
الیکشن کمیشن آف پاکستان
پریس ریلیز
مورخہ 13 مئی 2026
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے اجلاس۔
آج الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر جناب سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں معزز اراکین الیکشن کمیشن کے علاوہ سیکرٹری الیکشن کمیشن ، سیکرٹری وزارت داخلہ ، چیف کمشنر اسلام آباد ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد و دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ یہ اجلاس وفاقی دارالخلافہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے طلب کیا گیا ۔ افتتاحی کلمات میں چیف الیکشن کمشنر نے بلدیاتی حکومتوں کے قیام کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ خیبر پختونخوا ، سندھ اور بلوچستان میں مقامی حکومتیں موجود ہیں جبکہ پنجاب اور اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کی کوششوں کے باوجود بلدیاتی قوانین میں تبدیلی کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔ جبکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 140(A) کے تحت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک آئینی تقاضا ہے۔ اجلاس کے دوران کمیشن کو بریف کیا گیا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی اداروں کی معیاد 14فروری 2021 کو ختم ہوئی اورتاحال الیکشن منعقد نہیں ہوسکے۔ الیکشن کمیشن کو مزید بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے 10 جنوری 2026 کوآرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں ترامیم کیں اور ان ترامیم کے تحت الیکشن کروانے کے لئے الیکشن کمیشن کو ٹاون کارپوریشنز کی حدود کا نوٹیفکیشن ، ہرٹاون کارپوریشن میں یونین کونسلوں کی تعداد کا نوٹیفکیشن ، ٹاون کارپوریشنز کی حدود کے مطابق نقشہ جات ، آرڈیننس کے مطابق رولز اورالیکشن کمیشن کی طرف سے آرڈیننس میں تجویزکردہ ترامیم درکار ہیں۔ متعدد بارمتعلقہ اداروں کی طرف سےیہ یقین دہانی کروائی گئی کہ الیکشن کمیشن کو درکارنوٹیفکیشنز اور نقشہ جات ودیگر ڈیٹامہیا کردیا جائےگا۔ لیکن تاحال ایسا نہیں کیا گیا۔
سیکرٹری وزارت داخلہ نے الیکشن کمیشن کو ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کروائی جب کہ چیف کمشنر اسلام آباد نے الیکشن کمیشن کو بریف کیا کہ ٹاون کارپوریشنز کی حدود اور ہر ٹاون میں یونین کونسلوں کی تعداد کا مجوزہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا کیس وزارت داخلہ کو بھجوا دیا گیا ہے۔ جوکہ متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجا جائےگا جس کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔
الیکشن کمیشن نےسیکرٹری وزارت داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آبادکو ہدایت کی کہ متعلقہ سٹینڈ نگ کمیٹی اور وفاقی کابینہ سے فوری طور پر رجوع کرکے مذکورہ بالا نوٹیفکیشنز کے اجراء کو یقینی بنایا جائے ۔ اگر اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو اس کیس کو الیکشن کمیشن میں سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا۔
اور اگر ضرورت ہوئی تو یہ معاملہ مناسب لیول پر وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اورمزید یہ کہ فوری طور پر الیکشن کمیشن کو درکار ڈیٹا ، نوٹیفکیشن ، نقشہ جات ، قانون ورولز میں ترامیم مہیا کی جائیں۔ تاکہ الیکشن کمیشن حلقہ بندی کا شیڈول جاری کرسکے اور وفاقی دارالخلافہ میں الیکشن کا انعقاد ممکن ہوسکے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس میٹنگ میں سینئر لیول افسران کی نمائندگی ہے لہذا الیکشن کمیشن توقع کرتا ہے کہ مذکورہ بالا معاملات خوش اسلوبی سے حل کرلیئے جائیں گے۔
ترجمان الیکشن کمیشن





