
جگائے گا کون؟
لکی مروت دھماکا۔ ہائبرڈ وار؟
تحریر: سی ایم رضوان
افسوس صد افسوس کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ کے ایک پر ہجوم بازار میں گزشتہ روز ایک بم دھماکا ہوا۔ یہ ایک آئی ای ڈی دھماکہ تھا جس میں موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے پولیس کی موبائل گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ سات افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے، جن میں 2ٹریفک پولیس اہلکار اور 5عام شہری شامل ہیں۔ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں میں بچے اور دکاندار بھی شامل۔ ریسکیو 1122کے مطابق اطلاع ملتے ہی ایمبولینسز اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ ضلع بھر کے حساس مقامات پر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ اس دہشت گردی کو وزیر اعظم شہباز شریف نی بزدلانہ کارروائی قرار دیا، شہید اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعا اور غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف قوم اور سکیورٹی فورسز کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست اپنی رٹ برقرار رکھنے کے لئے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھے گی۔ انہوں نے سکیورٹی اداروں سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی تاکہ تمام ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور دیگر حکام نے اس بزدلانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں اضافے کے پیچھے کئی پیچیدہ سیاسی، جغرافیائی اور تزویراتی عوامل کار فرما ہیں۔ ماہرین کے تبصروں، سکیورٹی رپورٹس کی روشنی میں اس کی پہلی بڑی وجہ افغانستان میں طالبان کی حکومت اور ٹی ٹی پی پے۔ اگست 2021ء میں افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پہلے روز سے ہی پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے جنگجوں کو افغانستان میں محفوظ ٹھکانے میسر ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ افغان طالبان کی کامیابی نے خطے میں سرگرم دیگر شدت پسند گروہوں کو یہ تاثر دے رکھا ہے کہ وہ بھی عسکری طاقت کے ذریعے اپنی مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد وہاں بڑی مقدار میں جدید امریکی اسلحہ، نائٹ ویعن چشمے اور تھرمل گنز باقی رہ گئیں۔ یہ جدید ہتھیار ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کے ہاتھ لگ گئے ہیں، جس کی وجہ سے وہ رات کے اندھیرے میں سکیورٹی فورسز کو زیادہ مثر طریقے سے نشانہ بنانے کے قابل ہو گئے ہیں۔
اگرچہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام ایک انتظامی ضرورت تھی، لیکن بعض مقامی گروہ اور عسکریت پسند اس تبدیلی کو اپنی’’ خود مختاری‘‘ پر ضرب سمجھتے ہیں۔ انضمام کے بعد پولیس اور سکیورٹی ڈھانچے کی منتقلی کے دوران پیدا ہونے والے خلا کا فائدہ دہشت گرد گروہوں نے اٹھایا۔ بعض علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی سست روی اور مقامی لوگوں کے مطالبات پورے نہ ہونے سے پیدا ہونے والی مایوسی کو بھی شدت پسند اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ صوبے کے سرحدی اضلاع میں معاشی مواقع کی کمی بھی نوجوانوں کو عسکریت پسند گروہوں کے ہتھے چڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ملک میں حالیہ برسوں کے سیاسی ہیجان کا فائدہ بھی ان ملک دشمن عناصر نے اٹھایا اور وہ منظم ہو گئے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حالیہ عرصے میں دیکھا گیا ہے کہ مختلف شدت پسند گروہوں اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے درمیان بھی بعض سطحوں پر بیڈ ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہوئی ہے، جس سے حملوں کی شدت اور دائرہ کار میں اضافہ ہوا ہے۔ ان سب عوامل کے خاتمے کے لئے ہماری سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف بے شمار کامیاب آپریشنز کیے ہیں، لیکن اب دہشت گردوں نے اپنی حکمتِ عملی بدل لی ہے۔ وہ بڑے منظم حملوں کے بجائے ’’ ہٹ اینڈ رن‘‘ ( مارو اور بھاگ جائو) اور آئی ای ڈی دھماکوں کا سہارا لے رہے ہیں، جن کا مقابلہ کرنا روایتی جنگ سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا حالیہ عروج سرحد پار سے ملنے والی معاونت، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور ملک کے اندرونی سیاسی و معاشی حالات کا ایک مجموعہ ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے جہاں عسکری طاقت ضروری ہے، وہاں افغان حکومت کے ساتھ سفارتی مذاکرات اور مقامی آبادی کا اعتماد بحال کرنا بھی ناگزیر ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب بھی پاکستان خطے میں کسی بڑے سفارتی مشن ( جیسے ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ ثالثی) پر نکلتا ہے، تو اکثر ملک کے اندر دہشت گردی کی لہر میں تیزی دیکھی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے ایک سوچی سمجھی اسٹریٹجک پراکسی کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اس وقت عالمی سطح پر ایک ’’ امن کار‘‘ کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس تاثر کو گدلا کرنے کے لئے دہشت گردی کے ذریعے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جو ملک خود اپنے اندرونی امن کو برقرار نہیں رکھ سکتا، وہ دو بڑی طاقتوں کے درمیان کیا ثالثی کرے گا۔ ایران، امریکہ کشیدگی میں کچھ علاقائی اور عالمی قوتیں ایسی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ یہ معاملہ سفارت کاری سے حل ہو۔ پاکستان پر اندرونی دبائو بڑھا کر اسے اس اہم سفارتی محاذ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اس وقت بیرونی سرمایہ کاری ( خصوصاً سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے) کی امید لگائے بیٹھا ہے۔ دہشت گردی کا ایک مذموم مقصد یہ پیغام بھی دینا ہے کہ یہاں سرمایہ کاری محفوظ نہیں، سرحد پار بیٹھے عناصر ( ٹی ٹی پی اور دیگر) کو ایسے وقت میں متحرک کرنا جب پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بیلنس کر رہا ہو، ایک کلاسک ہائبرڈ وار فیئر کی علامت ہے۔
ممکنہ طور پر اس نئے ڈیزائن کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کو کثیر الجہتی حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ دہشت گردوں کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور ان کے مالی ذرائع کو نشانہ بنانا ہو گا۔ لکی مروت جیسے واقعات کی روک تھام کے لئے انسانی انٹیلی جنس کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانا ہو گا۔ عوام میں اس شعور کو اجاگر کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ حملے صرف امن کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی وقار کے خلاف ہیں۔ پروپیگنڈا کا جواب فوری اور مستند معلومات سے دینا ہوگا۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ کابل ( افغان طالبان) پر دبائو بڑھائے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ ساتھ ہی، عالمی سطح پر ان قوتوں کو بے نقاب کرے جو پاکستان میں بدامنی پھیلا کر خطے کے امن کو دائو پر لگا رہی ہیں۔ پاک افغان سرحد پر باڑ کی حفاظت اور نگرانی کے نظام کو بھی مزید سخت کرنا ہو گا۔ خصوصاً جدید تھرمل اور ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے تاکہ دراندازی کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔ ساتھ ہی پاکستان کی سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ کم از کم دہشت گردی اور خارجہ پالیسی کے محاذ پر ایک پیج پر نظر آئے۔ جب ریاست اندرونی طور پر بٹی ہوئی نظر آتی ہے، تو بیرونی عناصر کو اس نوعیت کے ہائبرڈ ’’ ڈیزائن‘‘ مکمل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات دراصل پاکستان کو ایک محدود ’’ سیکیورٹی ریاست ‘‘ بنائے رکھنے کی کوشش ہیں تاکہ وہ ایک ’’ اقتصادی اور سفارتی قوت‘‘ نہ بن سکے۔ اس کا تدارک صرف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے اور غیر متزلزل سفارت کاری میں ہی مضمر ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں کوئی بھی ملک اپنی خارجہ پالیسی اور اندرونی سکیورٹی کو الگ الگ خانوں میں رکھ کر نہیں چلا سکتا، کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ اگر پاکستان ایران، امریکہ کشیدگی کم کرانے میں کامیاب ہوتا ہے، تو اس کے براہ راست فوائد ہماری اندرونی سکیورٹی کو ہی پہنچیں گے: جبکہ ایران، امریکہ جنگ کی صورت میں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بدامنی بڑھے گی اور مہاجرین کا سیلاب آ سکتا ہے، جو ہماری سکیورٹی کے لئے مزید بوجھ بنے گا۔ امن رہے گا تو پاک ایران گیس پائپ لائن اور سی پیک جیسے منصوبے محفوظ رہیں گے۔ ایک کامیاب ثالث کے طور پر ابھرنے سے پاکستان کا عالمی سطح پر امیج بہتر ہو گا، جو آئی ایم ایف، دیگر مالیاتی اداروں سے ڈیل کرتے وقت سیاسی برتری دے سکتا ہے۔ ایک اور سیدھی منطق ہے کہ ثالثی کی کوششیں تبھی موثر ہوتی ہیں جب آپ کا اپنا گھر منظم ہو۔ اگر پاکستان اندرونی طور پر دہشت گردی کا شکار رہا، تو عالمی برادری ہماری بات کو وہ اہمیت نہیں دے گی جو ایک مستحکم ملک کی بات کو دی جاتی ہے۔ ان حالات میں سکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنا کر یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ریاست پاکستان کمزور نہیں ہوئی۔ پاکستان کو اندرونی صفائی اور بیرونی رسائی کے فارمولے پر عمل کرنا چاہیے۔ موجودہ ثالثی کی کوششیں بند نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ یہ پاکستان کی ’’ سافٹ پاور‘‘ بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ کام وزارتِ خارجہ کا ہے اور اسے اپنی پوری توانائی سے جاری رکھنا چاہیے۔ سکیورٹی اداروں کو تمام تر وسائل دہشت گردی کے خاتمے پر لگانے چاہئیں۔ لکی مروت یا اس سے پہلے ہونے والے دیگر مقامات پر دہشت گردانہ حملوں کا تدارک صرف انٹیلی جنس کی مضبوطی سے ممکن ہے۔ دنیا کو یہ پیغام دینا بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات دراصل ہمارے عالمی کردار کو روکنے کی ایک کوشش ہیں، اور ہم اس دبائو میں نہیں آئیں گے۔ پاک فوج اور انٹیلی جنس ادارے اندرونی سکیورٹی کو فول پروف بنائیں، اگر ہم نے صرف اندرونی سیکیورٹی کی وجہ سے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کی، تو ہم تنہائی کا شکار ہو جائیں گے جو کہ دہشت گردوں کا اصل مقصد ہے۔





