو آزادی سے اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے کا حق نہیں دیا جاتا، ہمارے حالات کبھی درست نہیں ہوں گے۔ گلگت بلستان کے چیف الیکشن کمشنر کو سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو ہر صورت میں دور کرنے کی ضرورت ہے ورنہ عوام انتخابی نتائج کو قبول نہیں کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button